ابنا: سنیچر کی شب دارالحکومت انقرہ کے مرکزی علاقے میں حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین نے جب اردوگان کے دفتر اور پارلیمان کی طرف مارچ شروع کیا تو پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور پانی کا استعمال کیا۔دوسری جانب استنبول کے نواحی علاقے سلطان غازی میں بھی مظاہرے ہوئے اور مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔استنبول کے تقسیم چوک پر جہاں 31 مئی سے مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا مظاہرین جمع ہیں اور وزیر اعظم طیب اردوگان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔اس سے قبل ترکی کے وزیرِاعظم طیب اردوگان نے کہا تھا کہ ملک میں جاری مظاہرے غیر قانونی ہیں اور انہیں فوری ختم کر دینا چاہیے۔واضح ہو کہ ملک گیر پیمانے پر مظاہروں اور احتجاج کے باوجود، ترک وزیرِاعظم استنبول میں تاریخی عوامی پارک کی جگہ پر سلطنتِ عثمانیہ دور کی بیرک اور شاپنگ سنٹر بنانے کے منصوبے پر بضد ہیں۔استنبول میں ایک عوامی پارک کی جگہ پر سلطنتِ عثمانیہ دور کی بیرکس اور اس میں ایک شاپنگ سینٹر کی تعمیر کے حکومت کے منصوبے کا راز فاش ہونے کے بعد پورے ملک میں مظاہرے شروع ہو گئے جو ابھی بھی جاری ہیں۔واضح رہے کہ ملک میں حالیہ مظاہرے گزشتہ کئی سالوں میں ترکی میں سب سے بڑے اور منظم حکومت مخالف مظاہرے سمجھے جاتے ہیں۔ملک کے مختلف شہروں میں مظاہرین وزیرِاعظم کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وہ وزیرِاعظم طیب اردوگان کی حکومت پر مطلق العنانیت کا الزام لگاتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ ملک میں آمریت کے علاوہ ہمسایہ ممالک کے داخلی امور میں مداخلت کر رہے ہیں۔اطلاعات کے مطابق ان مظاہروں کے دوران چار افراد ہلاک، سینکڑوں زخمی اور ہزاروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔......./169
8 جون 2013 - 19:30
News ID: 427824
ترکی کے دارالحکومت انقرہ ميں پولس نے فوری طور پر مظاہروں کو بند کرنے کے وزیر اعظم رجب طیب اردوگان کے آمرانہ حکم کے خلاف سڑکوں پر نکلے لوگوں پر حملہ کیا ہے۔