ابنا: یورپی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کے رکن ستائیس ملکوں کی آبادی پانچ سو ایک ملین ہے جن میں سو ملین سے زائد افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔اس رپورٹ کے مطابق یونان میں بے روزگاری کی شرح اٹھارہ اعشاریہ نو سے بڑھ کر چھبیس فیصد ہوگئی ہے ۔ اسی طرح قبرص میں بے روزگاری کی شرح جو دو ہزار گیارہ میں نو اعشاریہ پانچ فیصد تھی، بڑھ کر چودہ فیصد ہوگئی ہے ۔ اسپین میں بے روزگاری کی شرح تیئیس فیصد سے بڑھ کے اٹھائیس اعشاریہ چھے فیصد اور پرتگال میں چودہ اعشاریہ ایک فیصد سے بڑھ کے سولہ اعشاریہ تین فیصد ہوگئی ہے ۔اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یونان میں دو ہزار نو کے مقابلے میں ہر خاندان کی آمدنی سترہ فیصد کم ہوئی ہے۔اسی طرح اسپین میں ہر خاندان کی آمدنی آٹھ فیصد اور قبرص میں سات فیصد کم ہوئي ہے۔بین الاقوامی ریڈکراس کمیٹی نے یورپ میں غربت پھیلنے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ یورپ میں قرضوں کے بحران نے غربت کی شرح بڑھا دی ہے اور یورپی ملکوں میں ریڈکراس کی برانچوں کا دو تہائی بجٹ غریبوں میں غذائی اشیا کی تقسیم پر خرچ ہوتا ہے۔بین الاقوامی ریڈکراس کمیٹی کے مطابق اسپین اٹلی اور مشرقی یورپ کے بعض ملکوں میں ریڈکراس کمیٹی سے امداد حاصل کرنے والوں کی تعداد میں ریکارڈ توڑ اضافہ ہوا ہے ۔اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اٹلی میں غربت پھیلنے کی رفتار زیادہ ہے جہاں اسی لاکھ سے زائد افراد غربت کی لکیر سے نیچے ہیں۔تخمینہ لگایا گیا ہے کہ رواں سال میں انتہائی غربت کے شکار افراد کی تعداد چالیس لاکھ ہوجائے گی جو گزشتہ پانچ سال کے اعداد و شمار کے مقابلے میں دوگنی ہے۔اسی طرح اسپین میں ہر پانچواں شخص غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے۔اسپین میں ساٹھ فیصد سے کم اوسط آمدنی والوں کی شرح دو ہزار نو میں انیس فیصد تھی جو دو ہزار بارہ میں بیس ہوگئي ۔یورپ میں غربت اتنی زیادہ پھیل چکی ہے کہ بہت سے یورپی حکام نے اس پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ یورپی کمیشن نے بھی خبردار کیا ہے کہ غربت پھیلنے کے نتیجے میں یورپ ، غریب اور امیر، دو حصوں میں تقسیم ہوجائے گا اور یہ صورتحال بہت خطرناک ہوگی ۔ یورپی کمیشن کے مطابق پانچ سال پہلے پورے یورپ میں بے روزگاری کی شرح یکساں تھی لیکن اب جنوبی حصے میں دوسرے حصوں سے سات اعشاریہ پانچ فیصد زیادہ ہوگئ ہے ۔...../169
31 مارچ 2013 - 19:30
News ID: 404943
یورپ ميں اقتصادي بحران کے نتيجے ميں بے روزگاري اور غربت ميں تيز رفتار اضافے پر يورپي کميشن اور بين الاقوامي ريڈکراس سوسائٹي نے شديد تشويش ظاہر کي ہے -