اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،عراقی اسلامی مزاحمت کے ترجمان جعفر الحسینی نے کہا کہ مرجعیت کے فتوے کے بعد رضاکاروں کو متحرک اور تربیت دے کر عراقی اسلامی مزاحمت نے تکفیری گروہوں کے حملوں کو روکنے اور بغداد کو بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا دہشت گردی کے خلاف جنگ کے جھوٹے بہانے کے تحت دوبارہ عراق میں داخل ہوا، تاہم مزاحمت نے اپنی عسکری صلاحیتوں کو بڑھایا تاکہ دوسرے امریکی قبضے کا مقابلہ کیا جاسکے۔
جعفر الحسینی نے کہا کہ غزہ کی جنگ اور ایران کے خلاف جارحیت کے دوران امریکی قابض افواج نے حشد الشعبی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تاکہ مزاحمت کے کردار کو محدود کیا جاسکے۔
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ عراقی اسلامی مزاحمت کسی بھی حکومتی یا سیاسی فریق کی جانب سے اعلان کردہ ٹائم لائن یا معاہدوں کی پابند نہیں ہوگی اور مزاحمت کا اسلحہ اس کے مجاہدین کے پاس امانت کے طور پر موجود رہے گا۔
آپ کا تبصرہ