اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عراقی رکنِ پارلیمنٹ قصی عباس الشبکی نے موصل اور عراق کے دیگر علاقوں میں حشد الشعبی کے ٹھکانوں پر ہونے والے حالیہ حملوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں ایسے وقت میں کی گئی ہیں جب عراقی حکومت سعودی عرب سمیت ہمسایہ اور علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے بقول، بظاہر یہ حملے پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے ہیں۔
الشبکی نے ان حملوں کو عراق کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان علاقوں سے میزائل داغے جانے سے متعلق کیے جانے والے دعووں کی کوئی حقیقی بنیاد نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان حملوں کا زیادہ تر نشانہ حشد الشعبی کی بریگیڈ 30 بنی ہے اور اس علاقے کی جغرافیائی اہمیت بھی اسے نشانہ بنانے کی ایک ممکنہ وجہ ہوسکتی ہے۔
عراقی رکنِ پارلیمنٹ نے بعض حلقوں کی جانب سے حقائق کو مسخ کرنے اور علاقے کو دوبارہ ان حالات کی طرف دھکیلنے کی کوششوں سے خبردار کیا جن میں اسے دہشت گرد تنظیم داعش کے قبضے سے آزاد کرائے جانے سے پہلے کے حالات کا سامنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقے پر بعض قوتوں کی نظریں بھی ہیں۔
الشبکی نے سهلِ نینویٰ کی حساس صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ علاقہ عراق کے مختلف مذہبی اور نسلی اقلیتی گروہوں کا مسکن ہے، اس لیے یہاں امن و امان کا تحفظ انتہائی اہم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ علاقے میں عدم استحکام پیدا کرنا یا وہاں امن قائم رکھنے والی فورسز کو کمزور کرنا بدامنی میں اضافے اور ماضی کے خطرات کی واپسی کا راستہ ہموار کرسکتا ہے۔
قصی عباس الشبکی نے حکومت اور پارلیمنٹ سے حشد الشعبی کے ٹھکانوں پر ہونے والے مسلسل حملوں کے خلاف سنجیدہ اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بغداد کو عراق کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور ملک کے مختلف علاقوں بالخصوص سهلِ نینویٰ کے امن و تحفظ کا بھرپور دفاع کرنا چاہیے۔
آپ کا تبصرہ