12 جولائی 2013 - 19:30
صحت کی مشکلات، ان کی علتیں اور علاج

کبجکبج بواسیر،مقعد میں زخم ، درد اور بدہضمی کا باعث بن سکتا ہے۔علت: کمپلیکس کاربوہائیڈریٹ کا استعمال اور مایعات اور پانی کا استعمال کم۔علاج: کمپلیکس کاربوہائیڈریٹ کا استعمال کم کریں، پانی زیادہ پیئیں۔ براون اور چوکر والے آٹے کی روٹی کھائیں۔ بدہضمی اور گیسعلت: پرخوری، تلی اور چربی دار چیزوں کا زیادہ استعمال، مرچ و مسالہ والی غذاوں کا استعمال، یا ان چیزوں کا استعمال جو گیس بناتی ہیں جیسے انڈا، گوبھی، لوبیا، پھلیاں، مسور کی دال اور کولڈ ڈرینک۔علاج: پرخوری نہ کریں، پھلوں کا رس اور پانی زیادہ استعمال کریں، تلی چیزوں سے پرہیز کریں۔کمزوری [ بی پی لو]علامتیں: زیادہ پسینہ، کمزوری، تھکاوٹ، سر چکرانہ مخصوصا کھڑے ہوتے وقت، رنگ اڑ جانا اور ضعف اور ناتوانی کا احساس کرنا۔علت: مایعات کا استعمال کم اور بدن سے نمک کی کمی۔علاج: گرم جگہوں پر نہ جائیں۔ نمک اور مایعات کے استعمال کو زیادہ کریں۔ سر دردعلت: کیفین اور تنباکو کا استعمال نہ کرنا، دن میں کام زیادہ کرنا، کم سونا، بھوک کہ جو مخصوصا دن کے آخری وقت میں لاحق ہوتی ہے۔ وہ سر درد جو بی پی لو ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے ممکن ہے شدت پکڑ جائے اور افطار سے پہلے الٹی کی حالت کو ایجاد کرے۔علاج: ماہ رمضان سے دو ہفتہ پہلے کیفین یا تنباکو کا استعمال کرنا کم کر دیں۔ اور اس کی جگہ سبز چائے کا استعمال کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ ماہ رمضان میں اس طریقہ سے پروگرامینگ کریں کہ کافی مقدار تک نیند کر سکیں۔شوگر کی کمیعلامتیں: ضعف، سرچکرانہ، تھکاوٹ کا احساس، پسینہ آنا، بدن کانپنا، دل دھڑکنا، کسی کام کو انجام دینے کے لیے بدن کا ساتھ نہ دینا۔علامتیں: وہ لوگ جو مستقل طور پر شوگر کی بیماری میں مبتلا نہیں ہیں اگر سحری میں شکر کا زیادہ استعمال کریں گے تو دن میں بدن زیادہ مقدار میں انسولین ایجاد کرے گا اور شوگر کی کمی کا باعث بنے گا۔علاج: سحر میں کھانا کھانا، مایعات کا حد سے زیادہ استعمال نہ کرنا اور اسی طرح شوگر والی چیزوں کا استعمال بھی کم کرنا۔معدہ میں زخم، دل میں سوزشماہ رمضان میں اسیڈ والی چیزوں کا استعمال معدہ میں زخم ہونے کا باعث بنتا ہے مرچ مسالہ والی غذائیں، کولڈ ڈرینک وغیرہ زخموں میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں۔علاج: خالی معدہ ہونے کی صورت میں اسیڈ والی چیزوں کا استعمال ہرگز نہ کریں۔ اسی طرح تلی بھنی یا مرچ مسالہ والی چیزوں کا۔جوڑوں کا دردعلت: ماہ مبارک رمضان میں معمولا نمازیں زیادہ پڑھی جاتی ہیں جن کی وجہ سے گھٹنوں پر زیادہ دباو پڑتا ہے سن رسیدہ افراد یا جوڑوں کے درد والے افراد میں درد کے اضافہ،ورم اور ناآرامی کا باعث بنتا ہے۔علاج: وزن کو کم کریں تاکہ گھٹنے زیادہ وزن اٹھانے پر مجبور نہ ہوں۔ ماہ رمضان سے پہلے اٹھنے بیٹھنے کی ورزش کریں تاکہ بدن ماہ مبارک کے لیے پہلے سے تیار ہو جائے اور نمازوں کے دوران درد اور ناآرامی کا احساس نہ ہو۔

.......

/169