ابنا: حوزہ علمیہ مشہد مقدس کے استاد آیت اللہ رجب علی رضا زادہ نے "رضوی ثقافت میں نمازاورمسجد کی تجلی" نامی سیمینار کے علمی بورڈ کے اراکین سے ملاقات کے دوران قرآن کریم کے ساتھ ساتھ سنت پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پرعمل کوتشیع کے بنیادی فرائض میں سے قراردیتے ہوئے کہا ے کہ دین اسلام کا رسول گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے پہلا حکم نمازکا قائم کرنا اورپیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی امت کواپنی آخری وصیت نمازکا قیام تھی۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ نماز،انسان کی دینداری کا معیارہے کیونکہ نماز میں انسان اپنے پروردگارکی طرف متوجہ ہوتا ہے۔آیت اللہ رضا زادہ نے کہا ہے کہ صلاۃ کا لغوی معنی توجہ ہے اور انسان کے اعمال کی قبولیت بھی نمازکی مقبولیت کے تابع ہے کیونکہ نماز،انسان کے گناہوں کو پانی کی طرح دھودیتی ہے اوراس کی پاکدامنی کا باعث بنتی ہے۔حوزہ علمیہ مشہد کے استاد نے مزید کہا ہے کہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دین اسلام کے جس پہلے حکم کو انجام دیا وہ نمازتھی اورامیرالمومنین علیہ السلام نے نقل فرمایا ہے کہ رسول گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بستروفات پر تین مرتبہ لفظ صلاۃ اپنی زبان پرجاری فرمایا اوراس کے بعد آپ کی روح پرواز کرگئی یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آخری وصیت بھی نماز کے بارے تھی۔انہوں نے کہا ہے کہ اگرچہ نمازکوعبادت سے تعبیر کیا جاتا ہے لیکن عربی زبان میں صلاۃ کا معنی توجہ ہے کیونکہ انسان نمازکی حالت میں اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔آیت اللہ رضازادہ نے مسجد میں آمدورفت کی فضیلت کے بارے میں امیرالمومنین علیہ السلام کی ایک حدیث کی طر ف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ نے فرمایاہے کہ میرے لیے مسجد میں بیٹھنا جنت میں بیٹھنے سے زیادہ بہترہے کیونکہ جنت میں بیٹھنا میری خوشی کا باعث ہے اورمسجد میں بیٹھنا پروردگارکی رضایت کا باعث ہے۔
.......
/169