26 مارچ 2013 - 19:30

پاکستان میں وہابی دیوبندی جماعتوں کے اتحاد سنی وحدت کونسل کے تحت ہونے والے اجلاس میں بریلوی مکتب فکر کی سیاسی مذہبی جماعت پاکستان سنی تحریک کو شدید ترین تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

ابنا: پاکستان میں وہابی دیوبندی جماعتوں کے اتحاد سنی وحدت کونسل کے تحت ہونے والے اجلاس میں بریلوی مکتب فکر کی سیاسی مذہبی جماعت پاکستان سنی تحریک کو شدید ترین تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اجلاس میں رہنماﺅں نے کہا ہے کہ شدت پسندی، بھتہ کلچر اور ملٹری ونگ رکھنے والی جماعت سنی تحریک کو واچ لسٹ سے نکالنا ملک کیلئے نقصان دہ ہے۔ اجلاس سنی وحدت کونسل کے مرکزی رہنما علامہ عبدالرشید الحسینی کی سربراہی میں ہوا۔
اجلاس میں تمام جماعتوں کے رہنماﺅں کی جانب سے صدر پاکستان آصف علی زرداری سے پاکستان سنی تحریک کے رہنماﺅں کی ملاقات اور پاکستان سنی تحریک کے نام کو واچ لسٹ سے نکالنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کے حکم پر ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور کرمنل سرگرمیوں کی وجہ سے سنی تحریک کے نام کو واچ لسٹ میں شامل کیا گیا تھا لیکن حکومت کی جانب سے سنی تحریک کے نام کو واچ لسٹ سے نکال دیا گیا، جبکہ پولیس رپورٹ کے مطابق 2011ء سے لے کر اب تک پولیس نے سنی تحریک کے 38 ٹارگٹ کلرز کو گرفتار کیا، جو قتل کے علاوہ بھتہ خوری اور دیگر سنگین نوعیت کے مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھے۔ اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ جو جماعت 2008ء کے الیکشن میں ملک بھر سے قومی اسمبلی کی سیٹ پر 330 جبکہ صوبائی نشست پر 270 سے زائد ووٹ نہ لے سکی اس کو نگران حکومت میں وزارت جبکہ اسلامی نظریاتی کونسل میں سیٹ دینا مضحکہ خیز اور عہدوں کی بندر بانٹ ہے۔
 
اجلاس کے شرکاء نے کہا کہ اس طرح کی بندر بانٹ سے ملک تباہ ہو کر رہ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سنی تحریک کراچی میں ایک عرصے سے فرقہ واریت کو ہوا دے رہی ہے جبکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق سنی تحریک کا شمار بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث جماعتوں میں سر فہرست ہے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ سنگین جرائم میں ملوث جماعت کا حکومتی رہنماﺅں کے ساتھ بیٹھنا انتہائی افسوس ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دور حکومت میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ میں تیزی کی اصل وجہ یہی ہے کہ پیپلز پارٹی میں موجود بعض رہنماء ایسی جماعتوں کی سرپرستی کر رہے ہیں جو دہشت گردی میں براہ راست ملوث ہیں۔ اجلاس میں شریک رہنماﺅں نے کہا کہ حکومت نے اگر فرقہ واریت اور سنگین جرائم میں ملوث جماعت کو نگران سیٹ اپ میں کسی قسم کی کوئی وزارت اور اسلامی نظریاتی کونسل میں کسی قسم کی نمائندگی دینے اور عبد اللہ شاہ غازی مزار سے متصل مسجد کے امام مولانا مسکین کو ہٹانے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر میں شدید احتجاج کیا جائے گا۔
 انہوں نے عدالت عالیہ سے بھی گزارش کی کہ وہ سنی تحریک کے نام کو واچ لسٹ سے نکالنے پر نوٹس لیں۔ اجلاس میں علامہ حکیم الرحمان، علامہ خالد، علامہ عبد الرﺅف قاسمی سمیت متعدد علماء کرام نے مدارس دینیہ کی بھی نمائندگی کی۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں پاکستان کے کچھ علاقوں میں سنی وحدت کونسل کے نام سے پڑوسی ملک جمہوری اسلامی ایران کے خلاف انتہائی غلیظ اور نفرت آمیز الفاظ پر مبنی پوسٹر بھی لگائے گئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/242