ابنا: بین الاقوامی مسائل کے ماہر حسن زادہ ہانی نے کہا ہے کہ یہ لشکر چند سالوں سے دہشت گردی کے اقدامات میں ملوث ہے اور یہ گروپ سعودی عرب کے سلفی اور وہابی بانفوذ افراد کی وجہ سے سر زمین پاکستان میں تشکیل پایا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس گروہ کو وجود میں لانے کے اہداف میں شیعوں کا قتل عام کیا ہے۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ان کی سرگرمیاں عروج پر ہیں اور کوئٹہ اور لاھور کے شیعوں کا قتل عام اس وجہ سے ہے کہ ان شہروں سے شیعوں کو نکالا جائے اور لاھور کو اپنی سرگرمیوں کا اڈا بنانا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ سعودی عرب میں ٹریننگ لینے کے بعد پاکستان کی سرزمین پر شیعوں کیلئے ناامنی کا باعث بنتے ہیں۔ اس گروہ کے سرغنہ ملک اسحاق 36 شیعہ افراد کے قتل کا اعتراف کیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ گورنمنٹ پاکستان شیعہ لوگوں کو تحفظ دینے سے قاصر ہے۔ہانی زادہ نے مزید بتایا کہ جمہوری اسلامی ایران میں انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد سعودی عرب نے مختلف گروہوں کو پال رکھا ہے جو کہ پاکستان کی فوج میں بھی گھسے ہیں اور ان کی مالی سپورٹ کا ذمہ سعودی عرب اور قطر نے لے رکھا ہے۔ ایک غیر ملکی نیوز پیپر کی رپورٹ کے مطابق آخری چند سالوں میں سعودی عرب اور قطر نے لشکر جھنگوی اور ان جیسے گروہوں کی تین سے پانچ بلین ڈالر کی مدد کی ہے۔ تاکہ پاکستان میں شیعوں کا قتل عام اور ان کے امنیت کو ختم کیا جا سکے۔
.....
/169