ابنا: بحرین میں انسانی حقوق کی نگرانی کر نے والے ادارے کے کوارڈینیٹر نےالعالم کوانٹرویو دیتے ہوئے مسجدوں پر حملے اور مقدس مقامات کی توہین کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ آل خلیفہ حکومت نے تاریخی مسجدوں اور مذہبی آزادی اورعلماء کونشانہ بنا کر ملارشل لا کا ماحول پیدا کردیا ہے اور اس طرح بحرینی عوام کی پرامن اور حق پسندانہ تحریک کوکچلنے کی کوشش کررہے ہیں ۔انسانی حقوق کےاس بحرینی کارکن نے مسجدوں کی شہادت پر بحرینی عوام کے اعتراضات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ مسجدوں اورامام بارگاہوں کی شہادت جوزیادہ تر شیعہ مسلمانوں سےتعلق رکھتی ہیں، اس ملک میں عوامی تحریک کونقصان پہنچانے کی منظم سازش کانتیجہ ہے لیکن بحرینی عوام اپنی درایت سے اس سازش کوناکام بنادیں گے۔ بحرین میں مسجدوں کی شہادت کی پالیسی ایسے عالم میں جاری ہے کہ اس ملک کےعلماء اور سیاسی شخصیتوں نے اس پالیسی کی مذمت کرتے ہوئے تاکید کی ہے کہ بحرینی حکام کے اسلام دشمن اور انسانیت دشمن اقدامات سے اس ملک کےعوام کو انقلابی مقاصد کےحصول سے نہيں روکا جاسکتا۔بحرینی علماء نے مسجدوں کی شہادت اور قرآن کریم نذرآتش کئےجانے جیسے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے اسے تاریخ بحرین کےلئے باعث ننگ قرار دیا اور عالمی رائے عامہ نیزاقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ مسلمانوں کے مقدسات کی اس طرح کی بےحرمتی پر ٹھوس ردعمل ظاہر کریں۔موجودہ اعداد وشمار کےمطابق بحرین میں عوامی تحریک شروع ہونےکےبعد سے اب تک مظاہرین کے قتل عام ، گرفتاری نیز پچاس سےزيادہ مسجدوں کوشہید کیا جاچکا ہے اورحد تو یہ ہے کہ آل خلیفہ کی ڈکٹیٹر حکومت تباہ شدہ مسجدوں کی تعمیرنوکی اجازت بھی نہيں دے رہی ہے۔مظاہرین کےخلاف جرائم کی تحقیقات کےلئے قائم شریف بسیونی کمیٹی کی رپورٹ کےمطابق بحرین میں انقلابی تحریک کےپہلے سال میں کم سے کم اڑتیس مسجدیں شہید کی گئيں اور حکومت نے ان کی تعمیر کےلئے کوئی اقدام نہيں کیا۔اس کےباوجود بحرین کےمختلف علاقوں کےعوام تقریبا ہر روز مظاہرہ کرکے حکومت کی پالیسیوں کی مذمت کرتےہوئے اپنے جائز مطالبات بالخصوص مسجدوں کی تعمیر نو پرتاکیدکررہے ہيں۔منامہ حکومت اس خیال خام میں ہے کہ وہ مسجدوں کوشہید کرکے بحرینی عوام کو انقلابی تحریک سے روک سکتی ہے لیکن وقت نےثابت کردیا کہ شہری اورمذہبی اصولوں کوپامال کرنے کےباوجود آل خلیفہ حکومت ، نہ صرف بحرینی عوام کی تحریک میں کوئي خلل نہيں ڈال سکی بلکہ اس نے بحرین کےخودخواہ حکمرانوں کےچہرے کوپہلے سےزيادہ بےنقاب کردیا ہے۔
.......
/169