5 مئی 2013 - 19:30
شام پر اسرائیلی حملے کی روس نے کی مذمت

روسی وزارت خارجہ کے ترجمان الیگزینڈر لوکاشویچ نے لبنان، شام اور ناجائز صیہونی حکومت سرحدوں پر کشیدگی میں اضافے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے مسلح کشیدگی بڑھے گي اور علاقے میں جنگ کے شعلے بھڑک سکتے ہیں۔

ابنا: ارنا کی رپورٹ کے مطابق روسی وزارت خارجہ کے ترجمان الیگزینڈر لوکاشویچ نے لبنان، شام اور ناجائز صیہونی حکومت سرحدوں پر کشیدگی میں اضافے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے مسلح کشیدگی بڑھے گي اور علاقے میں جنگ کے شعلے بھڑک سکتے ہیں۔ادھر شام کے قومی آشتی کے وزیر علی حیدر نے کہا ہے کہ صیہونی حکومت کے ساتھ جنگ بندی ختم ہو گئی ہے۔انہوں نے یہ بات بیان کرتے ہوئے کہ اب صیہونی حکومت کے ساتھ کسی قسم کی جنگ بندی نہیں ہے، شام سے صیہونی حکومت کے جنگي طیاروں کے حملے کا فوری جواب دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے شام پر صیہونی حکومت کے حملے کو خطرناک قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یہ حملے ملک کے مختلف علاقوں میں شامی فوج کی دہشت گردوں کے خلاف کامیابیوں کے بعد کیے گئے ہیں اور ان کا مقصد شام میں سرگرم دہشت گردوں کی مدد کرنا ہے۔شام پر صیہونی حکومت کی جارحیت اور دہشتگردوں کے ہاتھوں بے گناہ عام شہریوں کے قتل عام پر عالمی برادری کی خاموشی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ایران میں مقیم شام کے طلباء نے تہران میں اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے اجتماع کیا۔صیہونی حکومت نے شام کے دارالحکومت دمشق کے اطراف میں واقع جمرایا کے سائنسی و تحقیقاتی مرکز پر پانچ راکٹ فائر کئے۔ صیہونی حکومت نے اس سے قبل جنوری کے مہینے میں بھی اس مرکز کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنایا تھا۔ شام پر صیہونی حکومت کے جنگی طیاروں نے یہ حملہ ایسی حالت میں کیا ہے جبکہ اس ملک کو ایسے مسلح دہشتگرد گروہوں کی کاروائیوں کا سامنا ہے کہ جنھیں یورپی اور بعض عرب ملکوں کی حمایت حاصل ہے۔ البتہ شام کے خلاف دہشتگردانہ حملوں کی عالمی سطح پر مذمت کی جا رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲