6 مارچ 2013 - 20:30

ہندوستان کے زیرانتظام جموں وکشمیر میں فوجی اہلکاروں کی فائرنگ میں کشمیری نوجوان کے مارے جانے اور افضل گورو کی پھانسی کے خلاف پورے وادی کشمیر میں جاری احتجاج میں مزید شدت آئی ہے۔

ابنا: ریڈیو تہران کی رپورٹ کے مطابق بارہمولہ میں ہندوستانی فوجیوں کی فائرنگ میں ایک نوجوان کی ہلاکت اور متحدہ مجلس مشاورت کی جانب سے افضل گورو کی پھانسی کیخلاف جاگیر سوپوراور ترہگام کپوارہ چلو کال کے پیش نظر سرینگر سمیت وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں کل  سخت کرفیو نافذ کردیا گیا تاہم سخت پابندیوں کے باوجود وادی کے شمال و جنوب میں پر تشدد احتجاجی مظاہروں اورجھڑپوں کے واقعات رونما ہوئے جن میں متعدد پولیس افسران اور فورسز اہلکاروں سمیت 50 سے زائد افراد زخمی ہوگئے ۔رپورٹ کے مطابق بدھ کو گاندربل ،بانڈی پورہ ،بڈگام،پلوامہ اور اننت ناگ میں دن بھر پتھرائو ،لاٹھی چارج اور ٹئیر گیس شیلنگ کے علاوہ فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں دن بھر حالات کشیدہ رہے ، کئی مقامات پر سی آر پی ایف اہلکاروں کی جانب سے مکانوں میں زبردستی داخل ہونے اور توڑ پھوڑ کے علاوہ مکینوں کی مارپیٹ اور نوجوانوں کی گرفتاریوں کیخلاف بدھ کو بھی شبانہ مظاہرے کئے گئے۔