4 جولائی 2013 - 19:30
اخوان المسلیمن کے خلاف فوج کی مہم جاری

مصری افواج نے صدر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد اخوان المسلین کے اعلی عہدے داروں کے خلاف آپریشن جاری رکھا ہے۔

ابنا: قاہرہ سے موصول رپورٹ کے مطابق، محمد مرسی اس وقت فوج کی حراست میں ہیں اور اخوان المسلین کے اعلی عہدے داروں کی گرفتاری کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اخوان المسلین کے سیکڑوں عہدے داروں کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کر دئے گئے ہیں۔ اخوان المسلین کے ترجمان جہاد الحداد کے مطابق، صدر مرسی کی پوری ٹیم کو قید کر لیا گیا ہے۔ دوسری جانب مصرمیں اخوان المسلمون نے عبوری صدر کی جانب سے مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے کے لئے مذاکرات کی پیشکش مسترد کردی ہے۔تنظیم نے محمد مرسی کو ملک کا قانونی صدر قراردیتے ہوئے آج ملک بھر میں اجتماعی دعا اور احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ مصری صدر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد ان کے مخالفین کا جشن اور حامیوں کا احتجاج جاری ہے۔ مخالفین آتش بازی کرکے ، جھنڈے لہرا کر ، نعرے لگاکر اور رقص کرکے اپنی خوشی کا اظہار کررہے ہیں۔ ادھر مرسی کے حامیوں نے دھرنے دیئے اور فوجی اقدامات کو جمہوریت کے ساتھ دھوکا قرار دیا۔ محمد مرسی کو ہٹائے جانے کے بعد سے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں میں اب تک 50 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔ اخوان المسلمون کے 300 سے زائد ارکان کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہوچکے ہیں۔سیکیورٹی اہل کاروں نے اخوان المسلمون کے سپریم لیڈر محمد بدیع اور سابق رہنما محمد عاکف سمیت درجنوں رہنماوٴں کو گرفتار کرلیا ہے۔ اخوان المسلمون کے ترجمان جہاد ال حداد نے قاہرہ میں پریس کانفرنس کے دوران خبردار کیا کہ ملک پولیس اسٹیٹ بننے کے دہانے پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محمد مرسی اب بھی مصر کے قانونی صدر ہیں۔ ترجمان نے واضح کیا کہ صدر مرسی اور ملک کے آئین سے بغاوت کرنے اور ان کی مدد کرنے والوں کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا جائے گا۔گزشتہ روز مصر کے عبوری صدر عدلی منصور نے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد پہلی تقریر میں اخوان المسلمون سمیت تمام گروپوں سے اپیل کی تھی کہ وہ نئی حکومت میں شریک ہوں۔......./169