ابنا: مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ حالیہ دہشتگردی کے واقعات پر آرمی چیف جنرل کیانی اور وزیراعظم نواز شریف کی مسلسل خاموشی معنی خیز ہے۔ آرمی کے جوانوں پر جنرل کیانی اور سوئلین کے قتل عام پر وزیراعظم کی تسلسل کے ساتھ خاشومی قابل مذمت ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہر روز اوسطاً دس آرمی کے جوان شہید ہوتے ہیں، میں پوچھتا ہوں کہ جس فوج کے دس سے بارہ جوان ہر روز شہید ہوتے ہوں اس کے کمانڈر کو نیند کیسے آجاتی ہے۔ دہشتگردی کے خلاف کوئی پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے آرمی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں مایوسی بڑھ رہی ہے جو تشویشناک ہے۔ دشمن کی خواہش یہی ہے کہ ہمارے جوان اور قوم مایوس ہوجائے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگروں کی کارروائیاں بتا رہی ہیں کہ ان کی آپس میں یکسوئی ہے جبکہ قومی قیادت دہشتگردوں کے معاملے پر تقسیم ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ عمران خان اور منور حسن سے پوچھتے ہیں کہ قوم کے لعل آئے روز شہید ہو رہے ہیں تو ان کے حلق سے ان کیلئے آواز کیوں بلند نہیں ہوتی۔ آخر کتنی مزید شہادتیں درکار ہیں انہیں طالبان کو سمجھنے کیلئے۔ علامہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ اگر آرمی اور قومی قیادت دہشتگردی کے خلاف متفق ہوجائے اور وہ سمجھتے ہوں کہ انہیں عوامی تائید کی ضرورت ہے تو ملت تشیع کے جوان وطن کے دفاع کیلئے فرنٹ لائن کا کردار ادا کریں گے۔ ہم وطن کی حفاظت کے لئے ہزاروں رضاکار فراہم کریں گے جو سکیورٹی فورسز کے مورال کو بلند بھی کریں گے اور اپنے وطن کے باسیوں کی حفاظت بھی کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے بھارہ کہو میں موجود مسجد علی ابن ابیطالب (ع) میں خودکش حملہ آور کی فائرنگ سے شہید ہونے والے جوان رضاکار امین حسین کی نماز جنازہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر شرکاء کی بہت بڑی تعداد نماز جنازہ میں شریک تھی۔ شرکائے جنازہ لبیک یاحسین (ع)، لبیک یازینب (س) کے شعار بلند کرتے ہوئے دہشتگردوں کے مراکز پر آپریشن کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ ملک میں جاری دہشت گردی نے سکیورٹی فورسز کا مورال ڈاؤن کر دیا ہے، انتظامیہ کو ہر شہر میں سکیورٹی فورسز کا مورال اپ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پڑے تو ہر شہر کی حفاظت کے لئے ہمارے جوان حاضر ہیں۔ ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے اندر بیٹھ کر جو لوگ طالبان دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کی بات کر رہے ہیں وہ یہ سمجھ لیں کہ ان کا یہ اقدام ہزاروں شہدا کے خون کے ساتھ غداری ہے۔ علامہ ناصر عباس جعفری نے مزید کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ جو امن و امان کے قیام کے لئے بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں ان کے لئے بھارہ کہو کا واقعہ شرم کا مقام ہے۔ علامہ ناصر عباس جعفری نے ایک بار پھر بزرگ علماء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ قومی معاملات کیلئے ان کے پاس حاضر ہونے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے ملی وحدت وقت کا تقاضا ہے..............242
9 اگست 2013 - 19:30
News ID: 450281
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ حالیہ دہشتگردی کے واقعات پر آرمی چیف جنرل کیانی اور وزیراعظم نواز شریف کی مسلسل خاموشی معنی خیز ہے۔