امام صادق علیہ السلام کے دور کے لوگ امام علیہ السلام کے علمی اور معنوی مقام سے بخوبی آشنا تھے اسی وجہ سے جب بھی انہیں ملاقات کا شرف حاصل ہوتا تھا تو آپ سے پند و نصیحت کی درخواست کرتے تھے۔ اسلام کے گرانبھا علمی خزانوں میں سے ایک خزانہ امام صادق علیہ السلام کی یہی مواعظ اور نصیحتیں ہیں جو آپ نے وقتا فوقتا فرمائیں۔ جن میں سے بعض تو زمانے کے حادثات کی نذر ہو گئیں لیکن بعض علماء اسلام کی زحمتوں سے شیعوں کی حدیثی اور روائی کتب میں محفوظ ہیں۔ ذیل میں امام علیہ السلام کی پانچ گرانبھا نصیحتوں کو بیان کیا گیا ہے:پہلی نصیحتایک شخص امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے فرزند رسول! مجھے موعظہ کیجیے۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: لا یَفْقِدُكَ اللَّهُ حَیْثُ أَمَرَكَ وَ لَا یَرَاكَ حَیْثُ نَهَاكَ۔جہاں اللہ نے تمہیں حاضر ہونےکا حکم دیا ہو وہاں غائب نہ ہونا اور جہاں سے منع کیا ہو وہاں حاضر نہ ہونا۔اس مختصر اور گراں قیمت جملے کا مطلب یہ ہے کہ انسان واجبات کو انجام دے اور محرمات سے پرہیز کرے۔ اگر خداوند عالم نے کسی چیز کا حکم دیا ہے تو ایسا نہ ہو کہ شیطان ہمیں اس کے انجام دینے سے روک دے اور ہم خدا کی اطاعت اور بندگی سے محروم ہو جائیں۔ اور اگر خدا نے کسی چیز سے منع کیا ہے تو ہر گز شیطان کے فریب میں آکر اسے انجام نہ دیں بلکہ کوشش کریں کہ خداوند بصیر ہمیں گناہ کی حالت میں نہ دیکھے۔امام علیہ السلام کے اس موعظے کے بعد اس شخص نے عرض کیا: مجھے اس سے زیادہ موعظہ کریں۔ امام (ع) نے فرمایا: “لَا أَجِدُ” ؛ یعنی اس سے زیادہ کوئی بات کہنے کے لیے میرے پاس نہیں ہے جو کچھ مجھے کہنا تھا وہ اس ایک جملے میں کہ دیا اگر انسان اسی ایک جملے پر عمل کر لے تو اس نے گویا سارے دین پر عمل کر لیا ہے۔(۱) دوسری نصیحتابو بصیر کہتے ہیں: میں ام حمیدہ( امام صادق علیہ السلام کی زوجہ اور امام کاظم علیہ السلام کی والدہ گرامی) کی خدمت میں حاضر ہوا کہ آپ امام صادق علیہ السلام کے غم میں عزادار تھیں اور گریہ کر رہی تھیں۔ میں بھی گریہ کرنے لگا۔ اس کے بعد انہوں نے مجھ سے کہا: اگر امام صادق علیہ السلام کے زندگی کے آخری لمحوں میں تم ہوتے تو حیرت انگیز کیفیت کا مشاہدہ کرتے۔ آپ(ع) نے آخری لمحوں میں آنکھیں کھولیں اور فرمایا: اجمَعوا لی كُلَّ مَن بَینی وَ بَینَهُ قَرابَةٌ تمام قرابتداروں اور رشتہ داروں کو بلاو۔زوجہ امام نے فرمایا: ہم نے سب کو جمع کیا، اس کے بعد امام علیہ السلام نے سب سے فرمایا: : إنّ شفاعَتَنا لا تَنالُ مُستَخِفّاً بِالصَّلاة ؛ ہماری شفاعت اس شخص کے نصیب نہیں ہو گی جو نماز کو ہلکا سمجھے گا۔(۲)لغوی اعتبار سے “استَخَفَّ به”، “أَهانه”[3] کے معنی میں ہے یعنی اس نے اس کی بے احترامی کی اور اس کی طرف توجہ نہیں کی۔ اس معنی سے واضح ہو جاتا ہے کہ مَستَخِفّ بالصلاة وہ شخص ہے جس کی نظر میں نماز کوئی اہمیت نہ رکھتی ہو اس وجہ سے وہ نماز کے ساتھ توہین آمیز برتاو کرے۔ یعنی یا بالکل نماز نہ پڑھے یا اگر پڑھے تو بے توجہی کے ساتھ پڑھے یا اول وقت نہ پڑھے۔بہر حال امام صادق علیہ السلام نے ان لمحوں میں جب ہر کوئی اپنی اہمترین باتیں کرتا ہے اور اپنی اولاد کو اپنے مال و ثروت کی وصیت کرتا ہے، نماز کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی کہ ہم اہلبیت(ع) کی شفاعت ان لوگوں کے نصیب نہیں ہو سکتی جو نماز کو اہمیت نہ دیں۔تیسری نصیحتسفیان ثوری امام صادق علیہ السلام سے ملاقات میں عرض کرتے ہیں: یابن رسول اللہ مجھے موعظہ کیجیے۔ امام نے فرمایا: یا سُفیانُ، لَا مُرُوءَةَ لِكَذُوبٍ وَ لَا أَخَ لِمُلُوكٍ [لِمَلُولٍ] وَ لَا رَاحَةَ لِحَسُودٍ وَ لَا سُۆْدُدَ لِسَیِّئِ الْخُلُق.اے سفیان! جو شخص جھوٹ بولنے کی عادت رکھتا ہے اس کے پاس انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں اور جو شخص صاحب قدرت ہے اس کا کوئی دوست نہیں اور جو شخص حاسد ہے اسے آرام و چین نہیں مل سکتا اور جو شخص بد اخلاق ہے وہ ہرگز شرافت اور بزرگی نہیں رکھ سکتا۔(۴)سفیان نے مزید نصیحت کرنے کا تقاضا کیا تو امام علیہ السلام نے فرمایا: یا سُفیانُ، ثِقْ بِاللَّهِ تَكُنْ مُۆْمِناً وَ ارْضَ بِمَا قَسَمَ اللَّهُ لَكَ تَكُنْ غَنِیّاً وَ أَحْسِنْ مُجَاوَرَةَ مَنْ جَاوَرْتَهُ تَكُنْ مُسْلِماً وَ لَا تَصْحَبِ الْفَاجِرَ فَیُعْلِمَكَ مِنْ فُجُورِهِ وَ شَاوِرْ فِی أَمْرِكَ الَّذِینَ یَخْشَوْنَ اللَّهَ عَزَّ وَ جَل.اے سفیان! خدا پر بھروسہ کرو تاکہ مومنین کی صف میں شامل ہو سکو، اور جو کچھ خدا نے تمہارے لیے مقسوم کیا ہے اس پر راضی رہو تاکہ بےنیازی کا احساس کر سکو، اپنے ہمسائیوں کے ساتھ حسن سلوک کرو تاکہ تم مسلمان کہلا سکو۔ جو شخص اہل گناہ ہے اس کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا نہ کرو اگر ایسا کیا تو وہ تمہیں اپنے گناہوں سے آگاہ کر کے تمہیں بھی آلودہ کر دے گا اور اپنے کاموں میں ان لوگوں کے ساتھ مشورہ کرو جو خوف خدا رکھتے ہیں یعنی حلال و حرام الہی کی طرف توجہ رکھتے ہیں۔سفیان ثوری پھر امام (ع) سے موعظہ کرنے کی درخواست کرتے ہیں اور امام علیہ السلام بھی مزید فرماتے ہیں: یا سُفیانُ، مَنْ أَرَادَ عِزّاً بِلَا عَشِیرَةٍ وَ غِنًى بِلَا مَالٍ وَ هَیْبَةً بِلَا سُلْطَانٍ فَلْیَنْقُلْ مِنْ ذُلِّ مَعْصِیَةِ اللَّهِ إِلَى عِزِّ طَاعَتِه. اے سفیان! جو شخص بغیر قوم و قبیلے کے عزت چاہے اور بغیر مال کے بے نیازی چاہے اور بغیر قدرت کے ہیبت و شوکت چاہے تو اس نے اللہ کی معصیت کی ذلت سے اس کی اطاعت کی عزت کی طرف روگردانی کر لی ہے۔پھر سفیان ثوری نے امام علیہ السلام سے نصیحت کی التجا کی تو آنحضرت نے فرمایا: اے سفیان! میرے بابا (خدا کا درود و سلام ہو ان پر) نے مجھ سے فرمایا : یَا بُنَیَّ مَنْ یَصْحَبْ صَاحِبَ السَّوْءِ لَا یَسْلَمْ وَ مَنْ یَدْخُلْ مَدَاخِلَ السَّوْءِ یُتَّهَمْ وَ مَنْ لَا یَمْلِكْ لِسَانَهُ یَنْدَمْ.بیٹا! جو شخص برے انسان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا کرے اس کا اخلاق و ایمان سالم نہیں رہ سکتا۔ جو شخص ایسی بدنام جگہوں پر رفت و آمد رکھے تو اس پر بھی برائی کی تہمت لگ سکتی ہے۔ اور جو شخص اپنی زبان پر کنٹرول نہ کرے اسے پشیمانی اور ندامت کے علاوہ کچھ نہیں ملتا۔اس کے بعد آپ نے دو اشعار پڑھے: اپنی زبان کو اچھی باتیں کرنے کی عادت دو تاکہ وہ تمہارے لیے فائدہ مند ثابت ہو اس لیے کہ زبان جس چیز میں ہمیشہ مشغول ہو اس کی عادت کی جاتی ہے۔ زبان کو جو تم سکھاو گے وہ وہی کہے گی اچھا سکھاو گے تو اچھا کہے گی برا سکھاو گے تو برا کہے گی۔ لہذا دیکھو کہ اسے کس چیز کی عادت ڈال رہے ہو(۵)۔چوتھی نصیحتامام صادق علیہ السلام کے دو اصحاب یحییٰ اور اسحاق نقل کرتے ہیں کہ امام علیہ السلام ہمیشہ دو چیزوں کی نصیحت کرتے تھے: عَلَیْكُمْ بِصِدْقِ الْحَدِیثِ وَ أَدَاءِ الْأَمَانَةِ إِلَى الْبَرِّ وَ الْفَاجِرِ، فَإِنَّهُمَا مِفْتَاحُ الرِّزْقِ.فرماتے تھے کہ ہمیشہ سچ بولو اور امانت کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کرو چاہے وہ امانت مومن کی ہو یا گناہگار کی۔ بیشک یہ دو چیزیں رزق کی کنجیاں ہیں۔(۶)پانچویں نصیحتایک شخص امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اے فرزند رسول مجھے موعظہ کیجیے، حضرت نے فرمایا: أعِدَّ جِهازَكَ وَ قَدِّم زادَكَ لِطولِ سَفَرِكَ وَ كُن وَصِیَّ نَفسِكَ وَ لا تَأمَن غَیرَكَ أن یَبعَثَ إلَیكَ بِما یُصلِحُكَ. سفر کا سامان مہیا کرو اور جو چیزیں ایک لمبے سفر کے لیے ضروری ہوتی ہیں انہیں اپنے جانے سے پہلے بھیج دو اور اپنے کاموں کو خود انجام دو دوسروں پر مت ڈالو کہ کوئی آئے اور تمہارے کام انجام دے۔(۷)امام صادق(ع) کو جب زہر دیا گیا۔۔۔سید بن طاووس(رہ) اپنی کتاب ’’مہج الدعوات‘‘ میں امام صادق علیہ السلام کی دعاوں کے حصے میں یوں لکھتے ہیں: منصور نے اپنے دوران حکومت سات مرتبہ امام صادق علیہ السلام کو اپنے دربار میں طلب کیا۔ کبھی مدینہ میں ، کبھی ربذہ میں اور اس کے بعد کوفہ و بغداد میں۔ اور ہر مرتبہ آپ کے قتل کا ارادہ رکھتا تھا۔ اور ہر مرتبہ امام کے ساتھ بری رفتار سے پیش آتا رہا اور آپ کو برا بھلا کہتا رہا ہے۔ یہاں پر شیخ عباس قمی (رہ) کی کتاب منتھی الآمال سے ایک غم انگیز واقعہ نقل کرتے ہیں:ایک دن منصور اپنے قصر میں بیٹھا ہوا تھا اور جب بھی وہ اس قصر میں بیٹھتا تھا تو اس دن کو ’’یوم ذبح‘‘ کہا جاتا تھا اس لیے کہ جب وہ اس جگہ بیٹھتا تھا تو کسی نہ کسی کا خون ضرور کرتا تھا۔ ان ایام میں امام صادق علیہ السلام کو اس نے مدینہ سے بلوا رکھا تھا۔ جب رات ہوئی اور اس نے ربیع کو بلا کر کہا: جاو جعفر بن محمد کو میرے پاس لاو چاہے جس حالت میں بھی ہوں۔ ربیع کہتا ہے میں باہر نکلا اور کہا «اِنّا للّهِ وَ اِنّا اِلَیْهِ راَجِعُونَ» اگر میں امام کو اس وقت اس کے پاس لایا تو ہر گز یہ انہیں معاف نہیں کرے گا اور انہیں شہید کر دے گا۔ اور میری آخرت برباد ہو جائے گی اور اگر میں نہیں لاوں گا تو مجھے قتل کرکے میری نسل ختم کر دے اور میرا مال لوٹ لے گا۔ میں اسی تردید میں پڑ گیا کہ دنیا کو انتخاب کروں یا آخرت کو۔ آخر کار میں میرا نفس دنیا کی طرف راغب ہو گیا اور میں نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی۔امام کے پاس گیا امام نماز میں مشغول تھے میں نے کہا خلیفہ نے آپ کو طلب کیا ہے۔ فرمایا: ٹھہرو میں دعا پڑھ لوں اور لباس پہن لوں۔ میں نے کہا اجازت نہیں ہے فرمایا: ٹھہرو میں غسل کر لوں اور موت کے لیے تیار ہو جاوں۔ میں نے کہا: اس کام کی بھی اجازت نہیں دوں گا۔ پس میں اس ضعیف مرد کو ایک پیراہن کے ساتھ سر و پا برہنہ گھر سے باہر لایا۔ تھوڑا راستہ چلنے کے بعد دیکھا کہ امام میں چلنے کی طاقت نہیں ہے اور زمین پر گرے جا رہے ہیں تو مجھے رحم آ گیا میں نے اپنی سواری امام کو دی اور خود پا پیادہ دربار خلیفہ تک گیا۔ دربار کے پاس پہنچا تو امام نے فرمایا: اے ربیع! تو تو ہماری نسبت اتنا سنگ دل نہیں تھا تھوڑی اجازت دے کہ میں دو رکعت نماز پڑھ لوں اور اپنے خدا کے ساتھ مناجات کر لوں۔ میں نے اجازت دے دی۔ امام نے دو رکعت نماز ادا کی اور کافی دیر تک گریہ و زاری کے ساتھ خدا سے راز و نیاز کرتے رہے۔ جب فارغ ہوئے تو میں نے ان کا ہاتھ پکڑا اور دربار میں لے گیا۔ جب امام دربار میں داخل ہوئے اور منصور کی نگاہ آپ پر پڑی تو اس نے غصے سے کہا: اے جعفر آپ بنی عباس کی نسبت اپنی سرکشی اور دشمنی کو نہیں چھوڑیں گے؟ آپ کتنی بھی کوشش کریں ہماری حکومت کو ٹھیس نہیں پہنچا سکتے۔ امام نے فرمایا: خدا کی قسم جو تم کہہ رہے ہو ایسا میں نے کچھ نہیں کیا۔ تم جانتے ہو کہ میں نے بنی امیہ کہ جو ہم اور تمہاری نسبت سب سے زیادہ بدتر تھے کے دور میں بھی ایسا کچھ نہیں کیا۔ میں نے انکے لیے برا نہیں سوچا اور تمہارے لیے بھی برا نہیں سوچا ہے۔۔۔ اس کے بعد منصور نے کچھ دیر کے لیے سر جھکا دیا۔ وہ جس تکیے سے ٹیک لگائے ہوئے تھا ہمیشہ اس کے نیچے تلوار رکھتا تھا۔ اس کے بعد اس نے کہا: آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔ اس نے تخت کے نیچے سے کچھ خطوط نکالے اور امام کی طرف پھینک کر کہا: یہ آپ کے خطوط ہیں جو آپ نے خراسان والوں کی طرف ل
31 اگست 2013 - 19:30
News ID: 458256
ہمیشہ سچ بولو اور امانت کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کرو چاہے وہ امانت مومن کی ہو یا گناہگار کی۔ بیشک یہ دو چیزیں رزق کی کنجیاں ہیں: امام صادق علیہ السلام