21 اگست 2013 - 19:30
مصری جمہوریت آمریت کی بھینٹ چڑہ گئی

ایسے عالم میں جب مرسی کی خود کشی کی افواہیں گردش کررہی ہیں مصر ميں فوج کےخلاف اور مرسی کی حمایت میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس ہفتے کو بغاوت کےخاتمے کاہفتہ قرار دیا گیا ہے۔ جمعہ کےدن بھی احتجاجی مظاہروں کا پروگرام ہے ۔

ابنا: اخوان المسلمین نے اعلان کیا ہے کہ بغاوت کرنے والوں کی شکست اور انقلاب کی کامیابی تک پرامن احتجاج جاری رہے گا۔ اخوان المسلمین کے ایک سینئر رہنما محمد بلتاجی نے کہا کہ معزول صدرکے حامیوں کا دھرنا اور پرامن احتجاج انقلاب کی کامیابی اور بغاوت کرنے والوں کی شکست تک جاری رہے گا۔ محمد بلتاجی نے کہا کہ پرامن رویہ فوج اور پولیس کے مقابل موثر ترین ہتھیار ہے۔ انہوں نے کہاکہ بغاوت کرنے والے، عوام کا قتل عام کرکے بعض ملکوں جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات ، اردن اور صیہونی حکومت نیز امریکہ و مغرب کے ساتھ ساز باز کرکے قوم کے خلاف دہشتگردانہ حملے کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ عوام فوج کی ساٹھ سالہ حکومت کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں جس نے مصری عوام کو ساٹھ برسوں سے ذلیل و خوار کردیا ہے۔جہاں تک محمد مرسی کی  خود کشی کی  بات ہے تو یہ بعید نظرآتا ہے کہ  نظریاتی تنظیم اخوان المسلمین  کےفعال رکن محمدمرسی اتنی آسانی سے خود کشی جیسامذموم اوربزدلانہ قدم اٹھائيں گے۔ اوریہی وجہ ہے کہ اخوان المسلمین  اس پروپیگنڈے کو منتخب صدر کوقتل کرنے کی سازش کاحصہ قرار دے رہی ہے ۔ مصری خبررساں ایجنسی  نےجو بہرحال فوج اور عبوری حکومت کے زیراثر ہے  یہ خبردی ہے کہ معزول صدر محمدمرسی نے پیر کی رات جیل میں چاقو سے خود کشی کی کوشش کی لیکن فوجیوں نے انھیں بچالیا ۔ اخوان المسلمین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی افواہیں پھیلاکر سابق صدر مرسی کو جیل میں قتل کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔  اس میں کوئی شک نہيں کہ ایک سچا مسلمان خود کشی جیسےگناہ کاارتکاب نہيں کرسکتا اور جہاں تک مرسی کی خود کشی کےبارے میں افواہ کاتعلق ہے تو بعید نظرنہيں آتا کہ معزول صدر کوقتل کرنے کی سازش کی جارہی  ہو اور اس سازش میں ان عناصر کا ہاتھ ہو جنھوں نے مرسی کواقتدارسےہٹایا ہے یا اس میں مدد کی ہے۔اس دوران ترکی کےوزیراعظم رجب طیب اردوغان کے حوالے سے یہ خبر بھی قابل غور ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ محمدمرسی حکومت کا تختہ الٹنے اور ہنگاموں میں اسرائیل کا ہاتھ ہے کیونکہ مغربی ممالک انتخابی نتائج سےخوش نہيں اور اس کاسب سےبڑا ثبوت یہ ہے کہ مصرکےصدارتی انتخابات سے قبل فرانس کےوزیرانصاف نے یہ غیرمنصفانہ بیان دیا تھاکہ اگراخوان المسلمین جیت بھی گئي تو بھی اسے تسلیم نہيں کیا جائے گا کیونکہ بقول ان کے جمہوریت کوئي بیلٹ باکس نہيں ہے۔ترک وزیراعظم کی جانب سے محمدمرسی کی حکومت کاتختہ الٹنے میں صیہونی حکومت کا ہاتھ ہونے سےکسی کو انکار نہيں کیونکہ شام اور مصر میں عدم استحکام کا سب سے زیادہ فائدہ صیہونی حکومت کوپہنچ رہا ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ فرانس وامریکہ سمیت کسی بھی یورپی ملک کو ایسی جمہوریت گوارہ نہيں جس میں عوام کو اسلامی احکامات پر پوری آزادی سےعمل کرنے کی اجازت ہواس کاواضح ثبوت ایران کااسلامی جمہوری نظام ہے جہاں اسلامی انقلاب کےبعد قائم ہونےوالی اسلامی جمہوری حکومت کوبتیس سال کا عرصہ گذرنے کے باوجود اسے امریکہ ومغرب کی جانب سے مختلف سازشوں ، پابندیوں اور دشمنیوں  کاسامنا ہے۔لیکن مصر کی صورت حال کا ذمہ دار صرف صیہونی حکومت کو ٹہرانا بھی صحیح نہيں ہے کیونکہ سعودی عرب ، قطر ، متحدہ عرب امارات جنھیں اخوان المسلمین کی مقبولیت برداشت نہیں ہورہی تھی اور اپنے ملکوں میں بھی اسلامی بیداری کی آہٹ سنائی دینے لگی تھی انھوں نے روز اول سے ہی محمد مرسی کونظراندازکرناشروع کردیا تھا اور وہ امداد جو معزول صدر حسنی مبارک کےدور ميں مصر کوامریکہ اور مغرب سے حاصل ہورہی تھی اس کا سلسلہ بھی رک گیا تھا اور اسے جاری رکھنے میں لیت ولعل سے کام لیا جارہا تھا لیکن عوامی انتخابات کےنتیجے میں برسراقتدار آنے والی محمدمرسی کی جمہوری حکومت کاتختہ الٹتے ہی سعودی عرب ، قطر اور متحدہ عرب امارات نے فوجیوں کی حمایت یافتہ مصرکی عبوری حکومت کو مجموعی طور پرآٹھ ارب ڈالرفوری امداد دینے کااعلان کردیا اور اسرائیل کےساتھ بھی پینگیں بڑھاناشروع کردیں جس سے پوری طرح واضح ہے کہ امریکہ ومغرب کےساتھ ہی خاندانی بادشاہتوں کےمالک عرب ممالک کے تخت نشینوں اورڈکٹیٹروں کو مشرق وسطی کے کسی بھی مسلمان ملک میں جمہوریت برداشت نہيں ہے کیونکہ اس کےبعد ان کی نوبت بھی آسکتی ہے اور امریکہ اورمغرب کےلئے بھی کسی ایک فوجی ڈکٹیٹرسے ڈیل کرناآسان ہے بہ نسبت ایک جمہوری حکومت کےساتھ مذاکرات سے جسے ہرموڑ پر عوامی رجحانات کی پرواہ ہوتی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مظلوم فلسطینیوں کےحقوق پر ڈاکہ ڈالنے کا سلسلہ بآسانی جاری رکھنے کےلئے صیہونی حکومت اور مغرب کو مذاکرات کا ڈھونگ رچانا ہی ہے اوراس سلسلےمیں آمروں سے مذاکرات کرنا بہرحال آسان ہے جنھیں اپنےاقتدار کوبچانے کےلئے پوری قوم کی قسمت داؤ پرلگادینے میں بھی کوئی عار نہيں ہے۔اس تناظرمیں ہندوستان کےمعروف اسکالر اورسینئرتجزیہ نگار ڈاکٹر قاسم رسول الیاس اپنے تاثرات کااظہار کرتے ہوئے کہتے ہيں۔۔۔  سعودی عرب کے وزیرخارجہ سعود الفیصل کا یہ تازہ بیان کہ اگرمغرب نے مصر کی امداد روکی تو تمام عرب اوربقول ان کے اسلامی ممالک مصر کی بھرپورمددکریں گے، اخوان المسلمین کےحمایت یافتہ محمد مرسی کی جمہوری حکومت کاتختہ الٹنے میں امریکہ ، مغربی ممالک ، صیہونی حکومت،  سعودی عرب اور اس کےاتحادیوں کےملوث ہونے کااسب سےبڑا ثبوت ہے۔

.......

/169