5 مارچ 2013 - 20:30

يمن کے سرحدي علاقوں ميں تيل کے عظيم ذخائر کي دريافت کے بعد سعودي عرب نے اس ملک کے ايک بڑ حصے پر قبضہ کرليا ہے-

ابنا: يمن کے  ايوان صدر کے قريبي ذرائع نے سرحدي علاقوں ميں تيل کے عظيم ذخائر کي دريافت کي جانب اشارہ  کرتے ہوئے بتايا ہے کہ سعودي عرب کي سرحدي  فورس نے صوبہ الجوف ميں تين کلوميٹر تک پيش قدمي  کي ہے اور مورچے سنبھال لئے ہيں- اس سے  پہلے جنوري کے مہينے ميں بھي سعودي فوجيوں نے يمن کي سرحدوں کے قريب آٹھ نئي چيک پوسٹيں قائم کي تھيں-يمن اور سعودي عرب ميں برسوں کے سرحدي اختلافات  کے بعد يمني حکام نے ايک بار پھر سعودي عرب پر اپني سرزمين کے بڑے حصے پر قبصہ کرنے کا الزام لگايا ہے-کہا يہ جارہا ہے کہ يمن کے سابق ڈکٹيٹر علي عبداللہ صالح نے سعودي حکمرانوں سے بھاري رشوت ليکر صوبہ نجران پر سعودي عرب کے قبضے کو عملي طور پر تسليم کرليا تھا- يمني عوام کي جانب سے اپني سرزمين کي واپسي کے ممکنہ مطالبے  کا معاملہ بھي سعودي عرب کي جانب سے يمن کے اندروني معاملات ميں مداخلت کي ايک اہم وجہ ہے- بہت سے سياسي ماہرين يمن ميں جاري سياسي کشيدگي کو غيرملکي مداخلت کا نتيجہ قرار دے رہے ہيں-سعودي عرب انيس سو نوے ميں شمالي اور جنوبي يمن کے اتحاد سے بھي خوش نہيں تھا-

.....

/169