ابنا: سعودي عرب کي سيکورٹي فورس نے مشرقي شہروں العواميہ اور القطيف ميں مظاہرين پر حملہ کردياد جس ميں ايک چودہ سالہ سعودي نوجوان عبداللہ عيسي البدن بري طرح زخمي ہوگيا۔
اس درميان العالم نے خبردي ہے کہ سعودي شہريوں نے قطيف ميں بڑا مظاہرہ کرکے آل سعود حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور سياسي قيديوں کي رہائي کا مطالبہ کيا - سعودي مظاہرين نے اسي طرح آل سعود حکومت سے مطالبہ کيا کہ وہ بحرين سے اپني فوج واپس بلائے۔ مظاہرين نے آل سعود حکومت پر الزام لگايا کہ وہ بحرين ميں عام شہريوں کے خلاف جرائم کا ارتکاب کررہي ہے۔
قطيف شہر کے باشندوں نے آل سعود حکومت کي سيکورٹي فورس کے اہلکاروں کے ظالمانہ اقدامات ک مذمت کرتے ہوئے بين الاقوامي اداروں سے بھي مطالبہ کيا کہ وہ سعودي جيلوں ميں سياسي قيديوں پر جو مظالم ڈھائے جارہے ہيں ان سے باخبر ہونے کے لئے اس ملک کا سفر کريں - سعودي عرب کي الشرق انساني حقوق نامي تنظيم نے اپنے بيان ميں کہا ہے کہ سعودي عرب کي سيکورٹي فورس اور فوج کے اہلکار مشرقي علاقوں ميں نوجوانوں پر بلااشتعال فائرنگ کرتے ہيں يا پھر انہيں گرفتار کرکے جيلوں ميں ڈال ديتے ہيں - بنابريں عالمي اداروں اور انساني حقوق کي بين الاقوامي تنظيموں کو چاہئے کہ وہ سعود ي باشندوں کي حمايت کے لئے کوئي عملي قدم اٹھائيں۔
اس درميان سعودي عرب کي وزارت داخلہ ميں سيکورٹي شعبے کے ترجمان نے خبردي ہے کہ اس ملک کي ايک جيل ميں ايک سعودي سيکورٹي اہلکار ہلاک ہوگيا ہے بتايا جاتا ہے يہ سيکورٹي اہلکار جيل ميں بند ايک قيدي کے ساتھ جھڑپ ميں مارا گيا - دوسري طرف سعودي عرب کي اسلامي پارٹي امت کے سکريٹري جنرل محمد بن سعد ال مفرح نے کہا ہے کہ اس ملک کي جيلوں ميں تيس ہزار سے زائد سياسي قيدي اپني زندگي کے دن کاٹ رہے ہيں - سعودي عرب کي امت پارٹي کے سکريٹري جنرل نے کہاکہ سعودي عرب کے سياسي قيديوں کو آل سعود حکومت کي جيلوں سے اپني رہائي کے لئے اپنے مکل ےک عوام کي حمايت کي ضرورت ہے۔
سعودي عرب کي جيلوں ميں بند سياسي قيديوں نے بھي اپنے اہل خانہ کے نام خط ميں لکھا ہے کہ آل سعود حکومت نے نہ صرف يہ کہ ان کي آزادي کو سلب کرليا ہے بلکہ وہ اپنے مظالم اور وحشيگري کے ذريعے ان کے بنيادي حقوق کو بھي کھلم کھلا پائمال کررہي ہے - جس کےنتيجے ميں اب تک کئي سياسي قيدي جيل ميں ہي انتقال کرگئے ہيں۔
واضح رہے کہ سعودي عرب ميں گذشتہ دو سال سے ملک ميں تفريق آميز پاليسيوں کے خلاف پرامن مظاہرے ہورہے ہيں مظاہرين مطالبہ کررہے ہيں کہ تفريق آميز پاليسيوں کو ختم کيا جائے اور ملک ميں جمہوري اصلاحات نافذ کي جائيں ان مظاہرين کا ايک بنيادي مطالبہ يہ بھي ہے کہ جيلوں ميں بند سياس قيديوں کو فوري طور پررہا کيا جائے - دوسري طرف سعودي عرب کي سيکورٹي فورس ان مظاہرين پر حملے اور طاقت کا استعمال کرکے اب تک دسيوں عام شہريوں کو شہيد اور زخمي کرچکي ہے۔
.......
/169