ابنا: ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے قائم مقام سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی کی اپیل پر (جمعۃ المبارک کو) ملک بھر میں شام اور اردن میں جلیل القدر صحابہ کرام (رض) کے مزار ہائے مبارک کی بے حرمتی کیخلاف یوم احتجاج منایا گیا، خطبات جمعہ میں سیرت حضرت جعفر طیار (ع) اور حضرت حجر بن عدی(رض) پر روشنی ڈالنے کے ساتھ ساتھ بعد از نماز مساجد و امام بارگاہوں کے باہر جلیل القدر اصحاب کی قبور مبارک کی بے حرمتی پر احتجاج کیا گیا۔ اس موقع پر علامہ سید ساجد علی نقوی نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ حضرت جعفر طیار (ع) اور حضرت حجر بن عدی (رض) کی دین حق کیلئے قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ کس طرح انہوں نے باطل کے سامنے حق کو بیان کیا جبکہ حضرت جعفر طیار (ع) کو پہلا سفیر رسول (ص) ہونے کا شرف حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ جلیل القدر اصحاب رسول (ص) کے مزار ہائے مبارک کی جس طرح بے حرمتی کی گئی وہ انتہائی تشویشناک امر ہے جس کی نہ صرف مذمت کی جائے بلکہ شام اور اردن کی حکومتیں اس قبیح حرکت میں ملوث شر پسند افراد کیخلاف سخت کارروائی کریں، تاکہ آئندہ کسی کو ایسے مذموم کام کی جرات نہ ہوسکے۔ انہوں نے اس موقع پر بات بے بات احتجاج کرنیوالی نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کی تنظیموں سمیت دیگر اقوام عالم کے بڑے ادارے چھوٹے چھوٹے واقعات پر واویلا مچا دیتے ہیں مگر انہیں آئے روز شعائر اسلام کا اڑایا گیا مذاق نظر کیوں نہیں آتا اور ان کی آنکھوں پر پٹیاں کیوں بندھی ہوئی ہیں، اس طرح کی قبیح حرکات ان اداروں کے منہ پر طمانچہ ہیں۔
ملک بھر میں علمائے کرام نے خطبات جمعہ میں حضرت جعفربن طیار (ع) اور حضرت حجر بن عدی (رض) کی سیرت و کردار پر روشنی ڈالی اور بعد از نماز جمعہ مساجد و امام بارگاہوں کے باہر احتجاجی مظاہرے بھی کئے گئے۔ اس موقع پر علمائے کرام و دیگر مقررین نے کہا کہ شعائر اللہ اور شعائر اسلام کی بے حرمتی کسی صورت برداشت نہیں کی جائیگی، دنیا بھر میں دہشت گردوں اور شرپسند عناصر نے عالم اسلام کی اکابرین کی توہین کرنا وطیرہ بنا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئے روز توہین آمیز خاکوں اور بے حرمتی کی وارداتیں بڑھتی جا رہی ہیں، یہ کھلی جارحیت کیوں نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کو نظر نہیں آتی، کیوں اقوام متحدہ خاموش ہے۔ مقررین نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی ممالک کی نمائندہ تنظیم او آئی سی، اسلامی ممالک کی مجرمانہ خاموشی پر بھی حیرانی ہے۔
.....
/169