ابنا: ضلع مظفر نگر کے کلکٹر کوشل راج شرما نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں جاری کرفیو میں بدھ کو چار گھنٹے کی چھوٹ دی گئی، نہوں نے بتایا کہ منگل کو بھی دو گنٹوں کی چھوٹ دی گئی تھی۔انڈیا ریڈیو کے مطابق فسادات میں اب تک مرنے والوں کی تعداد 41 ہو گئی ہے اور علاقے میں کشیدگی برقرار ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ فسادات کے سلسلے میں اب تک 90 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ادھر مختلف علاقوں میں کھیتوں سے اب بھی اکا دکا لاشیں برآمد ہورہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بہت سے خاندانوں نے حملے کے خوف اور دہشت کے سبب گنے کے کھیتوں میں پناہ لی ہوئی ہے جبکہ کئی گاؤں کے لوگوں کو اپنا گاؤں چھوڑ کر اس علاقے میں پناہ لینی پڑی ہے جہاں وہ محفوظ سمجھتے ہیں۔حکام نے کشیدگي کے سبب پڑوسی اضلاع میرٹھ، شاملی اور سہارنپور جیسے اضلاع میں بھی فورسز کو تعینات کیا ہے جب کہ میرٹھ شہر میں فوج نے مارچ کیا ہے۔......./169
10 ستمبر 2013 - 19:30
News ID: 461907
ہندوستان کی ریاست اتر پردیش میں حکام کا کہنا ہے کہ ضلع مظفر نگر میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے بعد حالات معمول پر آ رہے ہیں اسی کے مد نظر، متاثرہ تین تھانوں میں کرفیو میں چار گھنٹوں کی چھوٹ دی گئی ہے۔