20 مئی 2013 - 19:30
21 مئی 1991ء تاریخ کشمیر کا خونین دن

محتاط اندازوں کے مطابق اس دن 72 لوگ جان بحق ہوئے اور حول میں عین اُسی جگہ جہاں فائرنگ ہوئی تھی، اس خونین واقعہ کی یادگار، تاریخ کی خاموش گواہ، دیوار گریہ کھڑی ہے، جس پر اس روز جان بحق ہونے والے تمام افراد کے نام درج ہیں۔

ابنا: 23 برس قبل 21 مئی 1991ء کو عبد الرشید میر ساکن نوہٹہ اپنے گھر میں وقت گزاری کر رہا تھا کہ اچانک باہر قابض فورسز کی بھاری جمعیت نمودار ہوئی جنہوں نے پورے شہر خاص کو محاصر میں لے لیا تھا، اس سے پہلے کہ کوئی سمجھ پاتا کہ کیا ہورہا ہے شہر میں سخت ترین کرفیو نافذ کردیا گیا، عبد الرشید کے مطابق ہر کوئی اس شش و پنج میں تھا کہ آخر اچانک کرفیو عائد کرنے کی وجہ کیا ہے، تبھی 11 بجے کے آس پاس کرفیو کی وجہ سے برپا سناٹے کو چیرتی ہوئی صدا بلند ہوئی کہ میر واعظ کشمیر مولوی محمد فاروق کو اپنے گھر میں ہی گولیوں کا نشانہ بنا ڈالا گیا ہے، یہ صدائیں راجوری کدل کی ایک مسجد سے بلند کی جارہی تھیں، عبد الرشید کے مطابق کرفیو کے باوجود اس اعلان کے بعد ایک عجیب قسم کی بے چینی سنسان سڑکوں پر نمایاں تھی، ہم نے کئی لوگ ایسے دیکھے جن کو گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہ دی گئی تو گھروں سے ہی چیخ و بقا کی آوازیں اس طرح گونج رہیں تھی کہ جیسے گھروں میں ہی کسی کی موت ہوگئی ہو۔ لوگ کرفیو کے حصار سے نکل کر صورہ اسپتال جانے کی کوششوں میں لگ گئے جہاں گولیوں سے چور مولوی محمد فاروق کو لے جایا گیا تھا۔

اسپتال کے احاطے میں روتے بلکتے لوگوں کا ایک اژدھام جمع ہوگیا اور جوں ہی اسپتال سے یہ خبر باہر آئی کہ میرواعظ کو لگنے والی گولیاں اپنا کام کر گئی ہیں تو مجمعے سے چیخ و پکار کی بلند صدائیں سنائی دینے لگیں، عبد الرشید کے مطابق مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ شہر خاص کے کم ہی لوگ کرفیو کی وجہ سے اسپتال پہنچ پائے تھے، اسپتال میں موجود زیادہ تر لوگوں کی تعداد زونی مر، صورہ و ملحقہ علاقوں سے تھی، لیکن ایک بات تھی کہ پورا شہر حزن و ملال میں ڈوبا ہوا تھا، بین الاقوامی سطح پر اس خبر کو سب سے پہلے اے ایف پی نے بریک کیا تھا، اے ایف کی وساطت سے ریڈیو پاکستان نے بعد از دوپہر دو بجے کے قریب یہ خبر نشر کی کہ میرواعظ کو جاں بحق کر دیا گیا ہے۔

ظہر کے قریب میرواعظ کے جسد خاکی کو عوام کے سپرد کیا گیا اور لوگوں کا ایک اژدھام میت کو لے کر شہر خاص کا رخ کرنے لگا، عبد الرشید کے مطابق صورہ تھانے سے وابستہ پولیس اہلکاروں نے لوگوں کو روکنے اور خبردار کرنے کی کوشش کی کہ آگے کرفیو لگا ہے اور سی آر پی ایف اہلکار گولی بھی چلا سکتے ہیں لیکن حزن و ملال اور غصہ سے بھرے لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر کسی کے روکے سے نہ رکا اور نوشہرہ و علم گری بازار سے ہوتا ہوا ہے یہ جلوس اس مقام کی طرف بڑھنے لگا جہاں کشمیر کی تاریخ کا ایک خونین باب رقم ہونے جارہا تھا، جلوس میں موجود ایک اور شخص محمد شاہین جن کی عمر اس وقت 20 برس کے قریب تھی، کا کہنا ہے کہ جب جلوس اسلامیہ کالج کے قریب پہنچنے لگا تو میں اور میرے ساتھی جلوس کے پچھلے حصہ میں پھرن پہنے شامل تھے، اچانک ہم نے گولیوں کی آوازسنی، میری دائیں طرف دو آدمی گر پڑے جبکہ بائیں طرف ایک خاتون کو میں نے گرتے ہوئے دیکھا، میں اور میرے ساتھی قریب کی ایک گلی میں گھس گئے جہاں سے اندرونی راستوں سے ہوتے ہوئے ہم مشعلی محلہ پہنچے تاہم جب ہم وہاں ایک گلی سے سڑک پر نمودار ہوئے تو ایک وحشت ناک سناٹا طاری تھا اور ہر طرف خون بکھرا پڑا تھا۔

بھاگ کھڑے ہوئے لوگوں کی چپلیں، جوتے اور دیگر اشیاء سڑک پر بکھری پڑی ہوئی، ایک ہیبت ناک تباہی کا منظر پیش کر رہی تھیں، محمد شاہین کا کہنا تھا کہ مولوی فاروق کی جسد خاکی وہاں سے منتقل کر دی گئی تھی اور ہم نے بھی اس جگہ سے جان بچاکر بھاگنے میں ہی عافیت محسوس کی، اسلامیہ کالج کے قریب کیا ہوا تھا؟ عبد الرشید اس کے عینی گواہ ہے، ان کی آنکھوں میں آج تک وہ خون آشام مناظر دھندھلائے نہیں ہیں، ’’جب ہم اسلامیہ کالج کے قریب پہنچے تو کالج کے باہر بنکر سے اور کالج میں موجود سی آر پی ایف اہلکار دیواروں پر بندوقیں تانیں تیار تھے، ماحول پہلے سے پرتناؤ تھا، جلوس میں لوگ بھارت مخالف نعرے بلند کر رہے تھے اور اچانک سی آر پی ایف اہلکاروں نے بندوقوں کے دہانے کھول دئے، اسلامیہ کالج کی دیوار کے اوپر سے فائرنگ ہو رہی تھی اور لوگوں کیلئے بھاگنے کا صرف ایک راستہ تھا، مشعل محلہ ویٹرنری کی طرف، لیکن یہاں بھی راہ فرار ایک تنگ گلی تھی جب کہ بقیہ احاطہ جال سے بند کیا گیا تھا، لوگ بچنے کیلئے اس جال کو پھلانگنے کی کوشش کرتے اور جوں ہی وہ جال پر چڑھ جاتے تو سی آر پی ایف اہلکاروں کی گولیوں کا نشانہ بن کر گر پڑتے، خون سے لت پت انسانوں کے ڈھیر لگ گئے تھے، کئی لوگ تو بھگدڑ میں کچلے جانے کی وجہ سے جاں بحق ہوئے۔

اندھا دھند گولیوں سے بچنے کیلئے جنازہ کو کاندھے دینے والے افراد جنازہ کو سڑک پر چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے، میرواعظ کشمیر کا جسد خاکی فوری طور قریب ہی موجود مغل مسجد منتقل کیا گیا جہاں سے اسے بعد میں میر واعظ منزل راجوری کدل لیا گیا، آخری دیدار کیلئے جب لوگوں کا ایک اژدھام امنڈ آیا تو میت اسلامیہ سکول منتقل کر دی گئی جہاں رات بھر رکھے جانے کے بعد اگلی صبح ان کو بہت بڑے جلوس کی صورت میں نوہٹہ، خانیار اور نالہ مار سے ہوتے ہوئے عید گاہ لیا گیا، جہاں پر نم آنکھوں سے ان کی تدفین کی گئی اور کشمیر کی تاریخ کا ایک خونین باب بند ہوگیا، عبد الرشید کے مطابق اس واقعہ میں جاں بحق ہونے والے افراد کی اکثریت کو ان کے آبائی مقبروں میں دفن کیا گیا کیونکہ سخت ترین کرفیو کی وجہ سے ان کی اجساد کو عید گاہ پہنچانا ممکن ہی نہیں تھا، محتاط اندازوں کے مطابق اس دن 72 لوگ جان بحق ہوئے اور حول میں عین اُسی جگہ جہاں فائرنگ ہوئی تھی، اس خونین واقعہ کی یادگار، تاریخ کی خاموش گواہ، دیوار گریہ کھڑی  ہے، جس پر اس روز جان بحق ہونے والے تمام افراد کے نام درج ہیں۔

.......

/169