ابنا: حالیہ دنوں میں شام کی فوج نے جو کامیابیاں اور مسلح دہشتگردوں پر فتح حاصل کی ہے اس کو بہت سراہا جارہا ہے اور اہم قرار دیا جارہا ہے۔ شام کے وزیر اعظم وائل الحلقی نے القصیر شہر میں دہشتگردوں کی شکست کو ایک اہم موڑ اور شام کی فوج کی مزید کامیابیوں اور فتوحات کا پیش خیمہ قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ القصیر شہر میں قیام امن سارے شام میں ان طاقتوں کی شکست ہے جو مسلح دہشتگردوں کو مالی ، معنوی اور تشہیراتی مدد فراہم کررہی ہیں۔ انھوں نے زور دے کر کہا ہے کہ تکفیری دہشتگرد گروہوں پر شام کی فوج کی اہم کامیابی شام بھر میں قیام امن کے سلسلے میں بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ انھوں نے کہا کہ شام کی فوج نے ہمیشہ اپنے وطن اور عوام کا دفاع کیا ہے۔ شام کی پارلیمنٹ کے رکن شریف شحادہ نے القصیر کو مسلح دہشتگردوں کے گڑھ سے تعبیر کیا اور س شہر پر شام کی فوج کی فتح اور اسے دہشتگردوں کے قبضے سے آزاد کرائے جانے کو شام میں دہشتگرد گروہوں کے اصل اڈے کے خاتمے کے مترادف قرار دیا۔شریف شحادہ نے مزید کہا کہ القصیر شہر پر شام کی فوج کے قبضے سے ہمارے ملک کی فوج کی صلاحیت اور طاقت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اور شام کے دوسرے صوبوں میں موجود مسلح دہشتگردوں کو اب یقین ہوچکا ہےکہ شام کی فوج کے ساتھ ان کی جنگ کا نتیجہ ان کی اپنی شکست کے سوا کچھ اور برآمد نہیں ہوگا۔شریف شحادہ نے مزید کہا کہ حالیہ دو برسوں کے دوران مسلح دہشتگردوں کی حمایت کرنےوالے اب اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ وہ اسلحہ اور بدامنی کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکتے ہیں اور شام کی فوج کے ساتھ مسلح دہشتگرد گروہوں کا موازنہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔دریں اثناء شام کی فوج نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے جس میں آیا ہے کہ شام کی مسلح افواج القصیر شہر میں امن قائم کرنے میں کامیاب ہوچکی ہے۔ اور اس شہر کو مسلح دہشتگردوں سے آزاد کرا لیا گيا ہے۔ شام کی فوج نے قصیر شہر کی فتح کو صیہونی حکومت اور ان ممالک کے لۓ پیغام قرار دیا ہے جو شام میں دہشتگردوں کی حمایت کرتے ہیں۔دریں اثناء شام کے اعلی حکام نے بھی کہا ہےکہ قصیر شہر کے بعد حلب اور ریف دمشق کے زیادہ تر علاقوں کو دہشتگردوں سے آزاد کرا لیا گيا ہے اور شام کی فوج نے ان دونوں شہروں کو مسلح دہشتگردوں سے مکمل طور پر آزاد کرانےکو اپنے ایجنڈے میں شامل کرلیا ہے۔بہت سے مبصرین کا کہنا ہےکہ شام کے شہر قصیر کی آزادی کے بعد اس ملک میں فوجی توازن بشار اسد کی حکومت کے حق میں ہوگيا ہے۔ اور اس حکومت کو فوجی برتری حاصل ہوگئي ہے۔شام کے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ فوج کی مسلسل کامیابیوں کے بعد اس ملک کے صدر بشار اسد عنقریب تقریر کریں گے جس میں وہ مختلف مسائل کا ذکر کریں گے۔ ان ذرائع کا کہنا ہےکہ بشار اسد اپنے عوام کو اس تقریر میں قصیر کے اسٹریٹجک علاقے میں فوج کی کامیابی کی مبارکباد پیش کریں گے۔ان ذرائع کا کہنا ہے کہ شام کے صدر اپنی اس تقریر میں فوج کو ان تمام علاقوں میں آپریشن جاری رکھنے کی بات کریں گے جہاں مسلح دہشتگردوں کے اڈے ہیں اور وہ اپنی اس تقریر میں اپنے ملک کے خلاف ہونے والی تمام سازشوں کو مکمل طور پر ناکام بنانے پر مبنی شام کی حکومت ، فوج اور عوام کے تقدیر ساز ارادے اور فیصلے پر بھی تاکید کریں گے۔بہرحال شام کی مجموعی صورتحال کو مدنظر رکھتےہوئے کہا جاسکتا ہے کہ اس ملک میں مسلح دہشتگردوں اور نتیجتا ان کے حامی یورپی اور بعض عرب ممالک کی حتمی شکست اور شام کی فوج کی یقینی کامیابی کا آغاز ہوچکا ہے۔شام کی تازہ صورتحال پر پاکستان کے ممتاز صحافی اور تجزیہ کار جناب عمر ریاض عباسی کا انٹرویو سننے کے لۓ نیچے کلک کیجۓ۔......./169
8 جون 2013 - 19:30
News ID: 427912
شام کے صوبۂ حمص میں واقع القصیر شہر کی فتح کے ساتھ ہی یورپ اور اسرائیل کے حمایت یافتہ مسلح دہشتگردوں پر شام کی فوج کی مکمل فتح کا آغاز ہوچکا ہے۔