

مشربہ ام ابراہیم در حقیقت مدینہ کا ایک چھوٹا سے باغ کا نام ہے جو قبا کے مشرق اور بنی قریظہ کے علاقے کے شمال میں واقع العوالی میں واقع ہوا تھا۔ رسول اللہ کے بیٹے ابراہیم (ع) کی والدہ ماجدہ ام المؤمنین حضرت ماریہ قبطیہ (س) کا گھر بھی یہیں تھا اور ابراہیم بن رسول اللہ (ص) یہیں متولد ہوئے تھے اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم طویل مدت تک یہیں قیام پذیر رہے اور بہت زیادہ نمازیں پڑھ لیں۔ مشہور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے وہاں پانی کے مٹکے رکھے تھے جن سے لوگ پانی پیا کرتے تھے۔ اسی وجہ سے اس مقام کو مشربہ کہا گیا ہے اور اس کو مشربہ ام ابراہیم کہا گیا ہے کیونکہ ام ابراہیم ام المؤمنین ماریہ قبطیہ کی کنیت ہے۔ اسی مقام پر امام صادق علیہ السلام کی زوجہ مطہرہ اور امام رضا علیہ السلام کی دادی حضرت حمیدہ خاتون (س)، امام موسی کاظم علیہ السلام کی زوجہ مطہرہ اور امام رضا علیہ السلام کی والدہ ماجدہ حضرت نجمہ خاتون (س) بھی یہيں مدفون ہیں اور امام صادق علیہ السلام نے اس مقام کی زيادت کی سفارش فرمائی ہے ۔
روایت میں ہے کہ عقبہ بن خالد نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا: ہم مدینہ کے اطراف میں واقع مساجد کی زیارت کرتے ہیں کونسی مسجد سے شروع کریں تو بہتر ہوگا؟"۔
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
امام صادق(ع) فرمود: «اِبْدَأْ بِقُبَا فَصَلِّ فِیهِ وَأَکْثِرْ فَإِنَّهُ أَوَّلُ مَسْجِد صَلَّی فِیهِ رَسُولُ اللَّهِ(ص) فِی هَذِهِ الْعَرْصَةِ ثُمَّ إئْتِ مَشْرَبَةَ أُمِّ إِبْرَاهِیمَ فَصَلِّ فِیهَا وَهِیَ مَسْکَنُ رَسُولِ اللَّهِ (ص) وَمُصَلاَّهُ"۔ (کافی 4/560)
ترجمہ: مسجد قبا سے آغاز کرو اور وہاں زيادہ نماز پڑھو کیونکہ یہ اس علاقے کی پہلی مسجد ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نماز پڑھی۔ اس کے بعد مشربۂ ام ابراہیم چلے جاؤ اور وہاں نماز پڑھو کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا مسکن اور مصلّی' (نماز پڑھنے کا مقام) ہے۔

اب اس زمانے میں اس مقام کی صورت حال رسول اللہ اور آل رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ ہونے والے نہایت وہابیانہ طرز سلوک کی گواہی دیتی ہے۔ آل سعود نے اس مقدس مقام کے دروازے کو مقفل کردیا ہے لیکن وہ شاید نہیں جانتے کہ زائرین رسول اور آل رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے عاشقوں کے عشق کو تالوں سے ختم نہیں کیا جاسکتا؛ یہ وہابیانہ اقدام رسول و آل رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے لوگوں کی محبت میں اضافہ کر دیتا ہے اور حتی کہ وہ لوگ بھی جو اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو نہیں جانتے، جب دیکھتے ہیں کہ ایک مقدس مقام پر تالے لگے ہوئے ہیں تو وہ بھی سوچ میں پڑجاتے ہیں اور جب سمجھ لیتے ہیں اس مقام کا تعلق کن سے ہے وہ بھی اہل بیت علیہم السلام کے عاشق ہوجاتے ہیں۔
روایات کے مطابق حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام اور حضرت سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا پہلا گھر یہی تھا اور ان دو عظیم ہستیوں نے بھی اپنی معنوی اور خیر و برکت سے بھرپور زندگی یہيں سے شروع کی تھی۔ تا ہم مشربہ ام ابراہیم میں دوسرے تاریخی واقعات بھی رونما ہوئے ہیں۔ ساتویں امام اور نویں معصوم حضرت امام موسی الکاظم علیہ السلام کی ولادت یہیں ہوئی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ مقام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے وصال کے بعد اہل بیت علیہم السلام کے پاس رہا اور یہ خود اس جعلی حدیث کی نفی بھی ہے کہ "ہم انبیاء ترکہ نہیں چھوڑا کرتے اور ہمارا ترکہ صدقہ ہوتا ہے!"۔
لنک دیکھئے:
حدیث "لا نورث، ما ترکناہ صدقۃ" کا افسانہ ـ 1
حدیث "لا نورث، ما ترکناہ صدقۃ" کا افسانہ ـ 2
حدیث "لا نورث، ما ترکناہ صدقۃ" کا افسانہ ـ 3

مشربہ ام ابراہیم کی موجودہ صورت حال
ان دنوں زائرین مشربہ ام ابراہیم سے دور کھڑے ہوکر اہل بیت نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو سلام دے سکتے ہیں لیکن یہ سلام دل و جان کی گہرائیوں سے اور خلوص و عقیدت کی انتہاؤں پر ہوتا ہے؛ یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ پیغمبر رحمت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے زائر ہوں اور آپ تھوڑے سے فاصلے پر واقع ائمہ طاہرین علیہم السلام کی والدات کی زیارت کو نہ جائیں! یہ کون سی منطق میں درست ہے کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے محبت کا دعوی کریں اور آل رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے محبت نہ رکھیں اور انہيں بھول جائیں؟

مشربہ ام ابراہیم کی فضائی تصویر

مشربہ ام ابراہیم ایک اور زاویئے سے
نیچے دی گئی تصویر پہلی بار نشر ہورہی ہے اور یہ درحقیقت حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی والدہ ماجدہ حضرت سیدہ حمیدہ خاتون (س) اور حضرت امام رضا علیہ السلام کی والدہ ماجدہ حضرت نجمہ خاتون (س) کے مزار اقدس کی تصویر ہے جس کو بعد میں وہابی حکومت نے منہدم کردیا۔

..............
/169