18 جون 2013 - 19:30
جي ايٹ سربراہي اجلاس کے خلاف مظاہرہ

آئرلينڈ کے سياسي کارکنوں نے جي ايٹ گروپ کے سربراہي اجلاس کے لئے کئے جانے والے سيکورٹي انتظامات کي شديد الفاظ ميں مذمت کي ہے-

ابنا: دو ہزار سياسي کارکنون نے جي ايٹ کے اجلاس کے موقع پر مظاہرے کئےاور سيکورٹي انتظامات کي مذمت ميں نعرے لگائے جس کے نتيجے ميں لوگوں کو شديد پريشاني کا سامنا کرنا پڑا ہے- کہا جارہا ہے کہ شمالي آئرلينڈ کي پوليس نے ساڑھے چھے کلومٹير کا ايک آہني حصار اس مقام کے اطراف ميں نصب کرديا ہے جہاں جي ايٹ کا سربراہي اجلاس ہورہا ہے-چار سو سيکورٹي افسران اس سيکورٹي حصار کي نگراني کر رہے ہيں اور مظاہرين کو اس کے قريب آنے کي اجازت نہيں دي جارہي- جي ايٹ کے رکن ملکوں کا سربراہي اجلاس آئرلينڈ کے چھوٹے سے شہر انيسکلن کے پر تعيش ہوٹل ميں گزشتہ روز شروع ہوا ہے اور آج بھي جاري رہے گا- امريکہ ، برطانيہ، جرمني، فرانس، اٹلي، جاپان، روس اور کينيڈا جي ايٹ کے رکن ممالک ہيں-پير کے روز بھي دو ہزار سے زيادہ لوگوں نے آئرلينڈ کے دارالحکومت بلفاسٹ ميں جي ايٹ کے سربراہي اجلاس کے خلاف مظاہرے کئے تھے-...../169