22 ستمبر 2013 - 20:30
اور اب عیسائی برادری

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخواہ کے شہر پیشاورکےچرچ میں ہونےوالا دھشتگردانہ حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشتگردگروہ پاکستان میں دہشتگردی کی لہر کو پھیلانا اور فرقہ وارانہ جنگ کرانا چاہتے ہیں۔

ابنا: سینٹ جارج شہر کےقدیمی چرچ میں ہونے والے اس حملے میں کم سے کم اکاسی افراد ہلاک ہوئے ہيں جس میں عورتیں اوربچے بھی شامل ہيں۔ اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان کی ذیلی تنظیم جندالحفصہ نےقبول کی ہے۔سیاسی ماہرین کی نگاہ میں جارج سینٹ چرچ پرحملہ ایسے عالم میں ہوا ہے جب پاکستان کی وفاقی حکومت ، کل جماعتی اجلاس بلا کر طالبان سے قومی مذاکرات کی تیاری کررہی تھی۔ اورسیاسی پارٹیوں کےرہنما بھی طالبان سےمذاکرات کےلئے تیار ہوگئے تھے لیکن تجزیہ نگاروں کاخیال ہے کہ طالبان نے کچہ اعلی فوجی حکام کوقتل کرکےیہ واضح کردیا کہ انھیں مذاکرات سےکوئي دلچسپی نہيں ہے۔ اس تناظر میں یہ کہاجاسکتا ہے کہ تحریک طالبان کا سینٹ جارج چرچ پر حملہ نہ صرف مذاکرات کی ماحول کوخراب کرنا ہے بلکہ پاکستان میں خانہ جنگی اورفرقہ وارانہ جنگ شروع کرانا ہے ۔ دہشتگردانہ واقعات میں عام طور پرپاکستان کے شیعہ مسلمانوں کونشانہ بنایاجاتا ہے اورعیسائیوں پر کم ہی حملے ہوتے ہیں بنا برایں یہ دہشتگرد اس کوشش میں ہیں کہ دینی اقلیتوں پرحملے کرکے پاکستانی حکومت کےلئے مزید مسائل کھڑے کریں کیونکہ عیسائیوں کےلئے بدامنی مغربی ممالک اورکلیساؤں کےردعمل کاباعث ہوگی جس سےنوازشریف حکومت کےلئے مسائل کھڑے ہوں گے ۔پاکستان کےمختلف حلقوں نے پیشاورمیں چرچ پرحملے کی مذمت کرتے ہوئے طالبان کےاس جواز کومسترد کردیا ہے کہ یہ حملے امریکہ کےڈرون طیاروں کی بمباری پرردعمل ہيں جبکہ دونوں حملوں میں عام شہری مارے جارہے ہيں اور پاکستان میں رہنے والی اقلیتیں بھی پاکستانی شہری ہیں اور ان پرحملہ دہشتگردی ہے بنابرایں پاکستانی عوام کی نظرمیں کسی بھی بہانے سے عوام پرحملے کرنےوالوں کےپاس کوئی جواز نہيں ہے چاہے وہ طالبان ہو ں یا پاکستان کےاقتداراعلی اور خودمختاری کو پامال کرنےوالے امریکی۔ بعض تجزيہ نگار اور سیاستدانوں کا یہ بھی خیال ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کا ایک سبب عدالتوں کی جانب سے مختلف اسباب کی بنا پردہشتگردوں کو سخت سزا نہ دیا جانا بھی ہے ۔ اور اکثر دہشتگرد مختلف بہانوں سے یاعدالتوں سے بری ہوجاتے ہيں یا جیل سےفرار ہونے میں کامیاب ہوجاتے ہيں چنانچہ پاکستان کے سابق وفاقی وزيرداخلہ رحمان ملک نے پیشاور چرچ پر حملے کو بدنام زمانہ دہشتگرد ملا برادر کی رہائی کوقرار دیا ہے۔ رحمان ملک نے کہا کہ چرچ پر حملہ ملا برادر کوچھوڑنے کاتحفہ ہے اور اب لشکرجھنگوی سےمقابلے کاوقت آگیا ہے۔ چرچ پر ہونےوالے حملے کےبعد پیشاور، اسلام آباد ، راولپنڈی، لاہور، کراچی ، اورکوئٹہ سمیت پاکستان کےمختلف علاقوں میں زبردست مظاہرے ہوئے جس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے ان مظاہروں سےپتہ چلتا ہےکہ پاکستان کی صوبائی حکومتوں اور فیڈرل حکومتوں پر عوام کی سیکورٹی کےحوالے سےسخت ذمہ داری عائدہوتی ہے اورعدالتوں کو بھی دہشتگردوں کےخلاف سنجیدہ کاروائی کرکے دہشتگردی سےنمٹنے میں نوازشریف حکومت کی مددکرناچاہئے۔ .......

/169