ابنا: عباس عراقچی نے سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل کے اس بیان کی کہ ایران شام میں مداخلت کر رہا ہے، شام میں ایرانی فورسسز کی موجودگی کی تردید کرتے ہوئے سعود الفیصل کے بیان کو انتہائی متضاد قرار دیا۔
عباس عراقچی نے تاکید کی کہ شام میں ایران کی مداخلت کا الزام ایک ایسے وقت لگایاجارہا ہے کہ سعودی عرب، بحرین میں کھلی فوجی مداخلت علاوہ تمام بین الاقوامی قوانین اور کنوینشنوں کے منافی اقدام کرتے ہوئے شامی دہشت گردوں کو انوع و اقسام کے ہلکے اور بھاری ہتیار فراہم کر رہا ہے اور شام کے نہتے عوام کے خلاف تکفیریوں کے جرائم میں برابر کا شریک ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس عراقچی نے سعودی عرب کو تمام مسلمانوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی کے تمام عناصر سرشار ملک قراردیتے ہوئے ریاض حکومت کو عالم اسلام کی مشکلات کے حل کی دعوت دی اور امید ظاہر کی کہ سعودی عرب شام کے مسئلے پر چار جانبہ گفتگو کے لئے ایران کی تجویز کا مثبت جواب دیگا۔
واضح رہے کہ سعودی حکام قطر، ترکی امریکہ، برطانیہ اور صہیونی حکومت کے ساتھ مل کر شامی دہشت گردوں کو سپورٹ کر رہے ہیں جس کا مقصد شام کو استقامت کے محور سے نکالنا ہے۔ تاہم شامی عوام، فوج اور حکومت کی کی ہشیاری کی بنا پر ان کی یہ سازش ناکام ہوگئی ہے۔
.......
/169