ابنا: قطرمیں طالبان کے دفتر پر طالبان کے جھنڈے اور نام پر امریکہ اور افغان حکومت کے درمیان تنازعہ پیدا ہونے کے بعد امریکہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قطر میں طالبان کا دفتر سفارت خانہ نہیں اور نہ ہی افغان طالبان خود مختار ہیں۔ جان کیری آج قطر پہنچیں گے مگر طالبان سے نہیں ملیں گے۔ سلامتی کونسل میں امریکی نائب سفیر روزمیری ڈی کارلو نے کہا کہ قطر میں طالبان دفترسفارت خانہ نہیں، نہ ہی طالبان کو حکومت،امارات یا خود مختار سمجھا جائے، نہ ہی امارات اسلامیہ افغانستان کے نام کی تختی کو تسلیم کرتے ہیں۔قطر نے غلطی تسلیم کرتے ہوئے متنازعہ تختی کو ہٹا دیا ہے۔ انھوں نے کہاکہ طالبان دفتر کا قیام افغان تنازعہ کے سیاسی حل کی جانب اہم قدم ہے۔افغان صدر نے طالبان کے دفتر پر جھنڈا اور نام کی تختی لگانے پر بات چیت کا عمل معطل کرنے کااعلان کیا تھا۔ ادھر محکمہ خا رجہ کی ترجمان جین ساکی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ طالبان سے مذاکرات شروع نہیں ہو ئے لیکن جب ہوں گے تو قیدیوں کے تبادلے سمیت کئی امور پر گفتگو ہوگی۔ انھوں نے کہاکہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری آج قطر پہنچیں گے تاہم وہ طالبان سے ملاقات نہیں کریں گے۔ ترجمان نے کہاکہ افغان طالبان سے مذاکرات کی قیادت پاکستان اور افغانستان کے خصوصی نمائندے جیمز ڈوبنز کریں گے جو جان کیری کے ساتھ جا سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق امریکہ کہتا کچھ ہے اور کرتا کچھ اور ہے امریکہ کے طالبان سے پہلے سے ہی خفیہ روابط موجود ہیں اور طالبان نے جو کچھ کیا یا جو کچھ کررہے ہیں وہ سب امریکی مرضی اور امریکی مفادات کے تحت کیا ہے اور اب ان ممالک کے چہرے بھی صاف نظر آگئے ہیں جو دہشت گردوں کی پشتپناہی کررہے ہیں جن میں قطر اور سعودی عرب سر فہرست ہیں اور القاعدہ اور طالبان ان کی مٹھی میں ہیں اور قطر اور سعودی عرب امریکہ کی مٹھی میں ہیں جس سے آسانی کے ساتھ یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ امریکہ خود دہشت گردوں کی مدد کررہا ہے اور شام میں یہ بات تومزيد روشن ہوگئی ہے۔......./169
21 جون 2013 - 19:30
News ID: 432195
قطرمیں طالبان کے دفتر پر طالبان کے جھنڈے اور نام پر امریکہ اور افغان حکومت کے درمیان تنازعہ پیدا ہونے کے بعد امریکہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قطر میں طالبان کا دفتر سفارت خانہ نہیں اور نہ ہی افغان طالبان خود مختار ہیں۔ جان کیری آج قطر پہنچیں گے مگر طالبان سے نہیں ملیں گے۔