ابنا: حکومت مخالفین فوجی مراکز اور تنصیبات کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔بغاوت کے خلاف اتحاد کے نام سے موسوم گروہ نے بھی ایک بیان میں مصر کے دارالحکومت کے مشرق اور قاہرہ ایئرپورٹ کے نزدیک دھرنا دینے کی تاکید کی ہے ۔ اس گروہ نے اعلان کیا ہے کہ اس وقت تین مظاہرے قاہرے کی فوجی تنصیبات ،صدارتی نیشنل گار ڈ اور قومی سیکورٹی ادارے اور مراکز کی طرف شروع ہوچکے ہیں ۔ مصری فوج نے گذشتہ پیر کو مظاہرین سے کہا ہےکہ فوجی مراکز سے نزدیک ہونے سے پرہیز کریں اور فوج نے حکومت کو مصر میں جاری مظاہروں کو ختم کرنے کا بھی حکم دیا ہے ،جس کے بعد سے قاہرہ میں سیکورٹی سخت کردی گئی ہے اور میدان رابعہ العدویہ کی طرف جانے والے تمام راستے بند کردئیے گئے ہیں ، لیکن حکومت کے خلاف مصر کے مختلف میدانوں میں مظاہرے جاری ہیں، خبروں سے پتہ چلتاہے کہ قاہرہ ، اسکندریہ اور دمیاط شہروں میں ہر روز مظاہرین کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے جس کے نتیجے میں مظاہرین اور فوج کے درمیان جھڑپیں بھی زیادہ ہورہی ہے ۔ اطلاعات کے مطابق دمیاط اور سوئز شہروں میں سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں ۔ فوج مظاہرین کے خلاف آنسو گیس استعمال کررہی ہے جس کی وجہ سے فوج کو شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ بغاو ت کے خلاف اتحاد نے پرامن مظاہروں کے خلاف فوج کی طرف سے آنسو گیس کے استعمال کوشہری حقوق کی خلاف وزی قرار دیا ہے ۔ مصر میں فوجی بغاوت کے بعد مظاہرین کے خلاف ایسے وقت تشدد کا استعمال ہورہا ہے کہ اخوان المسلمین کے اراکین کی گرفتاریوں کا سلسلہ برابر جاری ہے ۔ مصر کی رسمی خبر رساں ایجنسی( منا)نے اعلان کیا ہے کہ پولیس نے اخوان المسلمین کے اکتیس اراکین کو جو قاہرے کے اطراف میں میڈیا شہر میں داخل ہونا چاہتے تھے گرفتار کرلیا ہے ۔دودن پہلے قاہرے کے جنوب کے پراسکیوٹر نے اخوان المسلمین کے رہنما محمد بدیع اور ان کے دو سکریٹریز خیرت شاطر اور رشاد بیومی سمیت اخوان المسلمین کے تین اور اراکین پر مظاہرین کو اکسانے کے الزام میں فوجداری عدالت میں بھیج دیا ہے ۔ اخوان المسلمین کے اراکین کے خلاف فوج کی طرف سے لگائے الزامات کو اخوان المسلمین کے رہنماؤں نے مسترد کردیا ہے ۔ اخوان المسلین کے رہنماؤں نے اس طرح کے الزامات کو سیاسی قرار دیا ہے ۔ اس وقت مصر میں فوجی حکام اور اخوان المسلمین باقاعدہ ایک دوسرے کے مقابلے میں ڈٹے ہوئے ہیں ۔ اس سیاسی نزاع کے سبب مصر میں تشدد کا ماحول پیدا ہوگیا ہے ۔ عبوری صدر کے نائب محمد البرادعی نے تشدد ختم کرنے کامطالبہ کیا ہے اور مرسی کے حامی گروہوں سے گفتگو اور ملک کے سیاسی مسائل میں شرکت کرنے کی دعوت دی ہے ۔اخوان المسلمین نے محمد البرادعی کی اس دعوت کو مسترد کردیا ہے ،اخوان المسلمین کے رہنماؤں نے تاکید کی ہے کہ محمد مرسی کے خلاف بغاوت غیر قانونی ہے لہذا وہ اپنا مظاہرہ جاری رکھیں گے ۔ ایسی صورت میں بعض خبروں سے پتہ چلتا ہے کہ مصر کی حالیہ تبدیلیوں میں پس پردہ کام کرنے والےمصر کے وزیر دفاع عبد الفتاح السیسی صدارتی امیدوار کے لئے خود کو تیار کررہے ہیں ۔ بعض خبری ذرائع نے لکھا ہے کہ السیسی مصر کے سیاسی میدان میں ایک بار پھر فوج کو صف اول میں لانے اورملک کی باگ ڈور کو سنبھالنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ صیہونی خبری وئب سائٹ ( ڈبکا)نے بھی خبر دی ہے کہ السیسی نے صدارتی انتخابات میں شرکت کرنے کافیصلہ کیا ہے ۔ یہ ایسی حالت میں ہےکہ عبدالفتاح السیسی اب تک تاکید کرتے رہے ہیں کہ صدارتی انتخاباب میں شرکت کرنے کاان کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔ لیکن شواہد اورموجودہ حکمرانوں کی پالیسی سے پتہ چلتا ہے کہ وہ مصر میں فوجی نظام لانا چاہتے ہیں ۔
.......
/169