ابنا: پير کو انقرہ ميں ہزاروں کي تعداد ميں لوگوں نے امريکي سفارتخانے کے سامنے بھي مظاہرے کئے - اردوغان حکومت کے ہزاروں مخالفين نے انقرہ ميں امريکي سفارتخانے کے سامنے اجتماع کيا جنہيں منتشر کرنے کے لئے پوليس نے آنسو گيس اور پاني کي توپوں کا استعمال کيا- عوام کي ايک تعداد نے پير کو ترکي کے سرکاري ٹيليويژن نشريات کي عمارت کے سامنے بھي اجتماع کيا اور مظاہرين کے بارے ميں وزير اعظم رجب طيب اردوغان کے اشتعال انگيز بيان کي مذمت کي –قابل ذکر ہے کہ رجب طيب اردوغان نے اتوار کو اپني ايک تقرير ميں جو سرکاري ٹي وي سے نشر ہوئي تھي، مظاہرين کو انتہا پسند اور تخريبکار اقليت کہا تھا –انہوں نے اپني اس تقرير ميں اسي کے ساتھ کہا تھا کہ ان کي حکومت بقول ان کے تعمير نو کے پروگراموں پر عمل در آمد جاري رکھے گي –ايک اور رپورٹ ميں بتايا گيا ہے کہ حکومت مخالف مظاہرين نے شہر ازمير ميں حکمراں جسٹس اينڈ ڈيولپمنٹ پارٹي کے دفتر کو نذر آتش کرديا ہے –ہمارے نمائندے کے مطابق حکومت مخالف مظاہرين کے ايک گروہ نے اتوار کي رات شہر ازمير کے محلے کارشي ياکا ميں اجتماع کيا اور آدھي رات کے بعد رجب طيب اردوغان کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے حکمراں جماعت کے دفتر پر ہلہ بول ديا –ترکي کے مختلف شہروں سے ہمارے نمائندوں کي رپورٹوں کے مطابق اتوار کي رات بھي دارالحکومت انقرہ اور استنبول سميت مختلف شہروں ميں مظاہرين اور سيکورٹي اہلکاروں کے درميان تصادم ميں سيکڑوں افراد زخمي ہوگئے –رپورٹ کے مطابق استنبول کا تقسيم اسکوائر اور اس کے اطراف کے علاقے اتوار کي رات مظاہرين اور سيکورٹي دستوں کے درميان ميدان جنگ کا نقشہ پيش کررہے تھے اور مشتعل مظاہرين اور سيکورٹي اہلکاروں کے درميان آنکھ مچولي کا سلسلہ رات دير گئے تک جاري رہا –ترکي ميں چھے دن سے حکومت کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاري ہے اور مظاہرين وزير اعظم رجب طيب اردوغان کے استعفے کا مطالبہ کررہے ہيں - استنبول کے تقسيم اسکوائر کے قريب ايک پارک کو شاپنگ سينٹر ميں تبديل کرنے کے خلاف چھے دن قبل شروع ہونے والے مظاہرے، اردوغان حکومت کے خلاف ملک گير تحريک ميں تبديل ہوتے نظر آرہے ہيں –شام کے امور ميں مداخلت اور شام ميں سرگرم دہشتگردوں کي حمايت بند کرنا ترک عوام کے اہم مطالبات ميں شامل ہے -
چھے دن سے جاري مظاہروں کے دوران پوليس کے تشدد ميں کئي افراد کے ہلاک ہونے کي بھي خبر ہے جبکہ ہزاروں افراد زخمي ہوچکے ہيں - اس کے علاوہ پوليس دو ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کرچکي ہے-
.......
/169























