اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ قم میں گزشتہ شب اس شہر کے گورنر جنرل کے ساتھ نامہ نگاروں کے ہونے والے ایک عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی کے مینیجر نے کہا کہ قم میڈیا کی دنیا میں اس حیثیت سے کہ اسے جہان تشیع کا ام القریٰ کہا جاتا ہے بہت پیچھے ہے۔ جہان تشیع کا ام القریٰ کا لقب پانے والے صوبہ قم سے کوئی بھی ایسا معیاری اخبار نہیں نکلتا ہے جو دنیائے تشیع کی خبروں کی عکاسی کرتا ہو۔حجت الاسلام و المسلمین سید علی رضا حسینی عارف نے تاکید کی کہ ہمیں ’’ الحیات‘‘ اور ’’ الشرق الاوسط‘‘ کے اخباروں کی طرح جو سعودی عرب کے پیسوں پر کئی ممالک سے چھپتے ہیں اور ان کی خبریں پورے جہان اسلام میں موثر ہوتی ہیں ہمیں بھی ایک ایسا بین الاقوامی اخبار نکالنا چاہیے جو ایک ہی وقت میں دنیا کے کئی ممالک سے کئی زبانوں میں چھپے اور جو کم سے کم جہان تشیع میں موثر ثابت ہو۔ابنا کے مینیجر نے کہا: قم دنیائے اسلام میں ایک خاص اہمیت کا مالک ہے اور اسے ایسے بین الاقوامی اخبار کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی بات کو دنیا والوں تک پہنچا سکے۔انہوں نے تاکید کی کہ قم کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں جامعۃ المصطفیٰ (ص) العالمیہ کا وجود ہے جس میں ۱۰۰ کے قریب ممالک کے طلاب زیر تعلیم ہیں جبکہ دنیا کے کسی شہر کو یہ فضیلت حاصل نہیں ہے۔ قم ان طلاب کی صلاحیتوں سے استفادہ کرتے ہوئے جہان تشیع کے لیے ایک ایسا جامع اخبار نکال سکتا ہے جو دنیا کے دسیوں ممالک میں ایک ہی وقت منظر عام پر آئے اور اس میں دنیائے تشیع کے حادثات و واقعات کی عکاسی کی جائے۔
