ابنا: سلامتي کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان کے مستقل مندوب ظاہر طنين نے کہا کہ حکومت افغانستان ، قطر کے دارالحکومت دوحہ ميں مستقل نمائندہ دفتر يا اسلامي امارت کے دفتر کو کبھي تسليم نہيں کرے گا- انہوں نے افغانستان کے اندروني معاملات ميں قطر کي مداخلت پر کڑي نکتہ چيني کرتے ہوئے کہا کہ دوحہ ميں طالبان کے پوليٹيکل آفس، کو کسي حکومت يا دہشتگردانہ سرگرميوں کي حمايت کا مرکز نہيں بننا چاہيے- ظاہر طنين نے کہا کہ اس دفتر کو عالمي قوانين کا طابع ہونا چاہيے اور افغانستان کے اقتدار اعلي، ارضي سالميت اور خود مختاري کے لئے خطرہ نہ بنے- اقوام متحدہ ميں افغانستان کے مندوب نے کہا کہ انکي حکومت نے امن مذاکرات ميں شرکت نہ کرنے اور امريکہ کےساتھ سيکورٹي معاہدے کے بارے ميں بات چيت کا سلسلہ بند کرنے کا فيصلہ کيا ہے- انہوں نے پاکستان سے بھي اپيل کي کہ وہ افغانستان ميں تعميري کردار ادا کرے- انہوں نے الزام لگايا کہ پاکستان ميں اب بھي بہت سے عناصر دہشتگردوں کو خارجہ پاليسي کے ايک ٹول کے طور پر استعمال کرنے کي کوشش کر رہے ہيں- واضح رہے کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ ميں طالبان کے دفتر نے منگل سے باقائدہ کام کرنا شروع کرديا ہے......../169
21 جون 2013 - 19:30
News ID: 432203
اقوام متحدہ ميں افغانستان کے مستقل نمائندے نے کہا کہ ان کا ملک طالبان کي اسلام امارت نامي کسي چيز کو تسليم نہيں کرتا-