ابنا: طالبان، لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ کو حکومت پاکستان مسلمہ طور دہشت گرد سمجھتی ہے اور اسی لئے ان تنظیموں کی سرگرمیوں پر پابندی عائد ہے اور قانون پاکستان ان تنظیموں کو کالعدم قرار دے چکا ہے۔ لہذا کسی بھی نام اور شکل میں ان دہشت گردوں کو سرگرمیاں دکھانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض نا دیدہ قوتوں کے تعاون اور اشارے پر کالعدم دہشت گرد تنظیمیں پاکستان کے طول عرض میں سر گرم ہیں اور حکومت اور انتظامیہ بار بار کے دعوؤں کے باوجود ان کو لگام دینے میں ناکام نظر آتی ہے۔بھکر کا واقعہ مسلمہ طور پر دہشت گردی کا واقعہ ہے اور اس کو کوئی اور نام نہیں دیا جاسکتا چنانچہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے رہنماؤں نے لاہور میں اپنی مشترکہ ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب کے شہر بھکر میں ہونے والے اندوہ ناک واقعے کی شدید مذمت کی ہے جہاں طالبان کے مقامی نمائندوں اور بقول ان کے ایک کالعدم تنظیم کے غنڈوں نے کئی گھنٹے تک پورے شہر کو یرغمال بنائے رکھا۔ دہشت گردوں نے شہر میں اسلحہ کی بھرپور نمائش کی رہنماؤں اس پرسوز سانحہ پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا اور پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ سانحہ کے مجرموں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ایم ڈبلیو ایم کے مطابق اس طرح کی کارروائیاں دہشت گردوں سے مذاکرات کا نتیجہ ہیں، لہٰذا فوری طور پر دہشت گردوں سے مذاکرات ختم کرکے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی پالیسی کا اعلان کیا جائے، تکفیری گروہوں کی نقل و حرکت پر پابندی لگائی جائے، ایسے مدرسے جہاں دہشت گردی کو شرعی جواز اور کلمہ گو مسلمانوں پر کفر کے فتوے لگائے جاتے ہیں، ان پر فی الفور پابندی لگائی جائے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ تکفیری نظریات کے حامل نام نہاد علما اور ان کی نگرانی میں چلنے والے مدارس نے اسلام کی بدنامی اور رسوائی کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔ بظاہر امریکہ اور مغرب سے بر پیکار یہ تکفیری عناصر ہر جگہ کلمہ گو مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور اسلام ایک ایسی تصویر دنیا والوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں جس میں سفاکیت اور شقاوت کے بجزاور کچھ نھیں دکھائی دیتا۔ یہ وہی تصویر ہے جسے امریکہ، مغرب اور یورپ والوں کو دکھاناچاہتا ہے تاکہ اس طرح اسلام کی جانب بڑھتے ہوئے ان کے رجحان کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ دوسری جانب اسلامی ملکوں میں لبرل اور مغرب سے متاثر سیاسی جماعتیں اور ان کے لیڈران کو بھی اس میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی کہ یہ صورتحال جاری رہے تاکہ وہ دین اور سیاست کے ایک ہونے اور قرآن و سنت کی بنیاد پر نظام حکومت پر یقین رکھنے والوں کو اقتدار سے دور رکھ سکیں۔یہ بات علما اور دیندار طبقے کو سوچنی چا ہیے کہ ایک گہری بین الاقوامی سازش کے تحت مسلمانوں کو آپس میں لڑایا جا رہا ہے۔ البتہ دشمن اپنی اس کوشش میں بری طرح سے ناکا ہوچکے ہیں اور وہ محض تکفیری گروہوں کو ہی اپنے مفادات کی خاطر استعمال کر رہے ہیں کہ جنہیں سواد اعظم اہلسنت بری طرح سے دھتکار چکے ہیں اور یہ مسلمانوں کی خوش نصیبی ہے کہ دین اور اسلام کا حقیقی درد رکھنے والے علما اور مشائخ ان کے درمیان موجود ہیں جو تکفیریت کی نفی کرتے ہیں اور عقیدے اور مسلک کی بنیاد پر کسی بھی انسان کے قتل کو گناہ کبیرہ قرار دیتے ہیں۔تکفیریت اور سلفیت کے گمراہ کن عقائد کو کسی دور میں بھی مسلمانوں کی جانب سے تسلیم نہیں کیا گیا تاہم سرزمین حجاز پر برطانیہ کے تعاون سے خاندانی بنیادوں پر بننے والی حکومت نے اپنے اقتدار کے استحکام اور مخالفین کو راستے سے ہٹانے کے لئے انہی گمراہ کن عقائد کا سہارا لیا۔ جس کو چاہا اسے مشرک قرار دے کر اس کی گردن ماردی اور اس مقدس و پاک سرزمین کو اس کے لاکھوں سپوتوں کے خون سے رنگین کردیا۔آل سعود کے اقتدار میں آنے کے بعد تمام اسلامی اور تاریخی آثار کو منظم طریقے سے مٹادیا گیا حتی رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقتدر صحابیوں، ازواج مطہرات، اہلبیت کرام کی قبور اور مزرات کو بھی نہیں بخشا اور انہیں بھی شرک و کفر کا مظہر قرار دے کر مسمار کردیا گیا۔سوچنے کی بات ہے کہ مکے اور مدینے اور دیگر اسلامی سرزمینوں میں صدر اسلام کے آثار اور صحابہ کبار اور اہلبیت علیہم السلام سے منصوب مقامات، اور مزرات گذشتہ چودہ صدیوں سے جوں کے توں موجود تھے اور لوگ ان مقامات کی زیارات کرکے اپنی اپنی عقیدت کا اظہار کیا کرتے تھے۔ بنی امیہ سے لے کر بنو عباس اور سلطنت عثمانیہ سے لیکر اس کے بٹوارے تک کسی مسلمان حکمران، قاضی، فقیہ اور مفتی نےان آثار اور شعائر اللہ کو مٹانے کی اجازت نہیں دی، لیکن جونہی خاندان آل سعود نے برطانوی سامرج کی مدد سے خاندان آل رشید کو سرزمین حجاز سے بے دخل کیا اسی دن سے اسلامی آثار تاریخ کو مٹانے کی برطانوی خواہش پر عمل درآمد شروع ہوگیا۔حجاز مقدس کا نام ایک لٹیرے کا نام پر سعودی عرب رکھ دیاگیا۔ محمد بن عبد الوہاب کے عقائد کو مملکت سرکاری مذھب قرار دے کر دیگر عرب اور مسلمان خطوں میں میں اس کی تشہیر اور ترویج شروع کی گئ اور اسلام کو محض چند خشک قسم کے عقائد میں محدود کرکے باقی ہر چیز کو شرک و کفر، بت پرستی اور بدعت کا نام دے دیدیا گیا۔اسطرح حکومت برطانیہ نے جسے اس وقت اپنی سلطنت کی بقا کے لئے اسلام سب سے زیادہ خطرناک اور طاقتور دکھائی دے رہا تھا سکھ اور چین کا سانس لیا۔اب بھی کم و بیش یہی صورتحال ہے آل سعود اور خطے کے بعض دیگر عرب ممالک کسی کو بھی اسلامی تعلیمات اور قرآن و سنت کی بنیاد پر حکومت داری کی اجازت نہیں دیتے کیوں وہ ایسی ہرحکومت کو نہ صرف اپنے لئے بلکہ اپنے آقاؤں کے مفادات کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں۔ مصر کی مثال سب کے سامنے ہے کہ سعودی عرب کس بے شرمی اور ڈھٹائی کے ساتھ اخوان المسلمین کی قانونی حکومت کے خاتمے میں پیش پیش ہے اور امریکہ نواز اور بے دین فوجی حکمرانوں کی مکمل طور سے حمایت کر رہا ہے۔ ماضی میں افغانستان میں طالبان کی امارات اسلامی کو ختم کرنے میں سعودی عرب کا کردار بھی کسی پر پوشیدہ نہیں ہے۔ یہی حال متحدہ عرب امارات اور اور قطر کا ہے جنہوں نے محمدمرسی کی مدد و حمایت کی بجائے مصر کے فوجی آمر کے لئے اپنی تجوریوں کے منہ کھولدئے ہیں۔لبنان کی فتنہ انگیزی میں بھی سعودی حمایت یافتہ تکفیریوں کا ہاتھ نمایاں ہے۔ پہلے ایک ایسے علاقے میں دھماکہ کیا جو مبینہ طور شیعہ آبادی پر مشتمل ہے اور جمعے کے روز شمالی بیروت کو منتخب کیا جہاں کی آبادی اہلسنت برادری سے تعلق رکھتی ہے تاکہ شام میں اپنے گماشتوں کی پے درپے شکستوں کا بدلہ بزعم خود حزب اللہ سے لیا جا سکے۔بہرحال لبنان کے مذھبی اور سیاسی حلقوں نے نہایت ہوشیاری اور بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کے درمیان فتنہ انگیزی کی ہرسازش کو ناکام بنادیا ہے ہاں اتنا ضرور ہے کہ تکفیریوں کے ہاتھوں درجنوں بے گناہ اور نہتے مسلمان اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں کہ جن کا خون ناحق انشا اللہ دہشتگردوں اور ان کے سر پرستوں کو جلد رسوا کر کے ان انجام تک پہنچا دے گا۔
.......
/169