31 اگست 2013 - 19:30

ايران کے ايٹمي ادارے کے سربراہ ڈاکٹر علي اکبر صالحي نے کہا ہے کہ آئي اے اي اے کي نئي رپورٹ سے يہ بات ثابت ہوجاتي ہے کہ ايران کي سبھي ايٹمي سرگرمياں اين پي ٹي کے دائرہ کار ميں پرامن مقاصد کےلئے ہيں ۔

ابنا: آئي اے اي اے نے ايران کي ايٹمي سرگرميوں کے بارے ميں  اپني سہ ماہي رپورٹ گذشتہ بدھ کو پيش کي ۔ ايران کے ايٹمي ادارے کے سربراہ نے ايجنسي کي تازہ رپورٹ پرا پنے ردعمل ميں کہا کہ اس رپورٹ ميں کوئي نئي بات نہيں تھي بلکہ رپورٹ ميں ان معلومات کا  ذکر کيا گيا ہے جو ايران کے ايٹمي ادارے کي طرف سے سيف گارڈ سے متعلق ايجنسي کودي گئي ہيں ۔ڈاکٹر صالحي نے نطنز ايٹمي پلانٹ  ميں سيکڑوں سينٹريفوج مشينوں کو نصب کئے جانے اور يورينيم کي افزودگي کي توانائي ميں اضافے کے تعلق سے نئي رپورٹ ميں ذکر کئے گئے نکات کے بارے ميں کہا کہ ايجنسي نے يہ سب ايران کے ذريعے فراہم کردہ معلومات کي ہي بنياد پر بيان کيا ہے ۔ايران کے ايٹمي ادارے کے سربراہ ڈاکٹر صالحي نے اراک شہر ميں بھاري پاني کے ري ايکٹر کے افتتاح کو موخر کئے جانے کے بارے ميں جس کا ذکر ايجنسي کے ڈائريکٹر جنرل کي رپورٹ ميں بھي کيا گيا ہے کہا کہ جو اطلاعات و معلومات پہلے دي جاچکي ہيں ان کے مطابق طے پايا تھا کہ سن دوہزار چودہ کي پہلي سہ ماہي ميں مذکورہ ري ايکٹر ميں ايندھن ڈالا جائے گاليکن ماہرين نے جو ريسرچ انجام دي ہيں ان کے مطابق يہ کام في الحال موخر کرديا گيا ہے ۔ڈاکٹر علي اکبر صالحي نے کہا کہ سيف گارڈ معاہدے کے مطابق ايران کو کسي بھي ري ايکٹر ميں ايندھن ڈالنے سے ايک سو اسي ّ دن  پہلے ايٹمي توانائي کي عالمي ايجنسي کو آگاہ کرنا ہوگا اسي لئے اب اراک ميں ہيوي واٹر پلانٹ ميں ايندھن ڈالنے کا کام موخر کرديا گيا ہے اور اس کے لئے کوئي فني مشکل نہيں ہے ۔

.......

/169