ابنا: وزارت خارجہ کے نئے ترجمان سيد عباس عراقچي نے منگل کو اپني پہلي پريس کانفرنس ميں بدھ کو استنبول ميں ايران کي اعلي قومي سلامتي کونسل کے سکريٹري سعيد جليلي اور يورپي يونين کے شعبہ خارجہ پاليسي کي سربراہ کيتھرين اشٹن کے درميان ہونے والي ملاقات کے بارے ميں اس اميد کا اظہار کيا کہ محترمہ اشٹن کا جواب تعميري اور مفيد ہوگا - وزارت خارجہ کےترجمان عباس عراقچي نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ گذشتہ تين ماہ کے دوران مذاکرات کے دو دور بہت ہي اچھے دقيق اور مثبت انداز ميں انجام پائے ہيں کہاکہ مذاکرات کے آخري دور ميں ايران اور پانچ جمع ايک گروپ دونوں ہي کي طرف سے دقيق اور ٹھوس تجاويز پيش کي گئي ہيں اور ماضي کے برخلاف پانچ جمع ايک گروپ کي تجاويز ميں ايران کے عوام کے حقوق کا انکار نہيں کيا گيا ہے جس کا ايران نے خير مقدم بھي کيا-ايران کي وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ البتہ افسوس کےساتھ يہ کہنا پڑتا ہے کہ آلماتي دو مذاکرات کے دوران پانچ جمع ايک گروپ کے نمائندوں کو جزئيات پر بات کرنے کي اجازت ان کي حکومتوں کي طرف سے نہيں تھي يا بظاہر ان کے پاس جزئيات پر بات کرنے کے لئے ضروري اختيارات نہيں تھے اس لئے طے پايا کہ پانچ جمع ايک گروپ کےنمائندے اپنے اپنے ملکوں ميں جاکر تجاويز کا مزيد جائزہ ليں اور پھر اپنے جواب سے مطلع کريں – ايران کي وزارت خارجہ کےترجمان نے اسي طرح ايران کے ايٹمي پروگرام کے تعلق سے امريکي حکام کے حاليہ بيانات کے بارے ميں کہا کہ اس قسم کےبيانات سے حوصلہ شکني ہوتي ہے اور يہ بھي ثابت ہوجاتا ہے کہ امريکي حکام کو حقائق کا ادراک نہيں ہے -وزارت خارجہ کے نئے ترجمان عباس عراقچي نے اس بات پر زور ديتے ہوئےکہ دباؤکي پاليسي کا کوئي نتيجہ نہيں نکلا ہےاور نہ ہي نکلے گا کہاکہ بامقصد مذاکرات کے ذريعے ہي جو نيک نيتي پر استوار ہوں کسي نتيجے پر پہنچا جاسکتا ہے – ايران کي وزارت خارجہ کےترجمان نے جدہ ميں شام کے مسئلے پر ايران مصر ترکي اور سعودي عرب کے چارجانبہ مذاکرات کے بارےميں بھي کہا کہ شام کے بحران کے سياسي حل کي اميد ہرروز بڑھتي اور واضح ہوتي جارہي ہے- انہوں نے کہا کہ اس تعلق سے تہران کو خوشي ہے اور اس مسئلے پر چار جانبہ کميٹي کي تشکيل کي مصر کي تجويز کا خير مقدم بھي کرتا ہے - ايران کي وزارت خارجہ کے ترجمان نے شام کي جولان کي پہاڑيوں پر صہيوني حکومت کے خلاف نيا محاذ کھولنے کے بارے ميں شام کےصدر بشار اسد اور حزب اللہ کے سکريٹري جنرل سيد حسن نصراللہ کے حاليہ بيانات اور علاقے پر پڑنےوالے ان کے ممکنہ اثرات کےبارے ميں کہا کہ شام پر صہيوني حکومت کا ہوائي حملہ ايک بڑا واقعہ ہے جو علاقے کي سطح پر رونما ہوا ہے اور يہ حملہ ٹھيک ايسے وقت ہوا ہے جب شام کي حکومت اور فوج کو ميدان جنگ ميں دہشتگردوں کے خلاف کاميابياں مل رہي تھيں اور دہشتگرد گروہ اہم علاقوں سے پسپائي اختيار کررہے تھے-
انہوں نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوجاتا ہے کہ شام پر حملے کے سلسلے ميں اسرائيل اور دہشتگردوں کے درميان مکمل ہم آہنگي تھي - اسلامي جمہوريہ ايران کي وزارت خارجہ کے ترجمان نے خليج فارس ميں غير ملکي افواج کي جنگي مشقوں کے بارے ميں کہا کہ خليج فارس ايران ، علاقے اور پوري دنيا کے لئے ايک بہت ہي اہم علاقہ ہے اور اسلامي جمہوريہ ايران بيروني طاقتوں کي فوجي موجودگي کو علاقے کي سلامتي کے لئے نقصان دہ سمجھتا ہے -
.....
/169