10 مارچ 2013 - 20:30

سعودی عرب سے موصولہ اطلاعات کے مطابق آل سعود کی وحشیانہ کاروائيوں کےباوجود ملت حجاز کی تحریک جاری ہے اور جزیرۃ العرب کے عوام تقریبا ہر روز مظاہرے کرکے آل سعود کی حکومت کے خاتمے پر تاکید کررہے ہیں۔

ابنا: آل سعود نے اپنی تشدد آمیز کاروائيوں سےثابت کردیا ہےکہ وہ نہتے عوام پر تشدد ڈھانے میں کسی حد کی قائل نہیں ہے بلکہ اپنی حکومت بچانے کے لئے نہتے عوام کے خلاف ہر طرح کے جرم کا ارتکاب کرسکتی ہے۔ آل سعود کی حکومت کی اس صورتحال سے عوام تنگ آچکے ہیں اور گذشتہ برسوں میں انہوں نے احتجاجی مظاہرے کرکے سعودی وزیر داخلہ کی برطرفی کا مطالبہ کیا ہے۔ سعودی عرب کے مکۃ المکرمۃ، مدینے، بریدہ، قطیف جیسے شہروں میں عوام نے احتجاجی مظاہرےکر کے سعودی کارندوں کے تشدد آمیز رویئے کی مذمت کی۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ وزیر داخلہ کو فوری طور پر برطرف کیا جائے۔ ادھر مکے اور مدینے میں خواتین نے احتجاجی مظاہرے کرکے خواتین قیدیوں کو اذیت اور جسمانی اور ذہنی ایذائيں پہنچانے والے افراد کو کیفر کردار تک پہنچائے جانے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق شہر عنیزہ اور بریدہ میں بھی خواتین نے احتجاجی مظاہرہ کرکے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ آل سعود کی کال کوٹھریوں میں موجود سیاسی قیدیوں کی رہائي کے لئے موثر اقدامات کریں۔ قطیف میں بھی خواتین نے احتجاجی مظاہرہ کرکے خواتین قیدیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ واضح رہے آل سعود کے کارندوں نےحال ہی میں شہر بریدہ کی عدالت کے سامنے احتجاجی دھرنا دینے والوں میں سے تین سو افراد کو گرفتار کرلیا تھا جن میں خواتيں اور بچے بھی شامل ہیں۔ سعودی عرب میں گذشتہ برس سے باقاعدہ طور پر عوامی تحریک شروع  ہوچکی ہے جو جمہوری حکومت کا مطالبہ کررہے ہیں، لیکن آل سعود اس تحریک کونہایت ہی وحشیانہ طریقے سے کچل رہی ہے۔سعودی کارندے مظاہرین کو قید کرکے انہیں جسمانی ایذائيں بھی پہنچاتے ہیں۔ آل سعود کی ڈکٹیٹر حکومت نے عوام کی تحریک کوکچلنے اور ہرطرح کی صدائے احتجاج کو دبانے کے ساتھ ساتھ ایک قانونی ادارے کو بندکرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ آل سعود نے اس مرتبہ حسم نامی انسانی حقوق تنظیم کو نشانہ بنایا ہے اور اسکے بند کرنے کاحکم جاری کیا ہے۔ آل سعود کی ایک عدالت نے سنیچر کے دن حسم انسانی حقوق تنظیم کو میڈیا کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے کے بہانے بند کرنے کا فیصلہ دیا اور اس کے ایک بانی رکن کو گيارہ برس قید کی سزا سنائي۔ جمعیت حسم ایک غیر سرکاری ادارہ تھا جو انسانی حقوق کے لئے کام کرتا تھا اور دوہزار نو سے انسانی حقوق کے گیارہ کارکنوں کی مدد سے کام کررہا تھا۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ آل سعود کی استبدادی پالیسیوں کی وجہ سے جزیرۃ العرب میں آپ کہیں بھی جمہوریت کے مظاہر جیسے انتخابات، سیاسی پارٹیاں، میڈیا کی آزادی اور شہری آزادی دکھائي نہیں دے گي۔ آل سعود کی تشدد آمیز اور جاہلانہ پالیسیوں کی وجہ سے عوام میں بہت زیادہ بے چینی پائي جاتی ہے اور عوام اب اپنا حق مانگنے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمو نے بارہا اس بات کا اعلان کیا کہ آل سعود نے اپنی تاریخ میں کبھی بھی انسانی حقوق کا احترام نہیں کیا ہے اور آج بھی نہیں کررہی ہے بلکہ اس حکومت کی بنیاد ہی قتل وغارت اور سرکوبی پررکھی گئی ہے اور جیسے جیسے زمانہ گذرتا جارہا ہے اسکی وحشیانہ پالیسیوں میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ سعودی عرب کے ایک سیاسی رہنما اور تجزیہ کار نے آل سعود کی جارحانہ اور استبدادی ماہیت پر تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آل سعود کی نسل پرستانہ اور متعصبانہ پالیسیوں کی بنا پر جزیرۃ لعرب کے بنیادی حقوق پامال ہورہےہیں اور ان سے اسکی استبدادی ماہیت آشکار ہوجاتی ہے۔ حمزہ الحسن نے آل سعود کی استبدادی پالیسیوں پر انسانی حقوق کی دعویدار تنظیموں کی خاموشی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تمام ثبوت و شواہد کی روشنی میں کہا جاسکتا ہےکہ آل سعود کھلم کھلا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کررہی ہے اور افسوس اس بات پر ہے کہ سارے عالمی ادارے اس کی درندگي پر خاموش بیٹھے ہوئے ہیں۔ پرامن مظاہرین کو خاک و خون میں غلطان کرنے نیز قیدیوں کےساتھ نہایت ہی ناروا سلوک سے معلوم ہوجاتا ہےکہ آل سعود ایک ڈکٹیٹراور تشدد پسند حکومت ہے جو انسانیت، جمہوریت اور عالمی قوانین بھر پور خلاف ورزی کررہی ہے۔ ایسے عالم میں آل سعود کا یہ سوچنا کہ کچھ نمائشی اقدامات سے عوام کی تحریک اور غصے کو ٹھنڈا کیا جاسکتا ہے ایک اسٹراٹیجک غلطی ہے کیونکہ عوام جب اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو اپنے فیصلوں پر عمل کر کے ہی دم لیتے ہیں.

.....

/169