ابنا: امریکہ میں منصفانہ اور آزاد انتخابات کرانا ایک تاریخی جدوجہد سے عبارت ہے۔ اٹھارویں صدی کے اواخر میں امریکہ کےقیام کے وقت صرف سفید فاموں کو جن کےپاس کافی مال ودولت ہوتی تھی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت تھی۔ آہستہ آہستہ یہ حق سیاہ فاموں اور عورتوں کو بھی دیا جانے لگا اور اٹھارہ سو چونسٹھ کی داخلی جنگ کے خاتمے کےبعد بردہ داری بھی ختم کردی گئی جس کے نتیجے میں کروڑوں سیاہ فام باشندوں کو آزادی مل گئي۔ اس کے باوجود ایک صدی تک زندگي کے مختلف شعبوں میں سیاہ فاموں کے خلاف بری طرح سے امتیازی رویہ برتا جاتا رہا خاص طور سے سیاسی اور انتخابی شعبوں میں انہیں شدید تعصب کا سامنا تھا۔ اس وقت تک امریکہ کی جنوبی ریاستوں نے ماضی کی روایت قائم رکھتے ہوئے انتخابات میں سیاہ فاموں کی شرکت کے لئے سخت قوانین وضع کئے۔مثال کے طور پر جو سیاہ فام باشندے مرکزی حکومت میں اپنا نمائندہ بھیجنا چاہتے تھے انہیں سب سے پہلے تو خواندگي کا امتحان دینا پڑتا تھا اور اپنی مالی توانائيوں کا اظہار بھی کرنا پڑتا تھا لیکن چونکہ سیاہ فاموں کی ا کثریت ناخواندہ اور غریب تھی وہ عام طور سے منتخب ہونے یا ووٹ دینے سے محروم رہتے تھے۔ امریکہ میں انسانی حقوق اور شہری حقوق کی تنظیموں منجملہ مارٹن لوتھر کنگ کی برسہا برس کی جدوجہد کے نتیجے میں سرانجام امریکی حکومت نے انیس سو پینسٹھ میں نیا قانون منظو کروایا جس سے اقلیتوں کے ووٹنگ حقوق کی ضمانت فراہم ہوتی ہے۔اس قانون کے مطابق سیاہ فام باشندے بغیر کسی روک ٹوک کے سفید فاموں کی طرح ہی ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ اس قانون میں ایک اہم شق یہ تھی کہ امریکی ریاستوں کو بالخصوص جہاں نسل پرستی کا خطرہ ہے فڈرل حکومت سے اجازت لئے بغیر انتخابات کے قوانین میں تبدیلی لانے کی اجازت نہین تھی۔ یہ شق دراصل اس بات کی ضمانت تھی کہ جنوب کی پندرہ ریاستیں سیاہ فاموں سے حق رائے دہی سلب نہ کرلیں۔ اب جبکہ اس قانون کو پچاس برس گذررہے ہیں امریکہ کے سپریم کورٹ نے یہ شق کالعدم قراردے دی ہے۔ امریکہ کے سب سےبڑے قانونی ادارے یعنی سپریم کورٹ نے دعوی کیا ہےکہ انیس سو پینسٹھ کا قانوں پرانا ہوچکا ہے اور کانگریس کو اس ضمن میں نئے قوانین وضع کرنے چاہیں اور جب تک نئے قوانین منظور نہیں ہوجاتے انیس سو پینسٹھ کا قانون کالعدم رہے گا۔ چونکہ اب کانگریس اور سینیٹ میں ری پبلیکن اور ڈیموکریٹس کے اختلافات اپنے عروج پر پہنچ چکے ہيں لھذا یہ امید کرنا عبث ہےکہ مستقبل قریب میں امریکہ میں انتخابات کا کوئي نیا قانونی منظور ہوسکتا ہے تاکہ سیاہ فاموں کے حق رائے دہی کی حفاظت کی جاسکے۔ اگر امریکی کانگریس جلد از جلد کوئي تدبیر نہیں کرتی ہے تو امریکہ میں انسانی حقوق تنظیموں کی اہم اور تاریخ کامیابی قصہ پارینہ بن جاے گي اور اس ملک کے انتخابی نظام میں ایک اور بحران کھڑا ہوجائے جو کہ پہلے ہی سے متعدد مسائل کا شکار ہے۔......./169
25 جون 2013 - 19:30
News ID: 433905
امریکہ میں انتخابات کے تعلق سے نسل پرستی کے خاتمے کے نصف صدی بعد امریکی سپریم کورٹ نے نسلی اقلیتوں کے حق رائے دہی کی حفاظت کرنے والا قانون ختم کردیا ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد وہ ریاستیں جن پر نسل پرستی کا الزام ہے ان کے لئے ضروری نہیں ہوگا کہ وہ ریاست میں انتخابات کے قوانین بناتے ہوئے فڈرل حکومت کے قوانین کی پابندی کریں۔ اس طرح نئے قوانین کی منظوری تک یہ خدشہ ظاہر کیا گيا ہےکہ نسلی اقلیتوں کے خلاف امتیازی رویہ برتا جاسکتا ہے۔