ابنا: قاہرہ میں اخوان المسلمین کے ہیڈکوارٹر پر پیٹرول بموں سے حملے کیے گئے۔ مختلف مقامات پر تشدد کے واقعات میں 6 افراد ہلاک اور 100سے زائد زخمی ہوئے ہیں ۔ مصر کا تحریر اسکوائر ایک بار پھر مظاہرین سے بھر گیا ہے۔ہزاروں افراد دارالحکومت قاہرہ کے تحریر اسکوائر پر ڈیرا ڈالے بیٹھے ہوئے ہیں۔ ۔ گزشتہ روز شروع ہونے والے مظاہروں کا سلسلہ رات میں بھی جاری رہا ۔ مخالفین کا مطالبہ ہے کہ مصری صدر استعفیٰ دے کر قبل از وقت صدارتی انتخابات کرائیں۔ حزب اختلاف نے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ صدر محمد مرسی نے حزب اختلاف کے قبل از وقت صدارتی انتخابات کرائے جانے کے مطالبے کو رد رک دیا ہے۔قاہرہ میں مخالفین نے حکمراں جماعت اخوان المسلمین کے ہیڈ کوارٹر پر دستی بموں سے حملہ اور پتھراوٴ کیا۔ دیگر شہروں میں بھی اخوان المسلمین کے دفاتر جلائے گئے ہیں۔حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ قاہرہ ، اسکندریہ اور پورٹ سعید سمیت 20 شہروں میں پھیل گیا ہے۔دوسری جانب مصری صدر کی حمایت میں بھی مظاہرے کیے جارہے ہیں۔ بعض مقامات پر صدر مرسی کے حامیوں اور مخالفین میں جھڑپیں بھی ہوئیں۔ صدارتی ترجمان کا کہنا ہے کہ پرامن احتجاج سب کا جمہوری حق ہے تاہم ہنگامہ آرائی اور سرکاری دفاتر پر حملے اور ان کو جلانے کے اقدامات برداشت نہیں کئے جائیں گے ۔ صدارتی ترجمان عمر عامر نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مصری بحران کو حل کرنے کے لئے حکومت مخالفین سے مذاکرات کے لئے تیار ہے۔...../169
30 جون 2013 - 19:30
News ID: 435731
مصر میں صدرمحمد مرسی کی صدارت کا ایک سال مکمل ہونے پر ان کی حمایت اور مخالفت میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے.