تعجب ہےاز قلم: حجۃ الاسلام و السلمین مختار حسین جعفریان لوگوں پر جو خدا کی اس وسیع و عریض کائنات کو دیکھتے ہیں اس میں موجود حیات و زیست کی رنگینیوں ، رعنائیوں اور تبدیلیوں کو محسوس کرتے ہیں ،نظام کائنات کا ایک حصہ ہیں اور اس میں موجود فعل و انفعال کے شاہد ہیں ۔ زمین کی وسعتوں اور اس میں جاری سلسلہ ٔ تغیرات کے نظارہ گر ہیں۔ زلزلوں کے جھٹکوں سے لرزہ بر اندام ہوتے ہیں۔ بارش کی ٹھنڈی پھوار سے زندگی کی بھیک لے کرتازہ نفس ہوتے ہیں ۔ سورج کی گرمی، دھوپ اور تمازت سے اپنے وجود اور کائنات پر مرتب ہونے والے اثرات سے متاثر ہوتے ہیں۔چاند کی خنکی کو محسوس کرتے ہیں اور اس میں رونما ہونے والی کمی و بیشی کو آنکھوں سے دیکھتے ہیں کشتیوں میں بیٹھ کر سمندر کی موجوں کی اٹھکھیلیوں کے چشم دید گواہ ہیں۔ ہوا کے دوش پر سوار ہو کر برق رفتاری سے دنیا میں قدرت کی کرشمہ سازیوں کے دیدہ زیب مناظر سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتے ہیں ۔خالق اکبر کی انگنت گونا گوں نعمتوں سے بہرہ مند ہوتے ہیں ہر آن اور ہر لمحہ اس غنی مطلق کی نعمتوں کے حصار میں رہتے ہیں۔ سانس لیتے ہیں تو اس کی عطا سے، رگوں میں خون دوڑتا ہے تو اس کی بخشش سے ،دل دھڑکتا رہتا ہے تو اس کی مہربانی سے، بے انتہا نادیدہ خطروں سے محفوظ رہتے ہیں تو اس کے لطف وکرم سے۔ کیا بتائیں ! اس کی عطائوں کو بیان کرنے کے لئے الفاظ نہیں ہیں اس کے الطاف و عنایات کا تذکرہ کرنے کی طاقت نہیں ہے۔۔۔۔مگر۔۔۔ تعجب ہے کہ انسان پھر بھی اس کے وجود کا قائل نہیں ہوتا اور اس مالک ہستی کو دل وجان سے قبول نہیں کرتا ۔ اس کے وجود مطلق کی کرشمہ سازیوں اور رعنائیوں کو درک نہیں کرتا۔کوئی نام کا مسلمان پلٹ کر یہ کہہ سکتا ہے کہ صاحب! ہم تو خدا کو مانتے ہیں ، صبح و شام ، اٹھتے بیٹھتے ،سوتے جاگتے ہمارا ورد یہی ہوتاہے کہ اللہ مالک ہے۔ پھر آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے اللہ کو تسلیم نہیں کیا ؟!میرا جواب یہ ہو گا کہ ہم اللہ کو مانتے نہیں بلکہ جانتے ہیں ماننے اور جاننے میں بڑا فرق ہے۔ ضروری نہیں کہ ایک انسان دوسرے انسان کو جانتا ہو تو اس کی بات بھی مانتا ہو۔ اسی چیز کو قرآن کریم نے یوں بیان کیا ہے 'یعرفون نعمة اللہ ثم ینکرونھا'۔ یہ لوگ اللہ کی نعمتوں کو جانتے ہیں پھر بھی ان کا انکار کرتے ہیں۔ہم خدا کو جانتے ہیں مگر مانتے نہیں ہیں۔ اگر ہم خدا کو مانتے ہوتے تو ہمارا عمل توحید پرستوں جیسا ہوتا مشرکوں جیسا نہ ہوتا۔'شرک آمیز اعمال'ایسے اعمال کی فہرست تیار کی جائے تو دفتر کے دفتر سیاہ ہو سکتے ہیں اس لئے کہ عام طور پر کسی بھی عمل میں اگر ریاکاری اور دکھاوے کا عنصر شامل ہو جائے تو وہ عمل شرک آمیز ہو جاتا ہے۔ تا ہم ہمارے کچھ اعمال ایسے ہیں جن میں شرک کی آمیزش اور ملاوٹ نہیں بلکہ وہ سراسر مشرکانہ ہیں۔ نمونہ کے طور پر ملاحظہ فرمائیں:الف: مسئلہ حجاب دین کا جزو ہے اور ضروریات دین میں سے ہے اگر خواتین بغیر کسی محرک کے حجاب کی پابندی نہیں کرتی ہیں اور برہنہ گھومتی ہیں ، اگر اس کا محرک ان کی نادانی ہو یا مسئلے سے عدم واقفیت ہو یا وہ پردے کی اہمیت کو نہ سمجھتی ہوں تو یہ ایک مہلک بیماری ہے مگر علم اور دانائی پیدا کرنے سے اس کا علاج ہو سکتا ہے۔ یعنی اگر پردے کی اہمیت معلوم ہو جائے تو بے پردہ خاتون پردہ دار بن سکتی ہے۔لیکن اگر بے پردگی کا محرّک جذبۂ بغاوت ہو، یا یہ نظریہ ہو کہ اسلام میں پردے کو اختیاری امر قرار دیا گیا ہے یا یہ ماننا ہو کہ اگر ہم پردہ کریں گی تو ہم دنیاوی ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گی یا یہ سوچ ہو کہ مرد اور عورت مساوی ہیں جو لباس مرد پہن سکتا ہے وہی عورت بھی پہن سکتی ہے۔ عورت مرد کے شانہ بہ شانہ چل سکتی ہے وغیرہ وغیرہ ۔ تو یاد رکھیۓ کہ ایسی بے پردگی مشرکانہ عمل ہے۔چو ںکہ اس میں خدا پر بھروسے کا فقدان ہے۔غیر مذہب والوں کی تقلید اور پیروی ہے۔اسلام سے بغاوت کا جذبہ ہے۔ اور یہ ساری چیزیں سراسر شرک ہیں۔ اب ایک مسلمان کاعمل اگر ایسا ہو تو تعجب کی بات نہیں ہے؟!ب :مسلمان داڑھی منڈواتے ہیں اور ڈنکے کی چوٹ پر منڈواتے ہیں اور داڑھی منڈے لوگ نہ صرف یہ کہ شرمندہ نہیں ہوتے اور اپنے اندر مردانگی کی کمی کا احساس نہیں کرتے بلکہ وہ اپنے آپ کو مقدس چقدس کہلانے میں بھی پیش پیش نظر آتے ہیں۔ بے دھڑک منبر پر چڑھ جاتے ہیں نماز میں بھی کھڑے ہو جاتے ہیں۔اگر کہو تو جماعت بھی کروا دیں گے تعجب کی بات تو یہ ہے کہ جیب سے رومال نکال کر نماز اور قرآن کی تلاوت کے وقت سر تو ڈھک لیں گے داڑھی منڈے سپاٹ چہرے کو کہاں چھپائیں گے؟ اب یہ مشرکانہ عمل نہیں تو اور کیا ہے؟ قرآن کریم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیروی کا حکم دیا ہے۔ مگر اس سلسلے میں اگر تم قرآن کی بات نہیں مانتے تو پھر کس کی بات مانتے ہو؟ قرآن کو چھوڑ کر ہم جس کی بات بھی مانتے ہوں وہ شرک ہی شرک ہے۔ج: مجالس عزا برپا کی جاتی ہیں اور جلوس عزاداری نکالے جاتے ہیں مگر ان میں دین کی تشہیر اور نشر و اشاعت کم دیکھنے کو ملتی ہے جبکہ انجمن کے کار کن اپنی تشہیر و تبلیغ کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔دین کا پاس و لحاظ رکھنے کو اگر کہا جاتا ہے تو چراغ پا ہو جاتے ہیں۔ اور باعمل علماء کے خلاف بھی زبان اعتراض کھولنے سے نہیں چونکتے۔ علماء کو نصیحت کرتے ہیں جبکہ اپنے چہرے کی طرف نہیں دیکھتے کہ ہم کس منہ سے بول رہے ہیں۔ انصاف سے بتائیے کہ ہمارا وہ عمل جس سے شیعیت کی مخالفت ہوتی ہو جس سے ولی فقیہ کے فتوے کا پالن نہ کیا جاتا ہو ،کس کے لئے ہے؟ کیا ایسے عمل کو موحدانہ عمل کہا جا سکتا ہے؟ کیا ایسا عمل خدا و رسول کی اطاعت کا مصداق کہلائے گا؟جبکہ سورہ ٔ نساء میں خداوند قدوس کا ارشاد ہے۔ ' اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو، اور اپنے صاحبان امر کی اطاعت کرو پس اگر تم میں کسی چیز میں تنازعہ ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کے سامنے پیش کرو۔ اگر تم اللہ اورآخرت پر ایمان رکھتے ہو، یہی چیز بہتر ہے اور سب سے اچھی تاویل ہے'۔جو کام رسولۖ اور صاحبان امر نے نہیں کیا اگر وہ کام ہم کریں تو کیا مشرکانہ عمل نہیں ہوگا؟ مسلمانوں کو دھیان رکھنے کی ضرورت ہے کہ خدانخواستہ ان کے کسی عمل میں شرک کا شائبہ ہو تو یہ بہت بری بات ہے۔د: سماج میں کچھ ایسے ٹوٹکے ہوتے ہیں جن کی کوئی معقول توجیہ نہیں ہو سکتی۔ اگر ان پر عمل نہ کیا جائے تو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ لیکن ان پر عمل کرنے سے ایک طرف تو کوئی معقول فائدہ نہیں ہوتا جبکہ دوسری طرف اچھا بھلا انسان شرک کے دائرہ میں گھر جاتا ہے۔ ایسے ٹوٹکے زندگی کے ہر کام میں ہوتے ہیں اور خاص طور سے عورتیں ان پر عمل کرنے میں پیش پیش نظر آتی ہیں۔ مثلا صبح آدمی کسی کام سے گھر سے نکلے اور سامنے سے عورت آ جائے تو اسے منحوس سمجھا جاتا ہے۔ ۔۔۔ شادی والے گھر میں برات والوں کو نیچے کی طرف سے گھر کے اندر لے جایا جاتا ہے ۔شادی کا سامان خریدنے کے لئے دونوں گھروں کے افراد بازار میں جاتے ہیں تو ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے اور نہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوتے ہیں ۔ اسی نوعیت کے نہ جانے کتنے ٹوٹکے ہیں جن پر عمل کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اس دوران شریعت اور دین اسلام کو ایک طرف کر دیا جاتا ہے۔ چونکہ شریعت رنگ میں بھنگ ڈالتی ہے۔ اب آپ خود ہی فیصلہ کریں کہ کون موحد ہے اور کون مشرک ہے؟ خداوند عالم سے دعا ہے کہ وہ ہمیں توحید کے تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔'وما علینا الا البلاغ المبین'۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/242
2 مارچ 2013 - 20:30
News ID: 396566
حجۃ الاسلام و المسلمین سید مختار حسین جعفری جو مدرسہ علمیہ امام محمد باقر علیہ السلام پونچھ جموں و کشمیر ہندوستان کے پرنسپل، مجلہ نوائے علم کے سرپرست اور کشمیر میں اہلبیت(ع) عالمی اسمبلی کے عضو ہیں ان کے قلم سے یہ مقالہ قارئین کی خدمت میں پیش ہے جو انہوں نے موجودہ مسلمانوں پر تعجب کی نگاہ سے مرقوم کیا ہے۔