17 جولائی 2013 - 19:30
ایران اورمغرب کےتعلقات، صہیونی ریاست کےلئے ڈراؤناخواب

تہران اور لندن میں ایران اور برطانیہ کےسفارتخانےبند ہونے کےانیس مہینے بعد تعلقات میں بہتری کے آثار نظرآنے لگے ہيں۔

ابنا: بعض ذرائع ابلاغ برطانیہ کےسابق وزیرخارجہ جیک اسٹر کے ایران سے تعلقات برقرار کرنے کےرجحان پر مبنی بیانات پر تبصرہ وتجزیہ کررہے ہيں۔ سابق برطانوی وزيرخارجہ جیک اسٹرا  کے دور میں جو دوہزار ایک سے دوہزارچھ تک برطانیہ کے وزیرخارجہ اور ایٹمی مذاکرات کار رہ چکے ہيں ، ایران کے ایٹمی مسئلے پر تہران اور یورپ کےدرمیان مذاکرات بخوبی آگے بڑہ رہے تھے اور جیک اسٹرا نےایران اوریورپ کےدرمیان مفاہمت کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اگرچہ امریکہ کی خلاف ورزیوں کی بنا پر ایران اور یورپ کےدرمیان مفاہمت کا ماحول ختم ہوگیا اور ایران اور برطانیہ کے تعلقات کافی خراب ہوگئے یہاں تک کہ نومبر دوہزارگیارہ میں تہران میں برطانیہ کی مداخلت کے بعد دونوں ملکوں کےسفارتخانے بھی بند ہوگئے۔
اس وقت بعض سیاسی حلقوں کاخیال ہے کہ ایران کےصدارتی انتخابات میں حسن روحانی کے انتخاب کے بعدایران اور مغرب کےتعلقات میں بہتری کادریچہ کھل گیا ہے ۔
سڑسٹھ سالہ جیک اسٹرا نے جو اس وقت برطانوی پارلیمنٹ دارالعوام کے رکن اور برطانیہ ایران پارلیمانی دوستی گروپ کےذمہ داروں میں سے ہیں اپنے تازہ موقف میں بی بی سی کوایک انٹرویو دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس دور میں دونوں ملکوں کےتعلقات میں بہتری آنی چاہئے اور تہران و لندن میں دونوں ملکوں کےسفارتخانے کھل جانے چاہئے۔
اس تناظر میں برطانیہ کےوزیرخارجہ ویلیم ہیگ نے بھی کہا ہے کہ ہم قدم بہ قدم تعلقات کوبہتر بنانے کےلئے تیار ہیں۔
یہ تبدیلی صرف برطانیہ تک محدود نہیں ہے بلکہ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ اور ایران اورگروپ پانچ جمع ایک مذاکرات کی کوارڈینیٹر کیتھرین اشٹون نے بھی منگل کو بریسلز میں ایک اجلاس میں کہا کہ گروپ پانچ جمع ایک کوامید ہے کہ جلد سےجلد ایران کےساتھ مذاکرات شروع کئےجائيں ۔
ان بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ مغرب ، ایران کےساتھ مذاکرات میں خاموشی کاتسلسل نہيں چاہتا۔
البتہ ایران اور مغرب کے تعلقات میں کشیدگی میں کمی لانے جیسی  تبدیلیاں ، اسرائیلی حکام کے لئے ایک ڈراؤناخواب رہی ہيں ۔
صیہونی وزیراعظم نتن یاھو نے یورپی حکام کےحالیہ موقف پر سخت ناراضگی کااظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی برادری کو ایران میں ایک نومنتخب صدر کی خاطر اس ملک پردباؤ کم نہيں کرناچاہئے۔
اس میں کوئی شک نہيں کہ صیہونی حکومت نے ایران اور مغرب کےدرمیان کشیدگی کا ہمیشہ فائدہ اٹھایا ہے اوراسی بنا پرموجودہ تبدیلی کواپنےلئے بدشگونی سمجھتی ہے یہاں تک کہ جس زمانے میں ایٹمی مسئلہ درپیش نہيں تھا اس وقت بھی اسرائیلی حکومت ، مشرق وسطی ساز باز عمل کی ایران کی جانب سےمخالفت اور فلسطینیوں کےحقوق کی حمایت کےبہانے ایران کےخارجہ تعلقات میں اختلاف پیدا کرنے اور علاقے میں بحران نیز کشیدگی پھیلانے کی کوشش کرتی رہی ہے تاکہ امریکہ اور بعض دوسرےممالک سے مزید امداد حاصل کرسکے۔
بہرحال ، صیہونی حکومت کےانفعالی موقف سےقطع نظر، سیاسی ماہرین کاخیال ہے کہ ایران اورمغرب کےتعلقات میں کشیدگی نے یورپی یونین کو ایران کےساتھ وسیع تعلقات سےدور کردیا اور یہی امر اس بات کاباعث بناکہ علاقے کےمسائل کےحل میں مدد کےلئے سیاسی تعاون اوربہت سےاقتصادی مواقع یورپی یونین کے ہاتھ سے نکل گئے۔
سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور یورپی یونین کےمسائل ناقابل حل نہيں ہیں اور ان کاخیال ہے کہ متوازن قدم موجودہ کشیدگی دور ہونے اور بحالی اعتماد پرمنتج ہوسکتا ہے۔

.......

/169