اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ وہابیوں کے ایک معروف مفتی شیخ عبد اللہ المنیح نے باقی وہابی علماء کے فتووں کی ایک سو اسی ڈگری مخالفت کرتے ہوئے شام میں مسلح افراد کو سعودیہ کی امداد رسانی کو حرام قرار دے کر فتوی دیا ہے کہ شام میں جو ہو رہا ہے وہ اس ملک کا اندورنی مسئلہ ہے جہاد نہیں ہے۔شیخ عبد اللہ المنیح نے کہا: انسان کو ایسے مسائل میں مداخلت نہیں کرنا چاہیے جو ایک ملک کے امن و سکون کو برباد کر دیں انسان کو ایسے مسائل میں نہیں الجھنا چاہیے جن کے انجام کے بارے میں نہیں جانتا۔المنیح نے تاکید کی: جو کچھ شام میں ہو رہا ہے وہ اس ملک کا اندرونی مسئلہ ہے جہاد نہیں ہے۔انہوں نے ان تمام علماء کے فتووں کی مذمت کی جو شام میں موجودہ جنگ کو جھاد کا نام دے کر فساد پھیلا رہے تھے۔واضح رہے کہ ایک طرف سے المنیح کے سعودی مقامات کے ساتھ اچھے روابط ہیں اور دوسری طرف سے انہوں نے شام میں سعودیہ کی مداخلت کو حرام قرار دیا ہے۔اس فتویٰ سے معلوم ہوتا ہے کہ سعودیہ کی شام کی نسبت سیاسی پالیسی میں کوئی لچک ضرور آئی ہے جبکہ پہلے سعودی علماء شام میں جھاد کی دعوت دے رہے تھے۔قابل ذکر ہے کہ سعودیہ کے مفتی اعظم عبد العزیز آل الشیخ نے بھی اس فتویٰ کی تائید کی ہے اور سعودی جوانوں کو شام میں جہاد کی طرف دعوت دینے سے خبردار کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
16 اپریل 2013 - 19:30
News ID: 410113
وہابیوں کے ایک معروف مفتی شیخ عبد اللہ المنیح نے باقی وہابی مفتیوں کے فتووں کے ایک سو اسی ڈگری برخلاف شام میں مسلح افراد کو سعودیہ کی امداد رسانی کو حرام قرار دیتے ہوئے فتوی دیا ہے کہ شام میں جو ہو رہا ہے وہ اس ملک کا اندورنی مسئلہ ہے جہاد نہیں ہے۔