29 ستمبر 2013 - 20:30
"ہم کہاں اور ایران کہاں"

ایران دنیا کے سب سے بڑی اور طاقتور ملک کا حریف بننا چاہتا ہے جبکہ خلیج فارس کی عرب ریاستیں سر در گریباں ہیں اور دنیا میں ان کی سرگرمیاں بہت محدود ہیں"۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق کویتی اخبار "الجریدہ" نے دنیا اور خطے میں ایران کی زبردست انٹیلجلس اور سیاسی طاقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایران کے قومی مفادات کی خاطر ایرانی حکام کے فعال کردار کا جائزہ لیا ہے۔ اخبار الجریدہ میں حسن العیسی نے اپنے مضمون بعنوان "ہم کہاں اور ایران کہاں؟" میں لکھا: ایرانی صدر نے اوباما سے کہا: "Have a nice day" اور اوباما نے کہا "خداحافظ"، اور خلیج فارس کی عرب ریاستوں کو یہی سن کر فکرمند اور پریشان ہونا چاہئے۔ یہ باتیں روحانی کے ساتھ امریکی صدر کے ٹیلی فونک گفتگو میں کہے گئے جو مستقبل میں ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی بحالی کی علامت ہوسکتے ہیں؛ چنانچہ عرب ریاستیں پریشان ہیں کیونکہ ان کے خیال میں اب خلیج فارس کے مفادات کا امریکہ جیسا نگہبان ان سے منہ موڑے گا اور شام کے مسائل میں عرب ریاستوں کی ترجیحات اور مخالف مسلح گروہوں کی کامیابی کی ضرورت کے اہمیت نہيں دے گا البتہ شام پر فوجی حملے سے امریکہ کی پسپائی کے وقت بھی امریکی پالیسی میں یہ بات نمایاں تھی۔  دوسری طرف سے شام، عراق اور لبنان میں جنگوں اور فتنوں اور علاقے کے فرقہ پرست ممالک کی نسبت امریکہ کی ممکنہ غیرجانبداری بھی خلیج فارس کی عرب ریاستوں کے حکمرانوں کے لئے تشویش کا سبب بنی ہوئی ہے۔  البتہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ ایران اور امریکہ کے تعلقات میں بنے ہوئے برف کے پہاڑ عنقریب پگھل سکتے ہیں کیونکہ بیچ میں اسرائیلی ریاست ہے جو ایران کے لئے سب سے اہم مسئلہ ہے اور ایران بھی اسرائیل کے لئے صرف اس کے جوہری مسئلے کی وجہ سے نہيں ہے بلکہ ایران اس لئے بھی اہم ہے کہ حزب اللہ اور حماس سمیت علاقے میں اسلامی مزاحمت کی تنظیموں کا حامی ہے۔ ایران اور امریکہ کے تعلقات میں دوسری رکاوٹیں بھی ہیں اور ان ممالک کے مفادات ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ ایرانی سابق امریکی صدر روزولٹ کو ایسے فرد کی حیثیت سے جانتے ہیں جس نے اپنے خونی پنجے ملت ایران کے قلب میں گاڑھ لئے ہيں اور ایران میں شہنشاہی نظام کی بنیاد رکھی ہے۔ جنرل سلیمانی کی داستان ـ جنہیں رہبر انقلاب شہید زندہ کا نام دیتے ہیں ـ بھی ایک خیال پردازانہ داستان سے کہیں بالاتر ہے۔ البتہ اس موضوع کو امریکی اخبار نیویارکر نے بھی ایک طویل مضمون کا موضوع قرار دیا ہے جس کو "قیادت کا سایہ" کے عنوان سے شائع کیا گیا ہے۔ یہ سایہ یعنی قاسم سلیمانی ایرانی کھیتیوں کے فرزند ہیں جو شاہ کے زمانے میں غربت اور افلاس میں زندگی بسر کررہے تھے؛ اور اسلامی انقلاب کے بعد انھوں نے تیزرفتاری سے نشوونما کے مراحل طے کئے اور انھوں نے جنگ کے دوران بے شمار بسیجی فورسز کو بھرتی کرکے عراق کی بعث حکومت کے خلاف محاذ جنگ روانہ کیا۔ وہ ایسے مرد ہیں جنہوں نے بعض لوگوں کے بقول 1982 میں بیروت میں امریکی میرینز کے خلاف حزب اللہ کے حملے کی منصوبہ بندی کی تھی اور پوری قوت کے ساتھ ڈٹ گئے حتی کہ حزب اللہ کی تشکیل عمل میں آ‏ئی۔ البتہ ان کا کردار صرف امریکیوں یہ امریکی مفادات کو نشانہ بنانے تک محدود نہیں ہے بلکہ بعذ اوقات انھوں نے امریکیوں کے ساتھ تعاون بھی کیا۔ حسن العیسی نے اپنے مضمون میں دعوی کیا ہے کہ کہ 11 ستمبر کے واقعے کے بعد ـ جب طالبان پر حملے کے سلسلے میں ایران اور امریکہ کے مفادات مشترک ہوگئے تھے، ایران نے طالبان فورسز کا نقشہ امریکیوں کے حوالے کیا۔ حسن العیسی نس لکھا ہے کہ لبنان میں بھی ان کے خفیہ کردار کے بارے ميں قیاس آرائیاں جاری رہتی ہیں۔ قاسم سلیمانی وہی شخص ہیں جنہوں نے عراق پر امریکی حملے کے بعد اس ملک میں شیعہ اتحاد قائم کیا اور امریکہ کے لئے عرصہ حیات تنگ کردیا جس کے بعد (العیسی کے بقول) نوری المالکی عراقی وزیر اعظم کے طور پر مسلط کئے گئے! کیونکہ امریکیوں نے اپنے دوست ایاد علاوی کے ساتھ غداری کی۔ نیز قاسم سلیمانی وہی ہیں جنہوں نے اپنی فورسز حزب اللہ کی فورسز کے ہمراہ شام کے شہر القصیر میں بھجوادیں تاکہ وہ وہاں مسلح گروپوں کے خلاف لڑیں اور اس اہم اور سوق الجیشی شہر پر کنٹرول حاصل کیا اور مسلح گروپوں کی امداد کے راستوں کو بند کردیا۔ البتہ خفیہ معلوماتی سرگرمیوں کے حوالے سے قاسم سلیمانی کی ذہانت کی مثالیں بہت زیادہ ہیں جنہیں اس مضمون میں نقل کرنا ممکن نہيں ہے۔ وہ یہ سرگرمیاں انجام دیتے ہیں تا کہ ایران اور اپنی قوم کے مفادات کا تحفظ کریں لیکن جو کچھ اس وقت اہم ہے وہ یہ ہے کہ ہمیں جان لینا چاہئے کہ ایران نے اپنی انٹیلجنس ایجنسیوں میں سینکڑوں سلیمانیوں کو پرورش دی ہے جو اس ملک کے تزویری مفادات کا تحفظ کرتے ہیں اور شدید معاشی پابندیوں کے باوجود ایرانی حکام سیاسی میدان میں بہت زيادہ ہوشیار اور ہوشمند ہیں۔ وہ انیسویں صدی عیسوی کے آخر میں برسراقتدار رہنے والے برطانوی وزیر اعظم کی "سیاسی حکمت" کو بروئے کار لائے ہوئے ہیں جس کا کہنا تھا: "دوست اور دشمن ابدی نہیں ہیں بلکہ مفادات دائمی ہیں"۔ چنانچہ ایران کی کوشش ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے اور طاقتور ملک کا حریف ہو جبکہ ہم خلیج فارس کے عرب حکام کو دیکھ رہے ہيں جو سردرگریبان، عرب دنیا کے اندر محدود فعالیت کررہے ہیں اور ان فعالیتوں کے لئے مناسب بچے کو گہوارے میں بٹھا چکے ہیں اور اس کو پرورش نہیں دی ہے اور وہ نشوونما نہیں پاسکا ہے اور ان کی خفیہ ایجنسیوں کی زيرکی ایسے خاص خاص افراد تک محدود ہے جن کی سرگرمیاں ٹویٹر کے دائرے سے باہر نہیں ہیں اور اپنے آپ کو فیس بک میں چھوڑ کر بھول آئے ہیں۔ ۔۔۔۔ پس ہم کہاں اور وہ کہاں؟ ........................./*.*