ابنا: مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری امور جوانان علامہ اعجاز حسین بہشتی نے کراچی کے نشتر پارک میں لبیک یاحسین (ع) کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملت تشیع کی کامیابی کے تین راستے ہیں تصور غدیر، تصور کربلا اور مہدویت و عالمی حکومت کا تصور۔ ان تصورات کے ماننے والے کہیں حزب اللہ کی شکل میں ابھرے ہیں اور اسرائیل کو شکست دی ہے، انہی لوگوں نے عراق سے امریکہ کو باہر نکالا اور یہی لوگ پاکستان میں آئی ایس او، ایم ڈبلیو ایم کے ہزاروں جوانوں کی شکل میں نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فخر اس ملت تشیع کیلئے ہے وہ عادل و حاضر امام پر ایمان رکھتی ہے۔ تصور غدیر و کربلا کی وجہ سے یہ ملت تشیع زندہ ہے، جس مکتب کا قائد و رہبر زندہ ہو، اسے کوئی شکست نہیں دے سکتا۔علامہ اعجاز بہشتی نے مزید کہا کہ آج کے پروگرام میں شہداء کی ارواح، شہید علامہ آفتاب جعفری، شہید سبط جعفر، شہید سعید حیدر کی ارواح بھی موجود ہیں۔ ہمیں چاہیئے کہ شہید سعید حیدر، شہید سبط جعفر، شہید علامہ آفتاب جعفری کی شخصیت کو زندہ رکھیں، ان کے افکار کو عام کریں۔ شہداء کی یاد منانا سیرت جناب فاطمہ (س) و حضرت امام علی ابن ابی طالب (ع) ہے، ہمیں اس سیرت سے عملی سبق حاصل کرتے ہوئے شہداء کی یاد کو ہمیشہ زندہ رکھنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ شہید مطہری و شہید باقر الصدر کے نظریات سے بہرہ مند ہونا چاہتے ہیں تو شہید سعید حیدر جیسے مفکر اسلام کی کتابوں سے استفادہ کریں، آج اس مفکر سعید کو دشمنان اسلام نے شہید کر دیا، جو حقیقت میں ایک عارف تھا، محقق تھا، انقلابی اور پیروئے خمینی و خامنہ ای تھا۔ انہوں نے کہا کہ شہید آفتاب پر ہمارا سلام ہو۔ شہید سبط جعفر پر ہمارا سلام ہو، ہم ان کے خانوادہ پر سلام پیش کرتے ہیں۔ آج اس کانفرنس کے ذریعے ہم شہید سبط جعفر کی وصیت کے مطابق جشن شہادت منا رہے ہیں اور انہیں خراج تحسین پیش کر رہے ہیں، دراصل یہ نظریہ کربلا کے عظیم مجاہد شہزادہ قاسم ؑ سے لیا گیا ہے۔ شہید سبط جعفر جن کے کلام و افعال میں جذبہ شہادت تھا، اس لئے انہوں نے اپنی شہادت پر جشن شہادت منانے کی وصیت کی۔ یہ جشن شہادت منانا انہیں زیب دیتا ہے کہ جن کے استقبال کیلئے خاتون جنت منتظر رہتی ہے اور سبط جعفر ان ہی لوگوں میں سے ایک ہیں۔علامہ اعجاز بہشتی نے کہا کہ میں کس طرح علامہ آفتاب جعفری کی خدمات کو آپ کے سامنے پیش کروں، بس اتنا کہوں گا کہ وہ شہادت کے متمنی تھے، ان کی تقریروں میں شہادت کا رنگ غالب آتا تھا، ان کی گفتگو میں شہادت کے موضوع کو خاص مقام حاصل تھا، وہ کراچی کے نوجوانوں کی زینت تھے۔ پس ہمیں اپنے شہیدوں کے افکار کو عملی میدان میں زندہ رکھنا ہے، تاکہ ان کی یاد کے ذریعے ہم امام زمانہ (عج) کے ظہور کی راہ ہموار کرنے کی کوششیں مزید تیز کرسکیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
21 اپریل 2013 - 19:30
News ID: 411792
علامہ اعجاز حسین بہشتی نے کراچی کے نشتر پارک میں لبیک یاحسین (ع) کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملت تشیع کی کامیابی کے تین راستے ہیں تصور غدیر، تصور کربلا اور مہدویت و عالمی حکومت کا تصور۔ ان تصورات کے ماننے والے کہیں حزب اللہ کی شکل میں ابھرے ہیں اور اسرائیل کو شکست دی ہے، انہی لوگوں نے عراق سے امریکہ کو باہر نکالا اور یہی لوگ پاکستان میں آئی ایس او، ایم ڈبلیو ایم کے ہزاروں جوانوں کی شکل میں نظر آتے ہیں۔