12 جولائی 2013 - 19:30
رمضان میں صحت کے مسائل میں نمایاں کمی

کراچی ... ماہرین طب نے کہا ہے کہ رمضان المبارک میں بیماریوں کا بوجھ کم ہو جاتا ہے کیونکہ رمضان میں روزے رکھنے سے صحت کے مسائل میں نمایاں کمی آتی ہے۔ روزے صحت کے لئے بہترین ہوتے ہیں، ماہ رمضان میں عام انسان مختلف بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔

ابنا: ایک تحقیق کے مطابق کم کھانے سے اچھی صحت برقرار رہتی ہے۔ عام دنوں میں غیر ضروری اشیاء کھانے اور بسیار خوری سے جسم میں چربی بننے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ جسم میں موجود کولیسٹرول میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے جبکہ روزے رکھنے سے انسان مختلف بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے، روزہ کولیسٹرول کو کم کرتا ہے۔ جس سے وزن میں بھی نمایاں کمی ہو جاتی ہے۔ ماہرین طب کا کہنا ہے کہ عام دنوں کے مقابلے میں رمضان المبارک میں بیماریوں کے بوجھ میں35فیصد سے زائد کمی واقع ہوتی ہے۔ دریں اثنا ماہرین نے بتایا کہ پاکستان کا شمار دنیا کے ان ملکوں میں سر فہرست ہے جہاں صحت کے مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔ نصف صدی سے زائد گزرنے کے باوجود ملک سے پولیو، ٹی بی، ملیریا، نمونیا، سمیت دیگر اور امراض قلب ، بلند فشار خون، سمیت بچوں کی دیگر بیماریوں پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ عوام کی بڑی تعداد بلند فشار خون ،امراض قلب ،گردوں اور ذیا بطیس کی بیماریوں میں مبتلا ہے۔ جبکہ دیگر غیر متعدی بیماریاں بھی مختلف شہروں میں پھیل رہی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق سرکاری اسپتالوں میں 35سے40جبکہ نجی اسپتالوں میں 60فیصد سے زائد علاج کی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں جہاں حکومت بیماریوں کو کم کرنے میں ناکام رہی وہاں عوام کی بھی لاپروائی سامنے آتی ہے ۔18ویں ترمیم کے بعد بھی نظام صحت بدانتظامی کا شکار ہے یہی وجہ ہے اب تک جناح اسپتال سمیت دیگر اسپتالوں کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکا جس سے عام آدمی شدید متاثر ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں یو ایس ایڈ سمیت دیگر عالمی اداروں کے اشتراک سے چلنے والے صحت کے منصوبے قابل ذکر ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے یوم صحت کے حوالے سے پاکستان میں کئے جانے والے نیشنل ہیلتھ سروے رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں نوجوانوں میں18فیصد آبادی بلند فشار خون کے مرض میں مبتلا ہے۔ 45سال عمر کے 33فیصد افراد اس مرض کا شکار ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بلند فشار خون کی وجہ سے امراض قلب اور دیگر صحت کے مسائل ہولناک صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں عالمی ادارہ صحت نے کہا کہ یہ وہ صحت کے مسائل ہیں جن پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ کے وائس چانسلر پروفیسر مسعود حمید خان نے بتایا کہ پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں ہر دس میں سے ایک فرد بلند فشار خون کے باعث زندگی کی بازی ہار جاتا ہے انہوں نے کہا کہ ہمارے خطے میں صرف ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے سالانہ 15لاکھ افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں ان میں سے60فیصد کی عمریں 25سال سے زائد ہوتی ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ملک کی 18فیصد آبادی بلند فشار خون کا شکارذ ہے انہوں نے کہا کہ نمک کا کم استعمال اور واک کر کے بلند فشار خون کے مرض پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

.......

/169