ابنا: روس کے صدر ولاديمير پوتن نے کہا ہے کہ امريکا نے ايسے حالات پيدا کئے ہيں کہ ايڈورڈ اسنوڈن روس سے نہ نکل سکيں –انہوں نے کہا کہ جب بھي اسنوڈن کے لئے روس سے نکلنا ممکن ہوا وہ يہاں سے چلے جائيں گے –پوتن نے کہا کہ اسنوڈن کو روس آنے کي دعوت نہيں دي گئي تھي وہ بغيرکسي دعوت کے روس آئے ہيں - ولاديمير پوتن نے کہا کہ اسنوڈن روس ميں رہنا نہيں چاہتے تھے وہ روس سے ہوکے دوسرے ملک جانا چاہتے تھے ليکن جب ہوائي جہاز ميں ان کي موجودگي کا پتہ چلا تو امريکيوں نے ايسے حالات پيدا کرديئے کہ اسنوڈن کے لئے سفر جاري رکھنا نا ممکن ہوگيا - انہوں نے بتايا کہ اسنوڈن نے کہا ہے کہ وہ نہيں چاہتے کہ ان کي وجہ سے امريکا سے روس کے تعلقات خراب ہوں ليکن اسنوڈن انسان حقوق کے دفاع ميں اپني سرگرمياں جاري رکھنا چاہتے ہيں -قابل ذکر ہے کہ امريکي جاسوسي تنظيم سي آئي اے کے سابق ايجنٹ اور نيشنل سيکورٹي ايجنسي کے سابق ايڈورڈ اسنوڈن جنہوں نے امريکا کے حاليہ جاسوسي اسکينڈل کا انکشاف کيا ہے ، تيئس جون دو ہزار تيرہ سے ماسکو کے بين الاقوامي ہوائي اڈے کے ٹرانزٹ لاؤنج ميں ہيں -وہ اکواڈور جانے کے لئے ہانگ کانگ سے ماسکو پہنچے تھے کہ امريکا نے ان کا پاسپورٹ منسوخ کرديا -اکواڈور کے علاوہ ونيزوئلا، بوليويا اور نيکاراگوا نے بھي اسنوڈن کو سياسي پناہ دينے کے لئے اپني آمادگي کا اعلان کيا ہے-
.......
/169