10 ستمبر 2013 - 19:30
گیارہ ستمبر کا مشکوک واقعہ

جرمنی میں امریکہ کے سابق سفیر جان سی کارن بلم نے کہا ہے کہ عراق پر امریکی حملے اور صدام حکومت کے خلاف جنگ کی منصوبہ بندی 9/11 کے واقعہ سے پہلے ہی کرلی گئي تھی۔

ابنا:  جان سی کارن بلم نے ایک انٹرویو میں جارج بش کی صدارت کے دوران امریکی خارجہ پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 9/11 کا واقعہ عراق پر حملے کے لئے امریکی حکومت کا ایک حربہ بن گيا۔ جرمنی میں سابق امریکی سفیر نے کہا کہ جارج بش کی جنگ پسندانہ پالیسی کے پیش نظر اگر 9/11 کا واقعہ پیش نہ آتا تو بھی جارج بش عراق پر حملے کے لئے کوئي اور بہانہ تلاش کرلیتے۔ جان سی کارن بلم نے امریکہ کی اقتصادی حالت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ماہرانہ تجزیہ و تحلیل کے بعد ہمیں یہ پتہ چلا کہ جنگ عراق امریکی اقتصاد کا بتدریج دیوالہ نکلنے کا ایک سبب تھی۔یہ انکشاف ایک ایسے وقت کیا گیا ہے کہ جب گیارہ ستمبر کی تاریخ قریب آرہی ہے اور جیسے جیسے یہ تاریخ قریب آتی جارہی ہی خصوصیت کے ساتھ امریکہ میں بسنے والے مسلمانوں پر انجانا خوف طاری ہوتا جارہا ہے۔اطلاعات کے مطابق واشنگٹن میں مسجد الاسلام کے امام جماعت عبدالعلیم موسی نے کہا ہے کہ امریکہ میں مسلمان خوف و اضطراب میں زندگي گذار رہے ہیں۔عبدالعلیم موسی نے پریس ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ مسلمانوں کے خلاف سی آئي اے اور پولیس کی جاسوسی سے مسلمان خوف و اضطراب میں مبتلا ہو چکے ہیں انہوں نے کہا کہ امریکی مسلمانوں کی جاسوسی کرنا امریکی اداروں کی پرانی روش ہے لیکن گيارہ ستمبر کے واقعات اور دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کے شروع ہونے کے بعد سے امریکہ میں مسلمانوں پر دباؤ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کےخلاف جاسوسی کرنے کے لئے نیویارک پولیس اور سی آئی اے کے تعاون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی پولیس نے اس تعاون کے تحت مسلمانوں کے تمام عام مقامات کو اپنی نگرانی میں لے لیا ہے اور ان مقامات پر جاسوسی کے آلات نصب کر دئے ہیں۔گیارہ ستمبر کی وہ منحوس تاریخ ہے کہ جس دن امریکہ میں بیک وقت چار ہوائی جہازوں کے اغوا کا ڈرامہ رچایا گیا اور پھر نیویارک میں واقع ورلڈ ٹریڈ سینٹرکی عمارتوں کو لوگوں نے زمین بوس ہوتے دیکھا ۔اسی طرح امریکی وزارت جنگ پینٹا گون پر بھی ایک حملے کی خبر نشر ہوئی اور یہ دعوی کیا گیا کہ ایک طیارہ اس سے جا ٹکرایا ہے ۔البتہ جس حصے میں یہ طیارہ ٹکریا ہے وہاں عمارت کے نزدیک لگے بجلی کے پول اور کھمبے بالکل محفوظ رہے ۔ ایک طیارے کو امریکی افواج نے مارگرایا۔لوگوں نے صرف میڈیا پر دیکھا اور سنا اور اس پر یقین بھی کرلیا آور آج امریکہ اور اس کے ہمنوا ممالک کا میڈیا صبح ہی اس ڈرامے سے متعلق خبریں اور تبصرے نشر کرکے ایک بار پھر مسلمانوں کو اس واقعے کا ذمہ دار ٹھرارہا ہے ۔گذشتہ مارچ کے مہینے میں امریکہ میں ایک ہزار آرکی ٹیکٹ اور انجینیروں نے اپنی حکومت سے مطالبہ کیاتھا کہ وہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کےبارےمیں نئے سرے سے تحقیقات کرائے۔امریکن فری پریس کے مطابق ان آرکیٹیکٹ اور انجینروں نے سان فرانسسکو میں ایک کانفرنس میں 9/11 کے واقعات کے بارےمیں حکومتی تحقیقات پرسوالیہ نشان لگاتےہوئے یہ سوال اٹھایا تھاکہ گيارہ منٹوں میں کس طرح فولاد اور سیمنٹ کا ڈھانچہ تباہ ہوگيا۔امریکن آرکیٹیکٹ ایسوسی ایشن کے رکن رچرڈ گيج نے کہا ہے کہ فیڈرل ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ اور نیشنل اسٹنیڈرڈ اینڈ ٹکنالوجیکل انسٹی ٹیوٹ نے ڈبلیو ٹی سی کے کنارے عمارت کے انھدام کے بارے میں جو دلیلیں پیش کی ہیں وہ ناقابل قبول اور ناقص ہیں اور حقائق سے تضاد رکھتی ہیں۔یادرہے 9/11 دہشت گردانہ حملوں میں نیویارک میں عالمی تجارتی مرکز کی جڑواں عمارتیں تباہ ہوگئيں تھیں ۔ادہر امریکہ کے تحقیقاتی گروہ کی جدید ترین تحقیقات سے صاف ظاہرہوگیا ہےکہ گيارہ ستمبر کے واقعات سفید جھوٹ کا پلنداہے۔ڈیجیٹل جرنل کی ویب سائٹ کے مطابق امریکہ میں سول انجنیروں اور فن تعمیر کے ماہرین کے ایک گروہ نے وسیع تحقیقات انجام دینے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہےکہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی جڑوان عمارتوں کا انھدام جیسا کہ امریکی اور عالمی میڈیا میں بتایا گيا ہے کسی بھی صورت میں صرف طیاروں کے ٹکرانے اور طیاروں کے ایندھن سے لگنے والی آگ کے نتیجے میں عمل میں نہیں آسکتا۔جڑواں عمارتوں کے ملبے سے ملنے والے پھگلے ہوئےلوہے اور فولاد کے نمونوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی جڑواں عمارتوں کی تباہی صرف طیاروں کے ایندھن سے لگنے والی آگ کے نتیجے میں ممکن نہیں ہوسکتی کیونکہ طیاروں کے ایندھن سے لگنے والی آگ اتنی شدید نہیں ہوتی کہ لوہے اور فولاد کو پگھلادے۔گیارہ سمتبر کے تحقیقاتی گروہ سے موسوم ان ماہرین کا کہنا ہےکہ صرف طیاروں کے ٹکرانے کے نتیجے میں جڑواں عمارتيں نہیں گری ہیں بلکہ پہلے سے ان عمارتوں میں بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مادہ نصب کیا گيا تھا۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ جڑواں عمارتوں کے گرنے کے کئي گھنٹوں بعد عمارت نمبر سات کے گرنے سے صاف پتہ چلتا ہےکہ دہشتگردوں کے ہاتھوں طیاروں کے اغوا کا ڈرامہ بڑی مہارت سے رچا گيا تھا کیونکہ عمارت نمبر 7 کسی طیارے کے ٹکرائے بغیر اچانک منہدم ہوگئی۔یادرہے 9/11 کے واقعات کے بعد جس میں امریکہ کے بقول 3000 افراد مارے گئےہیں ان واقعات کو بہانہ بناکر دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع کردی اور اسی بہانے سے افغانستان اور عراق پرجنگ تھوپ دی جس میں  لاکھوں افراد مارے گئے اور ظاہرا یہ جنگ اور ظاہرا یہ جنگ ابھی جاری ہے۔9/11 اور لگتا یہ ہے کہ ہولو کاسٹ کی طرح اس واقعے پر بھی برسہا برس پردے پڑے رہیں گے۔......./169