ابنا: مصر ميں حکومت کے حامي اور مخالفين دونوں سڑکوں پر موجود ہيں - رپورٹوں ميں بتايا گيا ہے کہ قاہرہ کے تحرير اسکوائر پر صدر مرسي کے مخالفين موجود ہيں اور انہوں نے اعلان کيا ہے کہ فوج کي دي ہوئي مہلت ختم ہونے سے پہلے يہاں سے نہيں ہٹيں گے فوج کي جانب سے اڑتاليس گھنٹے کي مہلت کے اعلان کے بعد تحرير اسکوائر پر موجو د صدر مرسي کے مخالفين نے خوشياں منائي ہيں -قابل ذکر ہے کہ مصر ميں صدر مرسي کے حاميوں اور مخالفين کے درميان تصادم بڑھنے کے بعد فوجي قيادت نے پير کي رات ايک بيان جاري کرکے حکومت اور مخالفين کو عوام کے مطالبات کے مطابق عمل کرنے کے اڑتاليس گھنٹے کي مہلت دينے کا اعلان کيا ہےفوجي قيادت نے اپنے بيان ميں مصر کے موجودہ حالات پر تشويش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اڑتاليس گھنٹے کي مہلت ختم ہونے کے بعد فوج اپنے نقشہ راہ کے مطابق عمل کرے گي -فوج کے الٹي ميٹم کے جواب ميں صدر مرسي نے کہا ہے کہ فوج کا يہ بيان مصر ميں بدامني اور ہرج و مرج پر منتج ہوگا -صدر مرسي نے منگل کے روز ايک بيان جاري کرکے اعلان کيا ہے کہ حکومت اس بات کي اجازت نہيں دے گي کہ جمہوريت کي پيشرفت کا عمل روک ديا جائے اور ملک کو ماضي کي جانب واپس لے جايا جائے - انہوں نے اپنے اس بيان ميں کہا ہے کہ مصر کے عوام نے جمہوريت کے حصول کے لئے بھاري قيمت ادا کي ہے اور انہوں نے اپني تمام مشکلات و مسائل کي واحد راہ حل کے عنوان سے ڈيموکريسي کا انتخاب کيا ہے - اس بيان ميں کہا گيا ہے کہ حکومت نے قومي آشتي کے لئے بہت سے پروگرام تيار کئے ہيں اور ان پر عمل درآمد شروع ہوچکا ہے - بيان ميں ملک کي تمام سياسي جماعتوں اور گروہوں سے اپيل کي گئي ہے کہ اتحاد ويک جہتي کي حفاظت کريں اور جمہوريت کي راہ ميں رکاوٹيں نہ ڈاليں - مصر کے ايوان صدر نے اس بات پر زور ديا ہے کہ سيول جمہوري حکومت پچيس جنوري دو ہزار گيارہ کے انقلاب کا اہم ترين ثمرہ ہے اور کسي بھي حال ميں ملک کو ماضي ميں واپس ليجانے کي اجازت نہيں دي جائے گي-صدر مرسي اور ايوان صدر نے يہ موقف ايسي حالت ميں ظاہر کيا ہے کہ مصر ميں ايک ہفتے سے زائد عرصے سے حکومت کے حاميوں اور مخالفين کے مظاہرے اور ان کے درميان تصادم کا سلسلہ جاري ہے - مختلف شہروں ميں صدر مرسي کے حاميوں اور مخالفين کے درميان جھڑپوں ميں سولہ سے زائد افراد ہلاک اور چھے سو سے زائد زخمي ہوچکے ہيں -وزير خارجہ سميت صدر مرسي کي کابينہ کے متعدد وزرا مستعفي ہوچکے ہيں اور مختلف ملکوں کے تقريبا سو سفارتکار قاہرہ چھوڑ کے جا چکے ہيں -مصر ميں صدر مرسي کے مخالفين ان کے استعفے سے کم کسي چيز پر راضي نظر نہيں آتے - ان کا کہنا ہے کہ صدر مرسي نے ہر معاملے ميں اخوان المسلمين کے مفادات کو قومي مفاد پر ترجيح ديا ہے اور ملک کے اندر مذہبي انتہا پسندي بڑھنے کے اسباب فراہم کئے ہيں - مخالفين قاہرہ، اسکندريہ اور اسيوط سميت مختلف شہروں ميں اخوان المسلمين کے دفاتر بھي نذر آتش کرديئے ہيں - دوسري جانب صدر مرسي اور ان کے حاميوں کا کہنا ہے کہ مرسي کو عوام نے منتخب کيا ہے اور مدت پوري ہونے سے پہلے ان سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ، جمہوريت کا خون ہے - اخوان المسلمين نے مخالفين پر انقلاب کو سبوتاژ کرنے کے لئے بيروني اور سامراجي سازش پر عمل کرنے کا الزام لگايا ہے اور کہا ہے کہ عوام کے انقلاب کو سبوتاژ کرنے کي اجازت کسي بھي حال ميں نہيں دي جائے گي -......./169
1 جولائی 2013 - 19:30
News ID: 436150
مصر ميں حالات بدستور بحراني ہيں - مخالفين صدر مرسي کے استعفے پر مصر ہيں ، مرسي کے حامي اس مطالبے کو جمہوريت کے خلاف قرار دے رہے ہيں جبکہ فوجي قيادت نے سياسي جماعتوں کو اڑتاليس کي گھنٹے کي مہلت دي ہے اور اعلان کيا ہے کہ اگر جمعرات تک حکومت اور مخالفين کے درميان اتفاق رائے نہ ہوسکا تو فوج مداخلت کرسکتي ہے.