19 مئی 2013 - 19:30

لاہور مین جشن مرج البحرین کانفرنس سے خطاب میں ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ آپ (س) کی حیات لاثانی کو اگر ماں کی حیثیت سے دیکھا جائے تو آپ (س) جیسی ماں تاریخ بشریت نے نہیں دیکھی ہے، والد بزرگوار کی ایسی خدمت کہ ام ابیہا کا لقب ملا۔

ابنا: مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کے زیراہتمام جشن مرج البحرین کانفرنس قصر نور ہال فیروز پور روڈ کلمہ چوک لاہور میں منعقد ہوئی، جس میں تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔ کانفرنس کی صدارت مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ ناصر عباس جعفری نے کی جبکہ مہمان خصوصی علامہ محمد امین شہیدی مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین پاکستان تھے۔ کانفرنس سے منہاج القرآن وومن لیگ کی صدر نوشابہ ضیاء نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں خصوصاً اس دور میں خواتین پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، خواتین کے بغیر  انسانی معاشرہ نامکمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک عورت کی تربیت پورے معاشرے کی تربیت کے مترادف ہے جبکہ ایک مرد کی تربیت صرف ایک انسان کی تربیت ہے۔

علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ ہماری خواتین اگر سیرت جناب سیدہ فاطمہ(س) پر عمل پیرا ہوں تو اس فرسودہ نظام میں ایک انقلاب برپا ہو جائے۔ انہوں نے کہا حضرت فاطمہ زہرا (س) نے اپنی حیات میں ایک بیٹی، زوجہ اور مادر کا کردار انتہائی احسن انداز میں ادا کیا، اگر دختر کے لحاظ سے دیکھا جائے تو مقام بالا، شوہر داری کے لحاظ سے آپ (س) کی حیات لاثانی اور اگر ماں کی حیثیت سے دیکھا جائے تو آپ (س) جیسی ماں تاریخ بشریت نے نہیں دیکھی ہے، والد بزرگوار کی ایسی خدمت کہ ام ابیہا کا لقب ملا اور اپنے والد کی آنکھوں کی ٹھنڈک قرار پائیں، شوہر کی ہم قدم کے طور پر اگر دیکھا جائے تو بہترین معاون و مددگار ثابت ہوئیں اور اپنے بچوں کی ایسی تربیت کی کہ آپ (س) کی گود کے پالے بشریت کے لئے نجات دہندگان ثابت ہوئے۔ مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکرٹری جنرل نے مزید کہا کہ آپ (س) نے اپنی زندگی کے ہر لمحے کو ملکوتی بنا کر پیش کیا، آپ خاتون جنت ہیں، آپ اپنی مثال آپ ہیں، ہماری خواتین اگر سیرت فاطمہ (س) پر عمل پیرا ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی۔

کانفرنس سے خطاب میں علامہ امین شہیدی نے ملکی سیاسی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا مختلف مشکلات کے باوجود ہم اپنی ذمہ داریوں پر پابند رہیں گے اور پوری قوت کے ساتھ میدان میں کھڑے ہوں گے، اور اس معاشرے کے مظلوم لوگوں کو ان بھیڑیوں کے حوالے نہیں کرنے دیں گے جو گذشتہ 65 سال سے اس قوم کا خون چوس رہے ہیں، اس وقت مجلس وحدت مسلمین مغربی مفادات کے خلاف آواز بلند کرنے والی پہلی جماعت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ناموس رسالت (ص) پر جب وقت آیا تو سب سے پہلے ہمارے نوجوان تھے جنہوں نے امریکی سفارت خانوں پر پرچم رسول اللہ (ص) بلند کئے اور اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا۔ کوئٹہ میں لوگوں کو طائفہ پرست اور بے دین بنایا جا رہا تھا، عیسائی بنایا جا رہا تھا اور اس فضا کے خلاف بولنے والا کوئی نہیں تھا، لیکن آج مجلس وحدت مسلمین نے کوئٹہ میں دہشت گرد اور قوم پرستوں کو ان کی تمام تر کوششوں کے باوجود شہداء کے خون کی برکت سے شکست دے کر کرپٹ مافیا کو ہمیشہ کیلئے معاشرے سے فارغ کر دیا، جنہوں نے کوئٹہ کے حالات دگرگوں کر رکھے تھے۔

مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کی سیکرٹری جنرل سکینہ مہدوی نے کہا کہ سیرت فاطمہ (س) ہمارے لئے مشعل راہ ہے اور کائنات میں کوئی بھی عورت اگر سیرت فاطمہ (س) کو اپنا لے تو کہیں بھی ناکام نہیں ہوسکتی، جناب سیدہ (س) نے مشکل ترین وقت میں بھی مولائے متقیان کا ساتھ دیا، مولا آ کر بی بی (س) کو مسلمانوں کے رویے کے بارے میں بتاتے تو آپ ان کو حوصلہ دیتیں، آپ (س) نے ہر قدم پر اسلام کی سربلندی کے لئے کام کیا، یہاں تک کہ اپنی اولاد کی تربیت اس نہج پر کی کہ انہوں نے اسلام کو حیات ابدی بخشنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیرت فاطمہ (س) کو تعلیمی نصاب میں شامل کیا جائے، تاکہ نئی نسل کی زندگیاں اچھے خطوط پر استوار ہوں۔

سابق ایم این اے عاصمہ ممدوٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ جناب فاطمہ (س) جنت کی عورتوں کی سردار ہیں اور یہ باعظمت بی بی کا وہ مقام ہے کہ خود رسول عربی (ص) آپ (س) کے استقبال کے اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آپ (س) کی سیرت پر عمل پیرا ہو کر آج بھی ہم معاشرے کو محبت و اخوت کا گہوارا بنا سکتے ہیں۔ اس موقع پر ہما تقوی نے کہا کہ حضرت فاطمہ (س) کی زندگی قدم قدم پر ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی نسل کو کامیاب زندگی کیلئے سیرت فاطمہ (س) کا مطالعہ کرنا چاہئے، اسی میں ان کی کامیابی ہے۔
.....

/169