ابنا: حکومت مخالف گروہوں نے ایک بیان جاری کرکے مخالف بحرینی شہریوں کی شہریت کو ختم کرنے کے سلسلے میں پارلیمنٹ کے اس اقدام کے رد عمل میں اعلان کیا ہے کہ جو لوگ قتل ،شکنجہ ، گرفتاری اور شہریت ختم کرنے کی بات کرتے ہیں۔ انسانی حقوق اورجمہوریت کے بارے میں ان کی تحریک اور باتیں مایوس کرنے والی ہیں۔ حکومت مخالف گروہون نے ایک بیان میں یہ تاکید کرتے ہوئے کہ امن کا منصوبہ ناکام ہے عوام کے مطالبات پورے اور جمہوری حکومت قائم ہونے تک پرامن مظاہروں کو جاری رکھنے پر زور دیا ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ بحرین کی پارلیمنٹ کے نمایندوں نے اتوار کے دن حکومت مخالفین کی شہریت کو ختم کرنے کی تجويز پر اتفاق کرلیا ہے ۔پارلیمنٹ کے نمایندوں نے منامہ میں حکومت مخالف ہرطرح کے مظاہروں کو بھی غیر قانونی قرار دیا ہے ۔حکومت بحرین نے لوگوں کو سرکوب اورگرفتار کرنے کے اقدامات میں اضافہ کردیا ہے ۔ قکبل ذکر ہے کہ بحرین میں سرکوب کرنے کے اقدامات میں اگست دوہزار تیرہ میں حکومت مخالف مظاہروں کی دعوت کے بعد اضافہ ہوگیا ہے ۔ حکومت آل خلیفہ پارلیمنٹ میں عوام کو سرکوب کرنے کا قانون پاس کرانا چاہتی ہے تاکہ حکومت مخالفین کوزیادہ سے زیادہ کچلا جاسکے ۔ بہرحال حکومت آل خلیفہ کے خلاف عوام کے ارادوں میں مزید شدت آنے سے حکام تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں ، چنانچہ لوگوں کو ڈرانے اور دھمکانے کے لئے غیر انسانی قانون پاس کراکے حکومت کے خلاف جاری عوامی قیام کو روکنا چاہتے ہیں ۔ اتوار کے دن بحرین کے وزیر داخلہ راشد بن عبداللہ آل خلیفہ نےجن کی تقریر سے پتہ چلتاہے کہ حکومت چودہ اگست کے وسیع مظاہروں سے خوفزدہ ہے خبردار کیا ہے کہ صورت حال پرکنٹرول کرنے کے لئے ضروری اقدامات کرلئے گئے ہیں ۔ یہ ایسے وقت ہے کہ بحرین کی الوفاق قومی تحریک کے جنرل سیکریٹری نے تاکید کی ہے کہ ملت بحرین اپنے سیاسی اہداف حاصل کرنے میں مکمل طور پر سنجیدہ ہے ۔شیخ علی سلمان نے حکومت کی طرف سے لوگوں کو بری طرح سے کچلنے کی طرف اشارہ کیا اور کہاکہ سیکورٹی کے سخت اقدامات ، گرفتاریوں اور کچلنے کی پالیسیوں سے ملک کے حالات مزید پیچیدہ اور خراب ہوں گے ۔بحرین کی قومی جمعیت الوفاق کے سیکریٹری نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ حکومت کے پاس عوام کے مطالبات کو منظورکرنےکے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے کہاکہ بحرین میں نئی حکومت کی ضرورت ہے جس میں ملک کے تمام لوگوں کی شرکت ہو تاکہ لوگوں کوآزادی اورانصاف کا تحفہ دیاجاسکے ۔ شیخ علی سلمان نےیہ بیان دیتے ہوئے کہ تشدد آمیز پالیسیوں پر عمل درآمد عالمی برادری کے نزدیک قابل قبول نہیں ہے کہاکہ جو قوانین بین الاقوامی معیارات کے منافی ہیں وہ ہرگزسرکوب گرانہ عمل کو قانونی حیثيت نہیں دے سکتے ہیں ۔ بحرین میں جمعیت الوفاق کے خواتین کے شعبے کے سربراہ نے بھی ان خواتین کو جنھیں حکومت کے خلاف بیان دینے کے جرم میں جیل میں ڈال دیا گیا ہے اہم ترین مسئلہ قرار دیاہے ۔ جمعیت الوفاق میں خواتین کے امورکے شعبے کے سربراہ احلام الخزاعی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ گرفتار ہونے والی خواتین کا مسئلہ حکومت مخالف سیاسی گروہوں کے ایجنڈے میں شامل ہے کہاکہ ان سیاسی گروہوں نے جیل میں بند خواتین کے حقوق کے دفاع کےلئے وسیع پیمانے پر بین الاقوامی اداروں اورتنظیموں سےسفارتی رابطے کا آغاز کردیا ہے ۔ بحرین میں فروری دوہزارگیارہ سےحکومت آل خلیفہ کے خلاف آزادی ،انصاف اورمنتخب حکومت کے لئے پرامن مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے ۔ حکومت آل خلیفہ کے فوجی قابض سعودی فوجیوں کے ساتھ ملکر عوام کو بری طرح سے کچل رہے ہیں کہ اب تک سیکڑوں بحرینی شہری شہید اور زخمی ہوچکے ہیں ۔
.......
/169