ابنا: اطلاعات کے مطابق ترکی میں مظاہروں کے دوران وزیراعظم رجب طیب اردوغان نے حکومت مخالفین کے بعض نمائندوں سے ملاقات کی ہے۔اس سے پہلے اردوغان نے کہا تھا کہ مظاہرین کے مقابل ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔ایسی امید کی جارہی تھی کہ مخالفین کے نمائندوں سے رجب طیب اردوغان کی ملاقات کے بعد ترکی میں بدامنی اور مظاہروں کی شدت میں کمی آجائے گي لیکن حالات سے پتہ چلتا ہے کہ فی الحال مظاہروں کی شدت میں کمی آنے کا امکان نہیں ہے اور دوسری طرف مظاہرین کے مقابل حکومت کے موقف میں بھی کسی لچک کے آثار نظر نہیں آتے ہیں جبکہ بعض رپورٹوں کے مطابق پولیس کے تشدد کے نتیجے میں ایک اور شخص ہلاک ہوگيا ہے اور ہلاک شدگان کی کل تغداد بڑھ کر اب 5 ہوگئي ہے۔اطلاعات کے مطابق ترک وزیراعظم رجب طیب اردوغان نے مظاہرین کو انتباہ دیا ہے کہ وہ 24 گھنٹے کے اندر تقسیم چوک کو خالی کردیں لیکن مظاہرین نے اردوغان کے اس انتباہ پر کوئي توجہ نہیں دی ہے۔ رجب طیب اردوغان اور مخالفین کے درمیان جاری تنازعہ نے ترک حکومت کو ایک عجیب مشکل میں ڈال دیا ہے۔ ترک وزیر اعظم رجب طیب اردوغان کو بے مثال سیاسی بحران اور احتجاج کا سامنا ہے اور اس بحران کو ترکی کی معاصر تاریخ کا شدید ترین سیاسی بحران اور احتجاج کہا جاسکتاہے۔ایک سروے کمپنی " گنار" کی طرف سے کرائے گئے سروے کے مطابق 58 فی صد افراد نے اردوغان کو ترکی میں ہونے والے حالیہ احتجاج کا ذمہ دار قراردیا ہے اور ترکی کی اہم شخصیات اور ممتاز سیاست دانوں نے بھی مظاہرین کے خلاف اردوغان کی جارحانہ پالیسیوں کو بالواسطہ طور پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان شخصیات میں ترکی کے صدر عبد اللہ گل بھی شامل ہیں جو حکومت مخالفین سے مقابلے کے حوالے سے اپنی پالیسی اور موقف رجب طیّب اردوغان سے الگ ظاہر کرنا چاہتےہیں حتی ترکی کے نائب وزیراعظم بلند آرینچ نے حکومت مخالف مظاہروں میں زخمی ہونے والوں سے معذرت خواہی کی ہے یہ ایسی حالت میں ہے کہ ترکی کے مختلف شہروں میں حکومت مخالف مظاہروں کاسلسلہ بدستور جاری ہے اور کل رات بھی تر کی کے دارالحکومت انقرہ میں بھی وسیع پیمانے پر مظاہرہ ہوا مظاہرین نے ترک وزیر اعظم رجب طیب ادروغان سے ایک پھر ان کے استعفاکا مطالبہ کیا اسی طرح مظاہرین نے جنھوں نے استنبول کےگزی پارک پر اپنا قبضہ جما رکھاہے یہ اعلان کیاہے کہ اس پارک سے نہیں ہٹیں گے جبکہ ترک وزیر اعظم نے سخت الفاظ میں انتباہ دیاہے کہ گزی پارک خالی کردیں یاد رہے کہ تقریبا دو ہفتہ سے ترکی میں حکومت مخالف مظاہرے ہو رہے ہیں اور مظاہرین ترک وزیر اعظم سے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہےہیں۔ڈاکٹروں کی یونین کی رپورٹ کے مطابق حکومت اور مظاہرین کے مابین ہونے والی جھڑ پوں میں اب تک کم از کم پانچ افراد ہلاک اور پانچ ہزار کے قریب زخمی ہوۓ ہیں۔......./169
14 جون 2013 - 19:30
News ID: 429796
ترکی میں وزیر اعظم رجب طیب اردوغان نے حکومت مخالفین کے نمائندوں سے ملاقات اور مذاکرات میں ناکامی کے بعد مظاہروں میں ایک بار پھر شدت آگئی ہے۔