ابنا: موصولہ رپورٹوں کے مطابق حکومت پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی پیش کش پر طالبان نے مشروط رضامندی کا اظہارکرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مذاکرات سے پہلے، قبائلی علاقوں سے فوج واپس بلائی جائے اور طالبان کے تمام قیدی رہا کیے جائیں۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے طالبان کے دونوں مطالبات ماننے سے انکار کرتے ہوئے جواب دیا ہےکہ مذاکرات کے عمل کو مشروط نہیں کیا، نہ ہی کسی اور کو مشروط کرنے دیں گے۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی رٹ پر کسی کو اثر انداز نہ ہونے دیں گے۔ ادھرتحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی کہا ہے کہ اپر دیر سانحہ سے طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچاہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے سانحہ اپر دیر کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے سے آل پارٹیز کانفرنس کو نقصان پہنچا ہے اور اس سے اے پی سی کے نتائج متاثر ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے دشمن چاہتے ہیں کہ پاکستان میں امن قائم نہ ہو اور پاک فوج قبائلی علاقوں میں پھنسی رہے۔......./169
16 ستمبر 2013 - 19:30
News ID: 463829
پاکستان کی حکومت اور طالبان کے مابین مذاکرات کرنے کی باتیں وقت سے پہلے ہی دم توڑنے لگیں۔