(۱۵۵۳)آٹھ چیزیں روزے کو باطل کر دیتی ہیں:
۱)کھانا اور پینا۔
[B](۲)جما ع کرنا۔[/B]
[B](۳)استمناء ۔ یعنی مرد اپنے ساتھ یا کسی دوسرے سے جماع کے علاوہ کوئی ایسا فعل کرے جس کے نتیجے میں منی خارج ہو۔ عورتوں میں اس کی کیفیت کا تذکرہ مسئلہ ۳۴۵ میں ہو چکا ہے۔[/B]
[B]۴)خدا تعالیٰ ، پیغمبر اکرم ﷺ اور ان کے جانشینوں سے احتیاط واجب کی بنا پر کوئی جھوٹی بات منسوب کرنا۔[/B]
[B]۵)غبار حلق تک پہنچانا احتیاط واجب کی بنا پر۔[/B]
[B]۶)اذان صبح تک جناب، حیض یا نفاس کی حالت میں باقی رہنا۔[/B]
[B]۷)کسی سیال چیز سے حقنہ (انیما) کرنا۔[/B]
[B](۸)قے کرنا۔[/B]
[B]کھانا اور پینا[/B]
(۱۵۵۴) اگر روزے دار اس امر کی جانب متوجہ ہوتے ہوئے کہ روزے سے ہے کوئی چیز جان بوجھ کر کھائے یا پئے تو اس کا روزہ باطل ہو جاتا ہے، قطع نظر اس سے کہ وہ چیز ایسی ہو جسے عموماً کھایا یا پیا جاتا ہو مثلاً روٹی اور پانی یا ایسی ہو جسے عموماً پیا نہ جاتا ہو مثلاً مٹی اور درخت کا شیرہ، اور خواہ کم ہو یا زیادہ حتیٰ کہ اگر روزے دار ٹوتھ برش منہ سے نکالے اور دوبارہ مُنہ میں لے جائے اور اس کی تری نگل لے تب بھی روزہ باطل ہو جاتا ہے سوائے اس صورت کے کہ اس کی تری لعاب دہن میں گھُل مل کر اس طرح ختم ہو جائے کہ اسے بیرونی تری نہ کہا جا سکے۔
(۱۵۵۵) جب روزے دار کھانا کھا رہا ہو اگر اسے معلوم ہو کہ صبح ہو گئی ہے تو ضروری ہے کہ جو لقمہ منہ میں ہو اسے اُگل دے اور اگر جان بوجھ کو وہ لقمہ نگل لے تو اس کا روزہ باطل ہے اور اس حکم کے مطابق جس کا ذکر بعد میں ہو گا اس پر کفارہ بھی واجب ہے۔
(۱۵۵۶)اگر روزے دار غلطی سے کوئی چیز کھا لے یا پی لے تو اس کا روزہ باطل نہیں ہوتا ۔
(۱۵۵۷) انجکشن اور ڈرپ سے روزہ باطل نہیں ہوتا، چاہے انجکشن تقوت پہنچانے والا اور ڈرپ گلوکوز وغیرہ کی ہی کیوں نہ ہو۔ دمے کی بیماری میں استعمال ہونے والا اسپرے اگر دوا کو صرف پھیپھڑوں تک پہنچائے تو اس سے بھی روزہ باطل نہیں ہوتا۔ اسی طرح آنکھ اور کان میں دوا ڈالنے سے روزہ باطل نہیں ہوتا چاہے اس کا ذائقہ گلے میں محسوس ہو۔ ناک میں ڈالی جانے والی دوا اگر گلے تک نہ پہنچے تو اس سے روزہ باطل نہیں ہوتا۔
(۱۵۵۸) اگر روزے دار دانتوں کی ریخوں میں پھنسی ہوئی کوئی چیز عمداً نگل لے تو اس کاروزہ باطل ہو جاتا ہے۔
(۱۵۵۹)جو شخص روزہ رکھنا چاہتا ہو اس کے لئے اذان صبح سے پہلے دانتوں میں خلال کرنا ضروری نہیں ہے لیکن اگر اسے علم ہو کہ جو غذا دانتوں کے ریخوں میں رہ گئی ہے وہ دن کے وقت پیٹ میں چلی جائے گی تو خلال کرنا ضروری ہے۔
(۱۵۶۰)مُنہ کا پانی نگلنے سے روزہ باطل نہیں ہوتا خواہ ترشی وغیرہ کے تصور سے ہی مُنہ میں پانی بھر آیا ہو۔
(۱۵۶۱)سر اور سینے کا بلغم جب تک مُنہ کے اندر والے حصے تک نہ پہنچے اسے نگلنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اگر وہ منہ میں آ جائے تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ اسے نہ نگلے۔
(۱۵۶۲)اگر روزے دار کو اتنی پیاس لگے کہ اسے پیاس سے مر جانے کا خوف ہو جائے یا اسے نقصان کا اندیشہ ہو یا اتنی سختی اٹھانا پڑے جو اس کے لئے ناقابل برداشت ہو تو اتنا پانی پی سکتا ہے کہ ان امور کا خوف ختم ہو جائے بلکہ اگر موت اور اس جیسی چیز کا خوف ہو تو پانی پینا واجب ہے لیکن اس کا روزہ باطل ہو جائے اور اگر رمضان ہو تو احتیاط لازم کی بنا پر ضروری ہے کہ اس سے زیادہ پانی نہ پئے اور دن کے باقی حصے میں وہ کام کرنے سے پرہیز کرے جس سے روزہ باطل ہو جاتا ہے۔
(۱۵۶۳) بچے یا پرندے کو کھلانے کے لئے غذا کا چبانا یا غذا کا چکھنا اور اسی طرح کے کام کرنا جس میں کاغذ عموماً حلق تک نہیں پہنچتی خواہ وہ اتفاقاً حلق تک پہنچ جائے تو روزے کو باطل نہیں کرتی۔ لیکن اگر انسان شروع سے جانتا ہو کہ یہ غذا حلق تک پہنچ جائے گی تو اس کا روزہ باطل ہو جاتا ہے اور ضروری ہے کہ اس کی قضا بجا لائے اور کفارہ بھی اس پر واجب ہے۔
(۱۵۶۴) انسان کمزوری اور نفاہت کی وجہ سے روزہ نہیں چھوڑ سکتا لیکن اگر کمزوری اس حد تک ہو کہ عموماً برداشت نہ ہو سکے تو پھر روزہ چھوڑنے میں کوئی حرج نہیں۔
[B](۲) جماع[/B]
ٌّ(۱۵۶۵)جماع روزہ کو باطل کر دیتا ہے خواہ عضو تناسل سپاری تک ہی داخل ہو اور منی بھی خارج نہ ہوئی ہو۔
(۱۵۶۶) اگر آلہٴ تناسل سپاری سے کم داخل ہو اور منی بھی خارج نہ ہو تو روزہ باطل نہیں ہوتا لیکن جس شخص کی ختنہ گاہ نہ ہو اگر اس سے کم مقدار بھی داخل کرے تو اس کا روزہ باطل ہو جائے گا۔
(۱۵۶۷)اگر کوئی شخص عمداً جماع کا ارادہ کرے اور پھر شک کرے کہ سپاری کے برابر دخول ہو اتھا یا نہیں تو اس کا حکم مسئلہ نمبر۱۵۵۱ کو دیکھ کر معلوم کیا جاسکتا ہے۔البتہ اگر روزہ باطل کرنے والا کام انجام نہ دیا ہو تو کسی بھی صورت میں کفارہ واجب نہیں ہوتا۔
(۱۵۶۸)اگر کوئی شخص بھول جائے کہ روزے سے ہے اور جماع کرے یا اسے جماع پر اس طرح مجبور کیا جائے کہ اس کا اختیار نہ رہے تو اس کا روزہ باطل نہیں ہوگا البتہ اگر جماع کی حالت میں اسے یاد آجائے کہ روزے سے ہے یا مجبوری ختم ہو جائے تو ضروری ہے کہ فوراً جماع ترک کردے اور اگر ایسا نہ کرے تو اس کا روزہ باطل ہے۔
[B](۳) اِسْتِمْنَاء[/B]
ّ(۱۵۶۹) اگر روزہ دار اِسْتِمْنَائکرے( اِسْتِمْنَائکے معنی مسئلہ۱۵۵۳میں بتائے جاچکے ہیں) تو اس کاروزہ باطل ہوجاتا ہے۔
(۱۵۷۰) اگر بے اختیاری کی حالت میں کسی کی منی خارج ہو جائے تو اس کا روزہ باطل نہیں ہے۔
(۱۵۷۱)اگرچہ روزے دار کو علم ہوکہ اگر دن میں سو ئے گا تو اسے احتلام ہو جائے گا یعنی سوتے میں اس کی منی خارج ہوجائے گی تب بھی اس کے لئے سونا جائز ہے خواہ نہ سونے کی وجہ سے اسے کوئی تکلیف نہ بھی ہو اور اگر اسے احتلام ہوجائے تو اس کا روزہ باطل نہیں ہوتا۔
ّ(۱۵۷۲)اگر روزے دار منی خارج ہوتے وقت نیند سے بیدار ہوجائے تو اس پر واجب نہیں کہ منی کو نکلنے سے روکے۔
(۱۵۷۳)جس روزے دار کو احتلام ہوگیا ہو وہ پیشاب کر سکتا ہے خواہ اسے یہ علم ہو کہ پیشاب کرنے سے باقی ماندہ منی نالی سے باہر آجائے گی۔
(۱۵۷۴)جب روزے دار کو احتلام ہو جائے،اگر اسے معلوم ہوکہ منی نالی میں رہ گئی ہے اوراگر غسل سے پہلے پیشاب کرے گا تو غسل کے بعد منی اس کے جسم سے خارج ہوگی تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ غسل سے پہلے پیشاب کرے۔
(۱۷۷۵)جو شخص منی نکالنے کے ارادے سے چھیڑ چھاڑ اور دل لگی کرے لیکن اس کی منی نہ نکلے تو اگر دوبارہ روزے کی نیت کرے تو اس کا روزہ باطل ہے اور اگر دوبارہ روزے کی نیّت کر لے تو احتیاط لازم کی بنا پر ضروری ہے کہ روزے کو تمام کرے اور اس کی قضا بھی بجالائے۔
(۱۵۷۶) اگر روزے دار منی نکالنے کے ارادے کے بغیر مثال کے طور پر اپنی بیوی سے چھڑ چھاڑ اور ہنسی مذاق کرے اور اسے اطمینان ہو کہ منی خارج نہیں ہوگی تو اگر چہ اتفاقاً منی خارج ہوجائے ،اس کا روزہ صحیح ہے۔ البتہ اگر اسے اطمینان نہ ہوتو اس صورت میں جب منی خارج ہوگی تو اس کا روزہ باطل ہوجائیگا۔
[B](۴)خدا اور رسول پر بہتان باندھنا[/B]
(۱۵۷۷)اگر روزے دار زبان سے یا لکھ کر یا اشارے سے یا کسی اور طریقے سے اللہ تعالیٰ یا رسول اکرم ﷺیا آئمہ ٪میں سے کسی سے جان بوجھ کر کوئی جھوٹی بات منسوب کرے تو اگرچہ وہ فوراً کہہ دے کہ میں نے جھوٹ کہا ہے یا توبہ کرے تب بھی احتیاط لازم کی بنا پر اس کا روزہ باطل ہے اور احتیاط مستحب کی بنا پر حضرت فاطمہ زہرا ء =اور تمام انبیائے مرسلین اور ان کے جانشینوں سے بھی کوئی جھوٹی بات منسوب کرنے کا یہی حکم ہے۔
(۱۵۷۸)اگر(روزے دار)کوئی ایسی روایت نقل کرنا چاہے جس کے قطعی ہونے کی دلیل نہ ہو اور اس کے بارے میں اسے یہ علم نہ ہو کہ سچ ہے یا جھوٹ تو احتیاط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ اسے نقل کرتے ہوئے بیان کرے اور پیغمبر اکرم ﷺ یا آئمہ سے بلاواسطہ طور پر نسبت نہ دے۔
(۱۵۶۹) اگر (روزے دار) کسی چیز کے بارے میں اعتقاد رکھتا ہو کہ وہ واقعی قول خدا یا قول پیغمبر اکرم ﷺ ہے اور اسے اللہ تعالیٰ یا پیغمبر اکرم ﷺ سے منسوب کرے اور بعد میں معلوم ہو کہ یہ جھوٹ تھا تو اس کا روزہ باطل نہیں ہو گا۔
(۱۵۷۰)اگر (روزے دار )کسی چیز کے بارے میں یہ جانتے ہوئے کہ جھوٹ ہے،اسے اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم ﷺسے منسوب کرے اور بعد میں اسے پتا چلے کہ جو کچھ اس نے کہا تھا وہ درست تھا، اگر اسے معلوم تھاکہ یہ کام روزے کو باطل کردیتا ہے تو احتیاط لازم کی بنا پر ضروری ہے کہ روزے کو تمام کرے اور اس کو قضا بھی بجالائے۔
(۱۵۸۱)اگر روزے دار کسی ایسے جھوٹ کو جوخودروزے دار نے نہیں بلکہ کسی دوسرے نے گھڑا ہو جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ یا رسول اکرم ﷺیا ائمہ ٪سے منسوب کر دے تو احتیاط لازم کی بنا پر اس کاروزہ باطل ہوجائے گا،لیکن اگر جس نے جھوٹ گھڑا ہو اس کا قول نقل کرے توکوئی حرج نہیں۔
(۱۵۸۲)اگر روزے دار سے سوال کیا جائے کہ کیا رسول اکرم ﷺنے ایسا فرمایا ہے اور وہ عمداً جہاں جواب نہیں دینا چاہیے وہاں اثبات میں د ے اور جہاں اثبات میں دینا چاہیے وہاں عمداً نفی میں جواب دے تو احتیاط لازم کی بنا پر اس کا روزہ باطل ہوجاتاہے۔
(۱۵۴۸۳) اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ یا رسول کریم ﷺکا قول درست نقل کرے اور بعد میں کہے کہ میں نے جھوٹ کہا ہے یا رات کو کوئی جھوٹی بات ان سے منسوب کرے اور دوسرے دن جبکہ روزہ رکھا ہوا ہوکہے کہ جو کچھ میں نے گزشتہ رات کہا تھا وہ درست ہے تو احتیاط کی بنا پر اس کا روزہ باطل ہوجاتا ہے۔
سوائے اس کے کہ وہ اس بات کی اسی وقت کی کیفیت کی اطلاع دے رہا ہو۔
[B](۵)غبار کو حلق تک پہنچانا[/B]
(۱۵۸۴) احتیاط واجب کی بنا پر گاڑھے غبار کا حلق تک پہنچانا روزے کو باطل کر دیتا ہے خواہ غبار کسی ایسی چیز کا ہو جس کا کھانا حلال ہو مثلاًآٹا یا کسی ایسی چیز کا ہوجس کا کھانا حرام ہومثلاً مٹی۔
(۱۵۸۵)غیر کثیف غبار(جو غبار گاڑھا نہ ہو) حلق تک پہنچانے سے روزہ باطل نہیں ہوتا۔
ّ(۱۵۸۶)اگر ہوا کی وجہ سے کثیف غبار پیدا ہو اور انسان متوجہ ہونے اور ا